وہ جماعتیں جنہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت قومی اسمبلی سے واک آوٹ کیا

وہ جماعتیں جنہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت قومی اسمبلی سے واک آوٹ کیا
وہ جماعتیں جنہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے وقت قومی اسمبلی سے واک آوٹ کیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل ایوان میں منظور ہوچکا ہے۔کسی بھی جماعت یا رکن اسمبلی نے بل کی مخالفت نہیں تاہم آرمی ایکٹ بل کی منظوری کے وقت جماعت اسلامی ، جمعیت علما ئے اسلام اور فاٹا والے ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔قومی اسمبلی سے واک آوٹ کرنے والوں میں زاہد اکرم درانی ، شاہدہ اختر علی ،عالیہ کامران،مولانا جمال الدین، مولاناصلاح الدین ،مولانا انور،مولانا عبدالواسع، مفتی عبدالشکور،مولاناکمال الدین،مولانا اسعد محمود،آغامحمود شاہ اور قاضی عصمت اللہ شامل ہیں۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق اجلاس کی باضابطہ کارروائی سے قبل وزیردفاع پرویز خٹک نے پاکستان پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ وہ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق تجاویز واپس لے لیں۔جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اتحاد برقرارکھنے اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تجاویز واپس لیتے ہیں۔ 

اجلاس سے قبل مسلم لیگ ن کے وفد نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی تھی۔ن لیگی وفد میں سردار ایاز صادق، رانا ثنا اللہ، رانا تنویر اور مرتضیٰ جاوید عباسی شامل تھے۔انہوں نے مولانا کو سروسز چیفس توسیع ترمیمی بل منانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ مخالفت میں ووٹ دینے پر ڈٹے رہے۔مولانا فضل الرحمان نے لیگی وفد سے تنہا فیصلہ کرنے کا بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر بل کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی آج آرمی ایکٹ 1952میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...