نجف میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ لیکن امامت کس پاکستانی نے کی؟تفصیلات سامنے آگئیں

نجف میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ لیکن امامت کس پاکستانی نے ...
نجف میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ لیکن امامت کس پاکستانی نے کی؟تفصیلات سامنے آگئیں

  



نجف(ڈیلی پاکستان آن لائن)عراق کے شہر بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں جا ں بحق ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی عراق اور ایران کے مختلف شہروں میں نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔ ان کی میت جب عراقی شہر نجف لے جائے گی تو وہاں ان کی نماز جنازہ کی امامت ایک پاکستانی عالمی دین نے کی۔

بی بی سی اردو کے مطابق نجف میں جنرل سلیمانی کی نمازجنازہ 78 سالہ پاکستانی آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی نے پڑھائی جن کا شمار عراق کی اہم ترین مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے۔وہ نجف میں اثنا عشری شیعوں کے اہم مراجع میں سے ایک ہیں۔

آیت اللہ حافظ بشیر حسین النجفی قیام پاکستان کے وقت اپنے والد کے ہمراہ جالندھر سے لاہور کے قریب واقع باٹا پور منتقل ہو گئے تھے۔جہاں انہوں نے اپنے دادا محمد ابراہیم اور چچا خادم حسین سے عربی گرائمر اور فقہ کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔وہ لاہور ہی میں جامعہ منتظر میں آیت اللہ اختر عباس قدس کی سرپرستی میں زیر تعلیم رہے اور بعدازاں خود بھی درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔

حافظ بشیر نجفی 1960کی دہائی میں عراق منتقل ہوئے جہاں انہوں نے آیت اللہ محمد کاظم تبریزی، آیت اللہ سید محمد روحانی، آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی جیسے نامور علما کے پاس اصول اور فقہ کا درس حاصل کیا۔

بشیر نجفی کی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے سنہ 1966 میں نجف میں حوزعلمیہ میں تدریس کا باقاعدہ آغاز کیا اور مختلف ادبی، منطقی، فلسفی، اصولی اور فقہی علوم کی تعلیم دیتے رہے۔بشیر نجفی نے اپنی پوری زندگی اسی درسگاہ کیلئے وقف کررکھی ہے اس لئے وہ جب سے وہاں گئے ہیں پاکستان لوٹ کر نہیں آئے۔ان کے ترجمان علامہ سبطین سبزواری کے مطابق ان کے والد، چچا اور بڑے بھائی اور بہنیں فوت ہو گئے اس کے باوجود بھی وہ پاکستان نہیں آئے۔

بی بی سی کے مطابق آیت اللہ بشیر نجفی کے ایک بھائی، بڑا بیٹا اور خاندان کے دیگر اراکین آج بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا