”میں کہاں ہوں اور کدھر لے کر جارہے ہو ؟“وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کی بھول بھلیاں میں راستہ بھول گئے ، سوال پر سیکیورٹی سٹاف نے کیا جواب دیا ؟ جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

”میں کہاں ہوں اور کدھر لے کر جارہے ہو ؟“وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کی بھول ...
”میں کہاں ہوں اور کدھر لے کر جارہے ہو ؟“وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کی بھول بھلیاں میں راستہ بھول گئے ، سوال پر سیکیورٹی سٹاف نے کیا جواب دیا ؟ جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ سمیت تینوں ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کر لیے گئے ہیں جوکہ اب اگلے مرحلے میں سینٹ میں جائیں گے جبکہ ا س موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی جہاں نہایت ہی دلچسپ واقع پیش آیا اور وہ اپنے چیمبر کا راستہ بھو ل گئے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاﺅس کی بھول بھلیاں میں راستہ بھول گئے ، عمران خان پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کے بعد چیمبر کیلئے روانہ ہوئے تو وہ راست میں وزیر داخلہ اعجازشاہ کی سرگوشیاں سنتے ہوئے گیٹ پر پہنچے ، سامنے دیوار اور اپنے دائیں بائیں دروازے دیکھ کر وزیراعظم رک گئے ۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی افسر سے تجسس کا شکار ہو کر سوال کیا کہ میں کہاں اور مجھے تم کہاں لے کر جارہے ہو جس پر سیکیورٹی سٹاف نے جواب دیا کہ سر بائیں جانب چیمبر بھی ہے اور اسمبلی کا دروازہ بھی ۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرمی ایکٹ 2020کثرت رائے سے منظورکرلیاگیا۔اسپیکر اسد قیصر نے بل کی شق وار منظوری لی۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بل کی غیر مشروط حمایت کی ہے۔آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق اجلاس کی باضابطہ کارروائی سے قبل وزیردفاع پرویز خٹک نےپاکستان پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ وہ ایکٹ میں ترمیم سے متعلق تجاویز واپس لے لیں۔جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اتحاد برقرارکھنے اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تجاویز واپس لیتے ہیں۔ آرمی ایکٹ بل کی منظوری کے وقت جماعت اسلامی ، جمعیت علما ئے اسلام اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے واک آوٹ کیا۔ تاہم کسی رکن اسمبلی نے بل کی مخالفت نہیں کی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈا اجلاس سےقبل جاری کردیا گیاتھا۔ایجنڈے کے مطابق قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020کی منظوری دے گی۔قومی اسمبلی میں سروسز چیفس سے متعلق قانون سازی کی الگ الگ منظوری دی گئی۔ایجنڈے میں آرمی ایکٹ1952،پاکستان ائیرفورس ایکٹ اورنیول آرڈیننس میں ترمیم کے بل شامل تھے جن کی منظوری دی گئی۔

مزید : قومی