قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد جرمنی اور سلوواکیا نے اپنے کتنے فوجی عراق سے نکال لیے ؟ غیر ملکی خبررساں ادارے نے بڑی خبر دیدی

قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد جرمنی اور سلوواکیا نے اپنے کتنے فوجی عراق سے نکال ...
قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد جرمنی اور سلوواکیا نے اپنے کتنے فوجی عراق سے نکال لیے ؟ غیر ملکی خبررساں ادارے نے بڑی خبر دیدی

  



برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکہ کی جانب سے ایرانی جنرل کے قتل کے بعد جرمن حکومت نے اپنے چند ملٹری افسران کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عراق سے باہر ہمسایہ ممالک میں بھیج دیا ہے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اسی حوالے سے سلوواکیا نے بھی موجودہ حالات میں کشیدگی میں اضافہ ہونے پر اپنے سات فوجیوں کو عبوری طور پرعراق سے دوسری جگہ منتقل کر دیا ہے جو کہ نیٹو ٹریننگ مشن کا حصہ تھے ۔جرمی نے اپنے 120 میں سے 30 فوجیوں کو عراق سے اردن اور کویت منتقل کر دیاہے جو کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کو ٹریننگ فراہم کر رہے تھے ۔جرمنی کی حکومت نے اس اقدام سے اپنی پارلیمنٹ کو خط کے ذریعے آگاہ کیاہے ۔

اتوار کے روز عراق کی پارلیمنٹ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد غیر ملکی فوجوں کو ملک چھوڑنے کا کہا تھا ، جرمنی کی حکومت کا کہناہے کہ جرمنی فوجیوں کی واپسی کے احکامات کالعد م داعش کے خلاف لڑنے والی امریکی قیادت میں مشترکہ کمانڈ کی جانب سے دیئے گئے ہیں ، یہ احکامات بغداد اور تاجی میں موجود اہلکاروں پر لاگو ہوتے ہیں ،تاجی عراق کے دارلحکومت کے قریب ہی واقع ہے جہاں پر 30 جرمن فوجی تعینات تھے ۔

120 میں باقی 90 جرمنی فوجی اس وقت عراق کے شمال میں واقع کردش علاقے میں تعینات ہیں ، جرمن حکومت کا کہناتھا کہ اگر ٹریننگ مشن دوبارہ بحال ہو جاتاہے تو ان افواج عراق واپس آ جائیں گی ۔

مزید : بین الاقوامی