آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت پر لیگی ارکان برہم، کون سی شرائط رکھنے کا مشورہ دیا؟ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی تہلکہ خیز اندرونی کہانی

آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت پر لیگی ارکان برہم، کون سی شرائط رکھنے کا مشورہ ...
آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت پر لیگی ارکان برہم، کون سی شرائط رکھنے کا مشورہ دیا؟ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی تہلکہ خیز اندرونی کہانی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں حکومت کی غیر مشروط حمایت کے معاملے پر لیگی اراکین سخت برہم نظر آئے اور خواجہ آصف پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

نجی ٹی وی سماءنے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی تہلکہ خیز اندرونی کہانی بیان کی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کے دوران قیصر شیخ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت غیر مشروط کی بجائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کی واپسی سے ہی مشروط کردیتے، حکومت ریفرنس واپس لے تو الیکشن تک قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے۔ انہوں نے خواجہ آصف سے سوال کیا کہ صرف اتنا ہی بتادیں کہ یکدم غیر مشروط حمایت کی وجہ کیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ساتھیوں کو میری بات پر اعتبار نہیں ہے، آپ ایسا کریں کہ خود ہی میاں صاحب سے رابطہ کرکے پوچھ لیں۔‘

خواجہ آصف نے کہا کنفیوژن دور کرنے کیلئے بتا رہا ہوں کہ میاں صاحب کے حکم پر آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کر رہے ہیں۔نورالحسن تنویر نے کہا کہ 2 سال ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا اب عوام کو کیا جواب دیں ؟کس میاں صاحب کی بات کر رہے ہیں، نواز شریف یا شہباز شریف ؟ اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی مراد نواز شریف ہے۔

میاں جاوید لطیف نے کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں بھی کارکن اسی طرح مایوس ہوا، کم از کم اپوزیشن سے کوئی مشاورت کرلیتے ، کوئی فائدہ ہی لے لیتے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جو ہوا نواز شریف کی ہدایت پر ہوا، فضل الرحمان کے دھرنے کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ بھی نواز شریف کا تھا۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...