چلتی بس میں لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چاروں مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری

چلتی بس میں لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چاروں مجرموں کے ڈیتھ ...
چلتی بس میں لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چاروں مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری

  



نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) دسمبر 2012 میں چلتی بس میں ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں، انہیں جیل نمبر 3 میں 22 دسمبر کو پھانسی دی جائے گی۔اکشے ٹھاکر ، ونے شرما، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو تیز ترین ٹرائل کے بعد 2013 میںسزائے موت سنائی گئی تھی۔

سزائے موت پانے والے چاروں مجرموں سمیت 6 مجرموں نے 16دسمبر 2012 کو انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، متاثرہ طالبہ 13 روز تک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گئی تھی۔ مذکورہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کو ’نربھیا کیس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، انڈیا کے قانون کے تحت متاثرہ لڑکی کا نام نہیں لیا جاسکتا اس لیے اس لڑکی کو میڈیا نے نربھیا یعنی بے خوف اور بہادر کا نام دیا تھا۔

واقعہ سامنے آنے کے بعد پورے بھارت میں کئی روز تک بھرپور احتجاج ہوا تھا جس کے بعد حکومت ریپ کے جرم کیلئے سزا ئے موت مقرر کرنے کا قانون منظور کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔

دلی ہائیکورٹ نے چاروں مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 14 روز کے اندر اس کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔ مجرموں کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ دوسری جانب دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے 7 سال بعد کیس کا فیصلہ آنے پر کہا ہے کہ ایک ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ایسے کیسز کو صرف 6 مہینے میں انجام تک پہنچایا جاسکے۔

نربھیا کیس میں 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم رام سنگھ نامی ملزم نے مارچ 2013 میں جیل میں ہی خود کشی کرلی تھی۔ ریپ کے الزام میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی گرفتار ہوا تھا جسے 3 برس قید کی سزا سنائی گئی اور وہ 2015 میں رہا ہوگیا تھا، انڈین قانون کے مطابق نابالغ مجرموں کو ریپ کیس میں اس سے زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی۔

مزید : بین الاقوامی /جرم و انصاف