روف طاہر بھی چل بسے 

روف طاہر بھی چل بسے 
روف طاہر بھی چل بسے 

  

رؤف طاہر سے اسی صفحے پر ابتدائی تعارف ہوا اور پھر ایک روز دفتر میں ملاقات بھی ہو گئی بہت محبت سے ملے اور میری موسیقی اور گیت نگاری کے حوالے سے بھی آگاہ نکلے۔منو بھائی کی طرح تو نہیں،مگر بولتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی اور لب و لہجہ ان جیسا ہی تھا اٹک اٹک اور جھٹک جھٹک کے بولتے ہوئے بہت اچھے لگتے تھے نواز شریف کو جمہوریت کا سلطان اور عمران خان کو کرکٹ کے کپتان سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے تھے سو قلمی محاذ پر نواز شریف کے دفاع کے لئے قلم کو تلوار بنائے رکھتے تھے نواز شریف کے سیاسی مخالفین کو قتل تو نہیں کرتے تھے مگر زندہ بھی نہیں چھوڑتے تھے تاریخی حقائق اور شواہد کے ساتھ آگے بڑھتے تھے مخالف ان کے دلائل سے مکمل اتفاق نہ کرتا تو ناک پر انگلی رکھ کر سوچتا ضرور تھا کہ رؤف نے بات تو پتے کی کی ہے۔ جدہ میں وہ ایک جریدے کے ایڈیٹر تھے اور نواز شریف کی جدہ جلا وطنی کے دوران ان کے بہت قریب رہے ان قربتوں کی وجہ سے انہوں نے حقیقی نواز شریف کو بہت قریب سے دیکھا یہ وہ دن تھے جب نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا کوئی اکا دکا شخص انہیں پاکستان کے حالات سے آگاہ تو یقینا کرتا ہوگا، مگر ردعمل کے طور پر پر پاکستانی میڈیا تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی سو یقینا اپنے دل کی سیاسی اور غیر سیاسی باتیں رؤف طاہر کے ساتھ بھی ہوتی ہوں گی راز ونیاز کی اس گفتگو پر رؤف طاہر ایک بڑی مقبول کتاب لکھ سکتے تھے مگر انہوں نے نواز شریف کے ساتھ ان دنوں کی گفتگو کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کیا نواز شریف وطن واپس آئے تو ان سے پہلے یا بعد میں رؤف طاہر بھی پاکستان واپس آچکے تھے نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ ذاتی تعلق کے باوجود وہ پاکستان میں ایک قلم کے مزدور کے طور پر رزق کماتے رہے اور حکمران سے تعلق براے تعلق تک محدود رکھا۔

ہم ایک دوسرے کے خیالات سے بھی واقف تھے اور پھر ایک دوسرے کے دوست بن گئے انہیں میرے کالم کے عنوان …… عاجزیاں، پر شدید اعتراض تھا جو بالآخر مجھے تبدیل کرنا پڑا اور اسے خواب و خواہش کر دیا، جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور شکریہ بھی ادا کیا، ان ہی دنوں وہ کچھ عرصے کے لئے ریلوے کے میڈیا کے ہیڈ بھی بن گئے میرا خیال تھا یہ کوئی بہت ……دھانسو……قسم کا عہدہ ہو گا بہت…… ٹور شور…… ہو گی،مگر جب میں انہیں ملنے گیا تو اس وقت حیران ہوگیا جب انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پیش کی میں نے کہا رؤف صاحب یہ کیسی افسری ہے کہ چائے بھی خود بنا رہے ہیں۔وہ مسکرائے اور کہا یہ افسری نہیں مزدوری ہے سعد رفیق ریلوے میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں ان کی خواہش تھی کہ ریلوے میں جو کام کیا جا رہا ہے اسے عوام کے سامنے بھی لایا جائے اور یہ کام آپ کو کرنا ہوگا۔

کچھ عرصے بعد پاکستان ٹیلی ویژن پر گل نوخیز اختر اور انہوں نے مل کر ایک خوبصورت پروگرام بھی پیش کیا گل نوخیز اختر بڑے مزاح نگار ہیں رؤف طاہر ایک سنجیدہ آدمی تھے اس پروگرام میں دونوں کے درمیان نوک جھونک نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور بطور اینکر بھی وہ بہت کامیاب نظر آئے مگر ان کا اصلی میدان کالم نگاری تھا ان دنوں وہ ایک اخبار میں باقاعدہ کالم لکھ رہے تھے اور ساتھ ایک کالج میں لیکچر بھی دیتے تھے بیگم کی وفات کے بعد کچھ تنہا تنہا بھی محسوس ہوتے تھے مگر سیاسی سماجی محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے بعض تنظیموں کا عہدیدار ہونے کی وجہ سے سے بھی اپنی ذمے داریاں نبھانے میں سب سے آگے تھے ابھی چند روز پہلے انہیں فون کیا تو ان کا میسج آیا افضل بھائی تھوڑی دیر بعد بات کرتے ہیں،مگر بات تو نہ ہوسکی،البتہ فیس بک پر ان کی موت کا پیغام پڑھ کے معلوم ہوا کہ وہ اپنے حصے کی گفتگو مکمل کرنے کے بعد اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون

مزید :

رائے -کالم -