قوت مدافعت میں اضافے کے لیے دراصل کیا کھانا چاہیے؟ بی بی سی نے تازہ تحقیق میں ہمارے بہت سے خیالات غلط ثابت کردئیے

قوت مدافعت میں اضافے کے لیے دراصل کیا کھانا چاہیے؟ بی بی سی نے تازہ تحقیق میں ...
قوت مدافعت میں اضافے کے لیے دراصل کیا کھانا چاہیے؟ بی بی سی نے تازہ تحقیق میں ہمارے بہت سے خیالات غلط ثابت کردئیے
سورس:   Pxhere (creative commons license)

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءآنے کے بعد سے امیون سسٹم کی مضبوطی کا موضوع شدت سے زیربحث ہے کہ اس وباءسے وہی لوگ زیادہ محفوظ رہے جن کا امیون سسٹم مضبوط تھا۔ بی بی سی 1پر گزشتہ روز ایک پروگرام میں یہی موضوع زیربحث رہا اور ماہرین نے کچھ لوگوں پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج بھی اس پروگرام میں شیئر کیے جن میں مختلف سپلیمنٹس اور غذائی اشیاءکے ذریعے امیون سسٹم کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ میل آن لائن کے مطابق پروگرام میں ماہرین نے وٹامنز، فائبر، زنک اور ٹھنڈے پانی سے نہانے سمیت کئی ایسے طریقے بتائے جن سے ہم اپنے امیون سسٹم کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ 

پروگرام میں ڈاکٹر رونکس اکیریا کا کہنا تھا کہ امیون سسٹم کی مضبوطی کے لیے ہمیں غذائی اشیاءسے ہی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر زنک امیون سسٹم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے جو نئے مدافعتی خلیے پیدا کرنے میں جسم کو مدد دیتی ہے۔ زنک پنیر اور پیٹھے سمیت کئی اشیاءکے بیجوںمیں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح وٹامن بی مدافعتی خلیوں کو توانائی دیتا ہے۔ یہ گہرے سبز رنگ کی سبزیوں پالک وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دودھ، گوشت، پنیر اور سمندر سے حاصل ہونے والی خوراک میں بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔وٹامن ڈی بھی امیون سسٹم کے لیے انتہائی فائدہ مند چیز ہے۔

 ڈاکٹر اکیریا کا کہنا تھا کہ سردی میں ہمیں سورج کی روشنی مناسب مقدار میں نہیں ملتی چنانچہ اس موسم میں ہمیں روزانہ سپلیمنٹس کی صورت میں10ملی گرام وٹامن ڈی لینا چاہیے۔امیون سسٹم کی مضبوطی کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے۔ڈاکٹر کیریا کا کہنا تھا کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا بھی ہمارے مدافعتی نظام کی مضبوطی کا سبب بنتا ہے۔ اس مقصد ک لیے آپ نارمل طریقے سے شاور لیں اور آخر میں 30سیکنڈ کے لیے ٹھنڈے پانی کا استعمال کریں۔ پانی میں اس اچانک تبدیلی سے جسم کو ایک طرح کا جھٹکا لگتا ہے جس سے جسم میں کئی طرح کے ہارمونز اور کمپاﺅنڈز خارج ہوتے ہیں جو دیگر جسمانی افعال کے ساتھ مدافعتی نظام کے لیے بھی فائدہ مندہوتے ہیں۔ 

مزید :

تعلیم و صحت -