فوجی آمر، چیف جسٹس اور جسٹس غزالی

     فوجی آمر، چیف جسٹس اور جسٹس غزالی
     فوجی آمر، چیف جسٹس اور جسٹس غزالی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ایک حالیہ مقدمے میں چیف جسٹس نے جنرل ضیا کی آئینی ترامیم پر یوں رائے دی : "صرف ایک جنرل نے آئین میں یہ شق ڈال دی اور ہم سب پابند ہو گئے". روا روی میں چیف کے اداکردہ اس جملے کے پیچھے ٹھوس آئینی تاریخی مطالعہ بدیہی امر ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آئین بنیادی اصول بیان کر کے قانون سازی کا اختیار پارلیمان کو دے دیتا ہے اگر ہر آمر کی ہر بات غلط ہو تو ہر چیف جسٹس کی ہر بات درست قرار دینا ہو گی۔ یوں جسٹس منیر، ثاقب نثار، گلزار اور بندیال عدالتی پیشانی کا جھومر ہوں گے اور جنرل ضیا ہر حال میں راندہ درگاہ قرار پائے گا. جدید جمہوریت سے صدیوں قبل سیدنا علی المرتضی نے فرمایا تھا: "یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے, مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے". آمر مطلق ضیاء الحق یا قاضی فائز عیسیٰ؟

سید صلاح الدین مرحوم، الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی نے 80 کی دہائی میں وفاقی شرعی عدالت میں اسی آمر کی انہی مذکورہ آئینی شقوں کے سہارے پیٹیشن دائر کی کہ عوامی نمائندوں کے لیے آئینی شرائط پر عمل کا قانون یا ادارہ موجود نہیں ہے۔ عدالت نے پٹیشن منظور کرکے وفاقی حکومت کو قانون سازی کا حکم دیا۔ حکومت نے شریعت اپیلٹ بینچ میں اپیل کر دی.1989-90 کی یہ سات اپیلیں 35 سال سے ہمارے عدالتی نظام کا منہ چڑھا رہی ہیں اگر یہ اپیلیں سپریم کورٹ بروقت سن لیتی تو آج ہمارا تمام سیاسی نظام نکھرا ہوا اور دنیا کے لیے مثال ہوتا، چیف جسٹس اس آمر کے گن گا رہے ہوتے، کیا ہرآمر کی ہر بات غلط ہوتی ہے اور کیا ہر آئینی عہدے کی ہر بات لائق توجہ ہوتی ہے، کیا ہم جسٹس منیر، جسٹس ارشاد، افتخار محمد چوہدری، ثاقب نثار، گلزار اور بندیال کے محض آئینی ہونے پر ان کے احترام کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

1997-99 والے عہد میں غالباً مالدیپ کے دورے پر وزیراعظم نواز شریف، ڈاکٹر محمود غازی کو ساتھ لے گئے، واپسی پر ڈاکٹر صاحب نے خود اپنا تیار کردہ اسپیڈی ٹرائل کورٹ ایکٹ کا مسودہ مجھے دیا کہ ذرا اس پر رائے دیں ادھر یکایک چیف جسٹس نے حرمت سود والے فیصلے پر اپیل کی سماعت شروع کرادی۔ ڈاکٹر صاحب بینچ کا حصہ بن کر جسٹس قرار پائے۔حرمت سود کے فیصلے کا ایک ایک حرف جسٹس غازی کا لکھا ہوا ہے۔ میں اور ان کا پی ایس اس کے زندہ گواہ ہیں، وہ ہر صبح شریعہ اکیڈمی آ کر گزشتہ دن کی ڈکٹیشن دیتے۔ پچھلی ڈکٹیشن پر نظر ثانی کرتے۔ 10- 15 منٹ ہم سے گفتگو کرکے اگلی سماعت کو چلے جاتے.

 18 سال کے ہمارے مسلسل اور بلا انقطاع تعلقات نے میرے اندر ان سے ایک نیاز مندانہ بے تکلفی پیدا کر دی تھی۔ ایک دن میں نے منہ پر ہاتھ پھیر کر انہیں چیلنج کیا: "جناب! اپنی ڈکٹیشن کے الٹی طرف کہیں لکھ لیجئے. آپ کے حرمت سود کا فیصلہ سناتے ہی مارشل لا لگ جائے گا". مسکرائے، پر بولے کچھ نہیں اور مارشل لا فیصلے سے قبل لگ گیا۔ 2009 میں میں نے انہیں قطر فون کر کے یاد دلایا: "جناب ! اسپیڈی ٹرائل کورٹ ایکٹ، شریعت اپیلٹ بینچ کی حیات نو، سانحہ کارگل اور اس سے بھی قبل امریکی جنرل زینی کے ہمارے شمالی علاقوں کے مسلسل دوروں کو میں بخوبی دیکھ رہا تھا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ مقامی کارندوں کے ذریعے ہماری سیاسی بساط کسی وقت بھی الٹ سکتی تھی۔ گرافک آرڈر یہی بتا رہا تھا". انہوں نے میری تائید کی اور ٹھنڈی سائنس لے کر خاموش ہو گئے۔

ہمارے آئین میں جمہوری اعتبار سے کمی ہے، نہ عوامی ضروریات پوری کرنے کو اس میں کوئی نقص ہے، نہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوئی خامی باقی ہے۔ خوش آئند بات البتہ صرف ایک ہے کہ آئین جنتی اصحاب نے بنا دیا جو برقرار ہے اور بس! نفاذ اردو، حرمت سود، قرآنی تعلیم، پاکستانیت کے فروغ اور اسلامی اقدار سے متعلق آئینی شقیں بارود کا وہ ڈھیر ہیں جن کی طرف کسی وزیر اعظم، کسی چیف جسٹس کے رخ کرتے ہی عالمی اسٹیبلشمنٹ مقامی کارندوں کے ذریعے حرکت میں آ جاتی ہے۔

اب قارئین ان تمام باتوں کو جسٹس غزالی مرحوم کے میرے نام واٹس ایپ مورخہ 26 نومبر 2022 سے ملا کر پڑھئے، سب واضح ہو جائے گا:

"۔۔۔۔۔ وفاقی شرعی عدالت نے سالہا سال پہلے شریعت کی روشنی میں اہم مسائل کے حل پیش کیے ہیں اگر ان کے نفاذ میں رکاوٹ نہ ڈالی جاتی تو آج پاکستان بہت بہتر حالت میں ہوتا، مثلا کوٹہ سسٹم کو تین دہائیوں سے غیر اسلامی قرار دیا جاچکا ہے،اگر اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں نہ دبایا گیا ہوتا تو پاکستان بہت سے فتنوں سے محفوظ ہو جاتا، کراچی لسانی نفرتوں میں جل کر خاکستر نہ ہوتا۔اس کے علاوہ زرعی اراضی کی تحدید ملکیت اگر شریعت کے احکام کے مطابق کردی جاتی تو آج ہمارا معاشرہ جاگیردارانہ نظام کی لعنتوں سے آزاد ہوتا۔ سیاسی نظام، اور سیاسی جماعتوں کے عمل کو اسلام کے اصولوں کے مطابق استوار ہونے دیا جاتا تو ہمارا جمہوری نظام کس قدر صحت مند اور دنیا کے لئے قابل تقلید ہوجاتا۔ ان تمام مقدمات کو سپریم کورٹ میں سماعت کرکے آخری فیصلہ کن مراحل سے آخر کون سی طاقت مسلسل روک رہی ہے؟ اور کیا ازروئے دستور، شریعت اپیلٹ بنچ کو معطل رکھنا دستور کی صریح خلاف ورزی نہیں ہے؟ دستور کے واضح الفاظ ہیں :

There Shall be Constituted at the Supreme Court of Pakistan, a Appellat Shariat Bench........کیا ماہرین قانون ودستور اس پر روشنی ڈالیں گے کہ شیل بی کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا یہ الفاظ کوئی گنجائش چھوڑتے ہیں کہ شریعت اپیلیٹ بنچ کو فعال نہ ہونے دیا جائے؟ علماء کرام، اور اس ملک کے وہ تمام باشعور حضرات جو اس مملکت خداداد کو اسلام کے راستہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں ان کو اس بات کا کھوج لگانا پڑے گا کہ کون سی مخفی قوتیں پاکستان کو شریعت کی بالادستی کے راستہ پر چلنے سے روک رہی ہیں؟ کون ان کا ہاتھ روکے گا؟ اور کب روکے گا؟ذرا غور کریں تو سمجھ میں آجائے گا کہ یہی مخفی قوتیں اس ملک کو ٹی ٹی پی، جیش محمد، داعش ، ٹی ایل پی جیسے فتنوں سے برباد اور بے آبرو کرنا چاہتی ہیں، اس لئے کہ جب کسی مقصد کے لیے جائز اور قانونی راستے مسدود کیے جائیں گے تو اس خلاءکو ملک اور معاشرہ کی دشمن قوتیں اپنے ناپاک عزائم کے لئے استعمال کریں گی۔ آپ کسی ملک میں صحت کا نظام معطل کرکے دیکھیں، میڈیکل کالج بند کردیں تو کیا ہوگا؟ عطائیت فروغ پائے گی۔ تعلیم کا نظام ختم کرکے دیکھیں، جہالت فروغ پائے گی۔عدالتی نظام کو موقوف کردیں،ظلم وستم اور استحصال راج کرے گا، یہ بڑی سادہ سی بات ہے۔اس کو سمجھنے کے لیے کسی ارسطو یا افلاطون کی ضرورت نہیں"۔

امید ہے کہ محترم چیف جسٹس اپنے مرحوم ساتھی کے سوالات کا عملی آئینی جواب ضرور دیں گے۔ رہے جنرل ضیاءالحق مرحوم تو انہیں کوسنے کے لیے دیگر بہت سے ٹبر اور برادریاں موجود ہیں، انہیں بخش دیجیے۔

مزید :

رائے -کالم -