مصر میں انسانی حقوق کی پامالی

مصر میں انسانی حقوق کی پامالی
مصر میں انسانی حقوق کی پامالی

  



قاہرہ: مجھے اس بات سے متعلق بہت تذبذب ہے کہ محمد مرسی نتاشا سمتھ کو جانتے ہوں گے۔ قاہرہ کے تحریر سکوائر (چوک) پر اس کے ساتھ (نتاشا سمتھ کے ساتھ) جو ہوا وہ ابھی کم ہے، کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں محمد مرسی کے حامی وہاں ان کے صدربننے کی خوشی میں جشن منا رہے تھے۔21سالہ طالبہ صحافی جس کا تعلق برطانیہ سے ہے وہ تحریر چوک پر گئی تاکہ جشن کی تقریبات سے متعلق تفصیلات جمع کر سکے۔ اس کا لباس معتدل تھا اور اُس کے ساتھ ایک مرد ساتھی بھی موجود تھا ،طعنہ زنی کرنے والے ہجوم کے باعث دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اس لڑکی(نتاشا سمتھ) پر حملہ کیا گیا، بار بار جنسی تشدد کیا گیا اور سینکڑوں لوگوں کے سامنے اسے برہنہ کر دیا گیا، اتفاقاً مصریوں کا ایک گروہ اُس کی مدد کو آن پہنچا، لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا تھا تقریباً اسی وقت دریائے نیل کے اس پار ایک42سالہ مصری خاتون ایک ہوٹل سے باہر نکلی، اُس خاتون نے بھی معقول لباس زیب تن کیا ہوا تھا جو کہ لمبے بازﺅں کی قمیض اور ٹراﺅزر پر مشتمل تھا وہ اس گلی میں موجود اپنی کار کی جانب بڑھی، جہاں پر لوگ غل غپاڑہ کر رہے تھے اور ڈرم پیٹ رہے تھے وہ خا تون ابھی زیادہ دُور نہیں گئی ہو گی کہ اندھیرے میں سے ایک درمیانی عمر کا مرد سامنے آیا اور اس خاتون سے بولا:”تمہیں اس بات کی اجازت نہ ہو گی کہ نئے مصر میں تم ایسا لباس زیب تن کر سکو، اس شخص نے خبر دار کیا وقت بدل چکا ہے پھر ان واقعات کو قلمبند کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ مصر میں تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے، بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ ایسے واقعات پہلی بار ایک ایسے اسلامی صدر کے صدارتی دیباچے میں ہو رہے ہیں، جو اِس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ وہ اسلامی اور مذہبی اقدار کو بروئے کار لاتے ہوئے حکمرانی کا آغاز کریں گے۔ اس بات کو اگر مزید وسعت دی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد مرسی کی انتظامیہ انفرادی حقوق کے تحفظ کے لئے تیار ہے۔ اِس بات کا تعین کرنے کے لئے تو لمبا عرصہ درکار ہے کہ آنے والے مہینوں اور شاید سالوں میں کس طرح کا مصر محمد مرسی کی قیادت میں اُبھرتا ہے۔ محمد مرسی کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ انہیں ایک ڈھلوانی پہاڑی کو سر کرنا ہے۔ آمریت شہری حقوق اور آزادی کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے اور حسنی مبارک کے دور کو بھی اس اصول سے استثنیٰ حا صل نہیں۔ آزادی خیال و تقریر، حزب اختلاف کی سیاست اور مقدمات کا شفاف انداز میں ٹرائل ایسی چیزیں تھیں، جنہیں دفن کر دیا گیا اور تشدد فروغ پاتا رہا اور اس مقصد کے حصول کے لئے خفیہ پولیس کا سہارا بھی لیا گیا، لیکن مغرب یقینا دوسری طرف دیکھتا رہا۔ اب جیسا کہ وہ نئے منصب کو سنبھال چکے ہیں۔ محمد مرسی کا ریکارڈ ماضی میں ایسا نہیں رہا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی کام کیا ہو۔ اگرچہ وہ اور اُن کے دیگر ساتھی جو کہ اخوان المسلمین کے سرکردہ کارکن تھے، متعدد بار جیل جا چکے ہیں اور اس کی وجہ ان کے سیاسی مقاصد تھے اور یہ بات اس چیز کی ترجمانی نہیں کرتی کہ موجودہ حالات کو بہتر انداز میں حل کرنے کی کوئی خواہش اُن کے دل میں ہو، جو اُن کی دُور اندیشی کی ترجمانی کر سکے اور اس کا مطلب ہر گز یہ بھی نہیں کہ وہ مصری خواتین کے تحفظ جس کی انہیں بہت ضرورت ہے، کے لئے کام کریں گے۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ ان کے ابتدائی وعدوں میں سے جو قوم سے انہوں نے کئے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ ان شہریوں کو جیلوں سے رہا کریں گے جو گزشتہ کئی ماہ سے فوجی عدالتوں کے ذریعے بند ہیں، لیکن ایسا کرنے کے لئے محمد مرسی پر بہت زیادہ عوامی دباﺅ نہیں ہے۔ مصری عوام میں ان لوگوں کے لئے ناکافی ہمدردی پائی جاتی ہے، جو فوج کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہوئے، باوجود اس کے کہ فوجی جیلوں میں لوگوں کی تشدد سے ہونے والی اموات اور ماورائے قانون ہلاکتوں کے باوجود جرنیلوں کی حمایت میں کمی80فیصد سے کم بہت دیکھی گئی ہے۔

یہاں ہر وقت ایک احساس ہے ایسا کہنا تھا ایک انتخابی مبصر کا اور وہ یہ ہے کہ ظلم کا نشانہ بننے والا خود پنی بدقسمتی کا ذمہ دار ہے، ہم نے اس چیز کا مشاہدہ گزشتہ دسمبر میں کیا کہ جب ایک خاتون جس نے نیلی قمیض پہنی ہوئی تھی اسے سپاہیوں نے مارا، بہت سے لوگوں کے خیال کے مطابق وہ اس حالت کی ذمہ دار خود تھی، کیونکہ اس کا لباس نازیبا تھا وہ اس جگہ پرکیا کر رہی تھی؟ اور اس نے ایسا لباس زیب تن کیوں کیا جو عریانی کا سبب بن رہا تھا۔ کون اس بات کی پرواہ کرتا ہے کہ ایک خاتون کو گلیوں میں اس لئے مارا جا رہا ہے، کیونکہ اس نے حجاب نہیں پہنا ہوا، تم مغرب میں ہو؟ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔

ایک وکیل جو کہ ملک میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی نمائندگی کرتا ہے، ہنسنے لگا جب مَیں نے اُ سے مصر میں آزادی ¿ اظہار کی صورت حال کے بارے میں پوچھا۔ آزادی ¿ اظہار یہاں پر ایک لگژی چیز ہے۔ اُس نے بتایا وہ حق جس کے بارے میں لوگ کچھ فکر مند ہیں وہ یہ ہے کہ انہیں کام کرنے کا حق ملنا چاہئے تاکہ وہ ملازمت حاصل کر سکیں وہ اس قسم کی چیزوں جیسے کم عمری کی شادی اور زیادہ خواتین کا ایک مرد کے تصرف میں ہونے جیسی چیزوں کے بارے میں زیادہ پروا نہیں کرتے، انہیں صرف معاشی حقوق کی فکر ہوتی ہے۔ اس قسم کے مسائل کے ساتھ ساتھ نئے صدر کے لئے کئی فوائد ہیں۔ اگر وہ اپنی توانائی اور وقت کو انسانی حقوق کے منصوبے پر ہی خرچ کریں گے اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ ان جرنیلوں کے ساتھ بھی لڑائی کریں، جنہوں نے ملک کی اندرونی سیکیورٹی پر سخت تسلط حاصل کر رکھا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصر کے لوگوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کو ان سہولیات کے حصول کا خیال کب آئے گا، جو وہ اپنی زمین پر رہتے ہوئے گزشتہ5000 کے دوران نہ حاصل کر سکے۔ مغرب سے آنے والے آزاد خیال جو یہاں آئے تاکہ عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں مطلع کر سکیں ۔ ان کے لئے یہ کام بہت مشکل ہو چکا ہے، غیر ملکی جاسوسوں سے متعلق کہانیوں اور افواہوں پر مصر میں بہت یقین کیا جاتا ہے اور ملک کے طول و عرض میں کثیر تعداد میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں کے لوگ جیسا کہ انتخابی مصر نے کہا:” اپنے خیالات میں بہت تنگ نظر ہوتے جا رہے ہیں۔وہ اپنے اذھان کو نئے خیالات کے لئے وا نہیں کر رہے، شائد ان کے دماغ بند ہوتے جا رہے ہیں“۔

اس نے ایک افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا جہاں وہ اور مَیں قاہرہ کے مرکزی پارک میں جمع تھے اور و ہ نرمی سے بولی:” مجھے اخوان المسلمین کا کوئی خوف نہیں ہے، مجھے فوج سے بھی خوف نہیں آتا، مجھے خوف ہے تو اپنے لوگوں سے ہے اور اُن کی سوچ سے ہے، وہ میرے حقوق کا تحفظ نہیں کر پائیں گے“۔ (بشکریہ: ” نیو یارک ٹائمز“....ترجمہ:وقاص سعد) ٭

مزید : کالم