چین سے دوستی:ہم نے کیا سیکھا....؟

چین سے دوستی:ہم نے کیا سیکھا....؟

  

یہ 2005ءکی بات ہے، چین نے اپنے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے کی دس سالہ کارکردگی کا جشن منانے کے لئے سونے کا اخبار شائع کیا، سونے کی سیاہی سے شائع ہونے والے یہ ایڈیشن ” چائنا اکنامکس ڈیلی “ کے تھے ،چینی حکومت کے مطابق دُنیا کے کسی خطے میں کسی بھی ملک نے اخبارات شائع کرنے کے لئے سونا استعمال نہیں کیا، اِس لئے ان کے ملک کو یہ اعزازبھی حاصل ہوا۔ کوئی شک نہیں کہ چین نے ترقی و کامرانی کی جو منازل طے کی ہیں، اس پر ساری دنیا ابھی تک حیرت زدہ ہے اور رہے گی، کیونکہ چین جیسی ترقی و خوشحالی اتنے کم عرصے میں کسی اور ملک کے حصے میں نہیں آئی،کہنے کو تو چین اور پاکستان کی دوستی چھ دہائیوں پر محیط ہے اور پاکستان چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا ملک ہے۔ دونوں ممالک نے ہر گرم سرد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی ، طب و صحت ،ایجوکیشن ، قانون و انصاف،سماجی تعلقات اور مارکیٹنگ کے میدان میں چین سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس دوستی میں یہ مثل بھی نہیں دہرائی گئی کہ خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے،جی ہاں ! دوستی ہے اور بس دوستی، اس سے آگے کچھ نہیں .... اسے کوہ ہمالیہ سے اونچی کہہ لیا جائے یا کوئی اور نام دے لیا جائے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے پاکستان کے ساتھ چین ہر مشکل وقت میں کھڑا رہا ہے اور ہم نے بھی چین کا ان کے تمام مسئلوں پر ساتھ دیا ہے ،بالکل اسی طرح ہم چین سے اس کی ترقی کا راز پوچھتے یا کم از کم اس کی تقلید کرتے، لیکن ہم صرف اسی بات پر پھولے نہیں سما رہے کہ ایک تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہمارا دوست ہے۔ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ جیسے یہ دوستی وسیع البنیاد ہے، اسی طرح ہم چین کی ترقی سے بھی استفادہ کرتے، مگر افسوس کہ ایسا کبھی نہیں ہوا.... 1962ءمیں چین بھارت جنگ میں پاکستان نے چین کی حمایت کی، تائیوان، سنکیانگ اور تبت کے مسئلے پر بھی پاکستان نے چین کا غیر مشروط ساتھ دیا، اِسی دیرینہ دوستی کے پیش نظرچین نے پاکستان کو جے ایف تھنڈر لڑاکا طیارے اور کے ایٹ جہاز فراہم کئے، الخالد ٹینک دئیے ، قراقرم ہائی وے، چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ، خوشاب ایٹمی ری ایکٹر، ٹیکسلا ہیوی مکینیکل کمپلیکس اور اب گوادر پورٹ میں چین کا تعاون ہمیں حاصل ہے، لیکن بات تعاون تک ہی رہی ،ہم نے چین کی اقتصادی و مالیاتی ترقی کے بارے میں سیکھنے کی کبھی سعی نہیں کی۔

ان دنوں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف چین کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے چینی بینکوں کے سربراہان، چین کے صدر اور چینی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں۔ چین کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبے شروع کرنا چاہتا ہے۔ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں میٹرو نظام لانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے چائنہ انویسٹمنٹ کارپوریشن کے سربراہ سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کرنے کے لئے تعاون کی درخواست کی، ساتھ ہی چینی انویسٹمنٹ کارپوریشن کے سربراہ سے درخواست کی کہ چائنہ پاور کمپنی تھرکول منصوبے پر کام کرے۔ وزیراعظم نے چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کے صدر سے ملاقات میںانہیں توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی درخواست کی ، ایگز م بینک کے صدر سے ملاقات میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایگزم بینک پاکستان میں انرجی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کرے ۔

شک نہیں کہ چینی مالیاتی اداروں کے سربراہوں نے وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور جاری منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی، لیکن کیا مختلف منصوبوں میں چین کے تعاون اور کچھ مالی معاونت سے پاکستان کے دلدر دُور ہو جائیں گے؟کیا ہم نے اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے لئے کبھی کسی ”حکیم،طبیب“سے مشورہ نہیں کرنا۔؟ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ چین سمیت سعودی عرب جیسے ممالک ہمارے اچھے دوست ہیں ،ہر مشکل گھڑی میں ساتھ بھی کھڑے ہوتے ہیں، لیکن یہ سب وقتی سہارے ہیں ،ہم ہمیشہ کے لئے ان سہاروں یا دوستی سے زندہ نہیں رہ سکتے،ہمیں اپنے دوستوں سے ہر شعبے میں ترقی کرنے کی ٹریننگ لینا ہو گی،وہ طور طریقے اپنانا ہوںگے، جن سے دوسرے ممالک آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم روز بروز پیچھے جا رہے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا آسیب ہمیں ہڑپ کر رہا ہے، ڈرون حملے ہماری حمیت کو للکار رہے ہیں، آئی ایم ایف اپنی شرائط پر ہمیں مزید قرضے دینے پر تُلا ہوا ہے،ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے پہلے ہی ہمارا دم نکالے ہوئے ہیں۔

بلوچستان سے لے کر گلگت بلتستان تک ہم جیتی ہوئی بازی ہارنے کی پوزیشن میں ہیں۔ہمارے ہاں ایجوکیشن لیول روز بروز نیچے گر رہا ہے،بے روزگاری اور مہنگائی ہماری چولیں ہلا رہی ہے ، انرجی کرائسز نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، ریلوے ،واپڈا،پی آئی اے اور دیگر بڑے بڑے ادارے بربادی کی جانب سفر کر رہے ہیں ،شہر شہر قریہ قریہ امن امان کی صورت حال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے،بھوک ،افلاس،کرپشن اور اخلاقی گراوٹ ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے اور ہم اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی بجائے وقتی سہاروں کی تلاش میں ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے کہ چین جیسے دوستوں سے کہا جائے کہ ہمارے انجینئروں، بنکاروں، ڈاکٹروں، ہنرمندوں، تاجروں، سرمایہ کاروں ،طالب علموں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو ٹریننگ دیں۔ وہ ٹریننگ جس سے چین نے خود ترقی کی ہے،اس نیت کے ساتھ کہ ہم بھی آئی ٹی، زراعت ،ایجوکیشن ،سائنس اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھ سکیں۔

لیکن افسوس کہ ہماری کسی حکومت نے کبھی ایسا نہیں سوچا۔ ہم اپنے دوست ممالک سے امداد کی درخواست کرتے ہیں یا پھر ان کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے کر گھر چلے آتے ہیں ، ایک ایسے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کل اس ملک کے کس شہر میںبم دھماکے ہو نے ہیں ، کب کس شہر کا امن خراب ہوجانا ہے،کب کس علاقے میں ڈرون حملہ ہو جانا ہے اور کب کس ایریا میں پولیس یا کسی اور ایجنسی نے آپریشن شروع کر دینا ہے۔ صاحبو! خود ہی سوچئے !!بھلا کون اپنے لئے کانٹوں کی سیج پسند کرتا ہے؟اور کون دہکتی آگ میں کودتا ہے؟کاش! ہم دوستوں سے مانگنے کی بجائے سیکھنے کی کوشش کریں۔  ٭

مزید :

کالم -