انسائیکلو پیڈیا واقعاتِ پاکستان اور زاہد حسین انجم!

انسائیکلو پیڈیا واقعاتِ پاکستان اور زاہد حسین انجم!

  

پاکستان کے اہم واقعات پر مَبنی، انسائیکلو پیڈیا واقعاتِ پاکستان، جلد سوم اس وقت پیش نظر ہے۔ اس عظیم و ضخیم کتاب کی اہمیت و افادیت اس امر سے واضح ہے کہ بڑے سائز کے 140 صفحات پر تو اس کی فہرست ہی محیط ہے۔ کتاب کے مو¿لف، مرتب، محقق زاہد حسین انجم کسی رسمی تعارف کے محتاج نہیں۔ جلد اول و دوم پر جو مَیں نے9 ستمبر2008ءکو کالم لکھا تھا، اُس کے ابتدائیے کو یہاں دُہرانا بے محل، بے موقع، بے سبب نہ ہوگا کہ ہنوز مضمون واحد ہے۔ مَیں نے لکھا تھا:

”زاہد حسین انجم مشہور ”انسائیکلو پیڈیا ساز“ ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا ہی کی طرز پر دنیا بھر کے موضوعات پر انہوں نے ایسی ایسی گراں قدر کتابیں تالیف اور مرتب کی ہیں، جو طالب علموں کے لئے ہی نہیں، ہر باذوق قاری کے لئے دلچسپی اور افادیت کی حامل ہیں۔ بہت سے متنوع موضوعات پر انہوں نے انسائیکلو پیڈیا مرتب کئے ہیں۔ زیر نظر جلد پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ بھی بتاتا چلوں کہ فیروز سنز لاہور کے مروجہ اُردو انسائیکلو پیڈیا کی نظرِ ثانی یا از سرِ نو ترتیب و تالیف بھی زاہد حسین انجم ہی کی مرہون منت ہے۔ وہ بنیادی طور پر ”کتاب ساز“ ہیں مگر اپنی کسی بھی کتاب کی پروف خوانی یا حتمی تصیح کے لئے وقت ضائع کرنے کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جتنی مدت میں، مَیں اپنی مولفہ و مرتبہ کتاب کی خود پروف ریڈنگ کروں، اُتنی مدت میں ایک نئی کتاب نہ بنالوں؟....یوں وہ اس طرح کی کتاب سازی میں اولیت ضرور رکھتے ہیں، مگر کتاب کے معیاری ہونے کے داعی ہرگز نہیں....!معیار خود قاری قائم کرلے:

قیاس کُن ز گلستانِ من بہارِ مَرا

زاہد حسین انجم کا بہت سا وقیع کام خود ان کی مجرمانہ غفلتوں کے طفیل اغلاط کا شاہکار ہے....”مُشتے نمونہ از خروارے“....فیروز سنز انسائیکلو پیڈیا میں مجھ سے حاصل کردہ، میرے کوائف میں میری ولدیت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔ میرے والدِ گرامی مرحوم و مغفور کا اصل نام سید صغیر حسن زیدی تھا اور طلبیدہ کوائف میں بقلمِ خود رقم بھی یہی کیا تھا، مگر اس نام کو ”سید صابر حسین زیدی“ میں بدلنا انجم صاحب کا کمال ہے گویا:

انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

اس وقت ذکرِ خیر مقصود ہے، تیسری جلد کا.... یہ جلد1951ءسے لے کر2004ءتک کے پاکستان کے اہم اہم واقعات پر مشتمل ہے۔صفحہ258 پر ایک مشہور فارسی شعر اس شکل و صورت میں چھپا ہوا نظر پڑتا ہے:

پئے عِلم چُوں شمع باید گُداقت

کہ بے علم نتواں خدارا شناخت

جبکہ پہلے مصرعے کے آخر میں مجہول لفظ ”گُداقت“ کے بجائے، صحیح لفظ ”گُداخت“ ہونا چاہئے تھا....!

کتاب کے صفحہ 330 پر کراچی کے مشہور شاعر رضی اختر شوق مرحوم کا ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح درج کیا گیا ہے:

ایک تیر اِدھر آیا ہے تو اس سوچ میں ہوں

میری اس شہر میں کس کس سے شناسائی ہے؟

جبکہ مصرع اُولیٰ میں ”ایک تیر“ لگانے سے مصرع ہی وزن سے خارج ہوگیا ہے، صحیح شکل و صورت میں مصرع یوں ہے:

ایک پتھر اِدھر آیا ہے تو اس سوچ میں ہوں

صفحہ 295 پر حضرت علامہ اقبال کا ایک مشہور شعر اس طرح لکھا گیا ہے:

بے معجزہ دنیا میں بھرتی نہیں قومیں

جو ضربِ کلیمی رکھتا وہ ہُنر کیسا؟

جبکہ علامہ نے پہلے مصرعے میں کوئی لفظ ”بھرتی“ نہیں کیا ”اُبھرتی“ کہا تھا اور دوسرے مصرعے کو متذکرہ شکل میں بے وزن نہیں کہہ رکھا کہ ”ضربِ کلیمی“ کی ترکیب کے بعد”نہیں“ حذف ہو سکے، صحیح شعر مکمل یوں ہے:

بے معجزہ دنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں

جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہُنر کیا؟

صفحہ 385 پر ایک سُرخی ہے:

”نامور شاعر، ادیب، مزاح نگار، خاکہ و سفر نامہ نگار اور فلمی نغمہ نگار سید ضمیر جعفری انتقال کر گئے“۔ باقی تو ساری باتیں صحیح، سب لاحقے درست، مگر سید ضمیر جعفری کبھی فلمی نغمہ نگار نہیں رہے، البتہ انہوں نے قومی و ملی نغمے خوب لکھے اور اس کالم ”بادِ شمال“ کے قارئین کے لئے یہ اطلاع شاید دلچسپی کا باعث ہو کہ ضمیر جعفری صاحب نے راولپنڈی سے اپنا ایک روزنامہ ”بادِ شمال“ کے نام سے تقریباً دو سال تک نکالا۔ جب مَیں نے اس عنوان سے کالم لکھنا شروع کیا تو انہوں نے کہا: ”آپ نے اچھا کیا کہ میرے اخبار کا نام زندہ کر دیا“....! صفحہ389 پر ایک خبر کی سُرخی ہے:

”شاعر اقبال سخی پوری انتقال کر گئے“....! جبکہ یہ ”سخی“ نہیں صفی پوری تھے۔ کراچی کے مشہور مترنم شاعر اقبال صفی پوری۔

صفحہ 394 پر ایک سُرخی ہے:

”حکیم محمد سعید قتل کیس میں متحدہ کے کارکنوں کو سزائے موت“.... جبکہ اصل متن میں حکیم محمد سعید شہید نہیں، بلکہ کسی حکیم محمد قادر اور اس کے چپڑاسی ولی محمد کے قاتلوں کو سزا کا ذکر ہے“....! صفحہ645 پر ایک خبر کی سُرخی ہے:

”معروف نقاد ادیب اور شاعر قمر جلیل 27 اگست2000ءکو انتقال کر گئے“....!

درحقیقت یہ قمر جلیل نہیں، قمر جمیل تھے۔ قمر جمیل کا اصل نام قمر احمد فاروقی تھا اور ان کے والدِ گرامی کا نام جمیل احمد تھا۔ یوں قمر احمد فاروقی نے اپنے والد کا نام جمیل ساتھ لگا کے خود کو ادبی دنیا میں قمر جمیل کے نام سے متعارف کرائے رکھا۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ذاتی ادبی جریدہ بھی ”دریافت“ کے نام سے نکالتے رہے۔ میرے اولین مجموعہِ غزل ”ڈوبتے چاند کا منظر“ کا فلیپ انہی قمر جمیل نے ان لفظوں میں لکھا تھا:

”ناصر زیدی نئی غزل لکھنے والوں میں ممتاز ہیں۔ ان کی غزل میں بظاہر وہ ”ڈِکشن“[DICTION] ہوتا ہے جو عام طور سے غزل میں استعمال ہو رہا ہے مگر اس ڈِکشن کے پیچھے ناصر زیدی کا دل دھڑکتا ہے“!

کتاب میں کئی جگہوں پر ٹینس کے مشہور کھلاڑی ”اعصام الحق“ کو ”اعصیام الحق“ لکھا گیا ہے۔ صفحہ 657 پر ایک سرخی یوں جمائی گئی ہے:

ممتاز کشمیری ادیب، دانشور اور براڈ کاسٹر طاو¿س بانہال کا انتقال ہوگیا۔ دو جگہ”بانہال“ ہی لکھا گیا ہے۔ دراصل یہ طاو¿س بانہالی تھے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر محض 6 برس لکھی گئی ہے جبکہ وہ ریٹائر ہو چکے تھے اور انتقال کے وقت غالباً 69 سال کے ہوں گے۔

صفحہ1362 پر مشہور سیاستدان، شاعر نوابزادہ نصراللہ خان کا ایک شعر اس طرح رقم کیا گیا ہے:

وہ حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل

اٹھو کہ یہی اس وقت کا فرمانِ جلی ہے

 دوسرے مصرعے میں ”اس وقت“ نجانے کہاں سے آگیا؟ صحیح شعر یوں ہونا چاہئے:

وہ حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل

اٹھو کہ یہی وقت کا فرمان جلی ہے

کتاب کے صفحہ 1570 پر جعفر شیرازی کے تذکرے میں ان کے اُستاد کا نام اس طرح لکھا ہے:

”شاعری میں علامہ برج موہن کیفی و تاثر یہ جیسے اُستادِ سخن کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا“۔

دراصل یہ ”کیفیہ“ جیسی مشہور کتاب کے خالق استادِ فن پنڈت دِتا تریہ کیفی دہلوی تھے، جن کے ایک شاگرد حبیب کیفوی نے پاکستان میں اُن کا نام ”کیفوی“ لاحقے کے ساتھ زندہ رکھا۔ یہی جعفر شیرازی کے بھی استاد تھے۔پنڈت کیفی دہلوی کی ماڈل ٹاو¿ن ڈی بلاک میں بہت بڑی کوٹھی تھی۔1947ءمیں نقل مکانی کرتے وقت وہ کوٹھی کی چابی اپنے دوست [ماڈل ہائی سکول کے زمانے کے میرے استاد] ماسٹر اختر حسین تاباں بریلوی کو دے گئے تھے، مگر تاباں صاحب نے کوٹھی پر قبضہ نہیں کیا۔ چابی کسٹوڈین کو دے دی اور خود اپنے کوارٹر ہی میں تمام زندگی گزاری۔ تاباں بریلوی کبھی علامہ تاجور نجیب آبادی کے رسالہ ”شاہکار“ میں معاون مُدیر بھی رہے تھے۔ ان کا ایک شعر مجھے یاد ہے:

اتنی آسان تو تشخیصِ غم عشق نہ تھی

نبض پر ہاتھ رکھا دردِ جگر دیکھ لیا

واقعات پاکستان کے انسائیکلو پیڈیا جلد سوم پر یہ کالم لکھتے ہوئے، میری یادنگاری کے ضمن میں کچھ دلچسپ اور اہم باتیں اضافی معلومات کے طور پر آگئیں۔ مختصراً یہ کہ متذکرہ انسائیکلو پیڈیا کے فاضل مو¿لف و مرتب زاہد حسین انجم میری نشان زدہ غلطیوں کو محض پروف کی غلطیاں کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے۔ انہیں اپنی ضخیم ضخیم تالیفات کو اغلاط سے بہر طور پاک کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اڑھائی ہزار روپے قیمت کی ضخیم کتاب جو قاری خرید کر پڑھے گا، وہ ان اغلاط سے صرفِ نظر کیوں کرے گا؟....!      ٭

مزید :

کالم -