مرشد سائیں کے لہجے میں تلخی

مرشد سائیں کے لہجے میں تلخی

  

صدر آصف علی زرداری کی ملتان آمد کے اگلے روز مرشد سائیں سید یوسف رضا گیلانی نے ڈسٹرکٹ بار میں پیپلز لائرز فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جو دھواں دار لہجہ اختیار کیا، وہ کبھی بھی ان کا مزاج نہیں رہا، مگر لگتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات اور بدلے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر انہوں نے اپنی حکمت عملی ہی نہیں ،مزاج بھی تبدیل کر لیا ہے۔ یہ خطاب انہوں نے سپریم کورٹ کی اس رولنگ کے اگلے روز کیا، جس میں ان کی حاضری سے استثناکی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ استثنیٰ گھر بیٹھے نہیں ملتا۔ اس کے جواب میں سید یوسف رضا گیلانی نے یہ جواب دیا کہ جس میں ہمت ہے انہیں گرفتار کر لے، وہ حاضر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اگرچہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا نام نہیں لیا ،تاہم ان کا سارا ردئے سخن انہی کی طرف تھا۔ چیف جسٹس کے بیٹے کا ذکر بھی انہوں نے اشارتاً بار بار کیا اور کہا کہ اس نے ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا، کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے لہجے میں یہ تلخی کئی وجوہات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑی وجہ تو ان کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا اغوا ہے، جس کی بازیابی کے لئے کچھ نہیں ہو رہا۔ صدر آصف علی زرداری کا حالیہ دورملتان بھی ان سے اظہار یکجہتی کے لئے تھا، اس سے پہلے مولانا فضل الرحمن اور عبدالحئی بلوچ بھی ان سے ملاقات میں ان کی ڈھارس بندھا چکے ہیں۔ اس دوران یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ سید یوسف رضا گیلانی بیٹوں سمیت مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے جا رہے ہیں ،جن کی انہوں نے ڈسٹرکٹ بار روم میں اپنے خطاب کے دوران سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کو نہیں چھوڑیں گے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ افواہ بھی گرم ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف جلد ان سے بیٹے کے اغواپر اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لئے ملتان آئیں گے۔ گویا بیٹے کے اغوا کا معاملہ سید یوسف رضا گیلانی کی سیاست و شخصیت کا محور بن چکا ہے ،مگر دوسری طرف وہ آزمائشیں ہیں، جن سے سید یوسف رضا گیلانی المعروف مرشد سائیں کو ہر صورت میں گزرنا ہے۔ سب سے بڑی آزمائش وہ مقدمات اور کرپشن کیس ہیں، جو ان کی ذات کے گرد گھومتے ہیں۔ اکثر کیسوں میں انہیں اس لئے ملوث قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے چن چن کر ایسے لوگوں کی تقرریاں کیں جو نہ تواستحقاق رکھتے تھے اور نہ ہی میرٹ پر پورا اترتے تھے۔ ان کا اصل میرٹ صرف یہ تھا کہ وہ سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ جیل میں رہے تھے یا پھر ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ ان الزامات پر مرشد سائیں خاصے جزبز ہیں۔ انہوں نے ببانگ دہل کہا ہے کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم ڈیڑھ لاکھ سے زائد تقرریاں کیں، جن میں آرمی چیف سمیت بہت سی اہم تقرریاں بھی شامل ہیں، اگر کسی کو تقرریوں پر اعتراض ہے تو پھر ان حساس تقرریوں پر بھی ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جب وہ اپنے خطاب کے دوران یہ بات کر رہے تھے تو ان کا لہجہ خاصا تضحیک آمیز تھا ،جس کا ہدف اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان تھے۔

ان کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی صرف اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور احتساب کے عمل کو روکنے کے لئے یہ سارا ڈرامہ کر رہے ہیں حالانکہ اگر وہ بے گناہ ہیں تو انہیں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی اگر وزیر اعظم کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے سامنے

 پیش ہو سکتے ہیں، تو اب پیش ہونے میں کیا حرج ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرشد سائیں جب وزیر اعظم تھے تو انہوں نے اپنے استثنا کا سوال نہیں اٹھایا، اب جبکہ وہ سابق وزیر اعظم ہیں، اپنے استثنا کو مضبوط دلیل بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کو در حقیقت ایک پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ اقتدار میں ان کی نمائندگی بالکل نہیں ہے، حالانکہ انہوں نے اپنے تین صاحبزادوں اور ایک بھائی کو انتخابات میں اتارا تھا، سب شکست سے دو چار ہوئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، انہیں پارٹی کے اندر بھی مزاحمت کا سامنا ہے ۔لاہور میں ان کے خلاف کارکنوں نے جی بھر کے بھڑاس نکالی اور انتخابات میں شکست کا ذمہ دار انہیں اور راجہ پرویز اشرف کو قرار دیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان کی سیاست گیلانی ہاﺅس ملتان تک محدود ہو چکی ہے۔ ایسے میں صدر آصف علی زرداری کا اظہار یکجہتی بھی انہیں کوئی سیاستی سہارا نہیں دے سکا۔ بیٹے کی گمشدگی تو ایک کرب ہے ہی، مقدمات اور اپنے دوسرے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کا ایفی ڈرین کیس میں نام آنا، ان کے لئے پریشانی کا موجب ہے ۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جو انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ایسے میں انسان کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں، وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور بچاﺅ کی بھیک مانگے یا پھر ان کے سامنے سینہ سپر ہو جائے۔ سید یوسف رضا گیلانی میں پہلے والے راستے کا انتخاب کرنے کی کوئی رمق موجود نہیں ان کا سیاسی کیریئر اس قسم کی ذلت آمیز مصلحت سے خالی ہے۔ انہوں نے پرویز مشرف سے بھی رہائی کی درخواست نہیں کی تھی، اس لئے ان کے پاس صرف دوسرا راستہ ہی بچتا ہے ۔سو انہوں نے اس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کے حالیہ بیانات اسی فیصلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ حملہ مدافعت سے بہتر ہوتا ہے ،سو انہوں نے حملہ کرنے کی راہ اختیار کی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے ان کے لہجے میں تلخی مزید بڑھ سکتی ہے، یہ امکان بھی موجودہے کہ وہ خود کسی احتجاج کے سرخیل بن جائیں۔

سید یوسف رضا گیلانی کے حامیوں نے یہ سوال اٹھایا کہ جب سابق آمر پرویز مشرف کے خلاف ساری تفتیش یا تمام تر کارروائی ان کے چک شہزاد میں واقع بنگلے میں ہو سکتی ہے تو ایک منتخب سابق وزیر اعظم سے اگرکسی نے تفتیش کرنی ہے، یا بیان ریکارڈ کرنا ہے، تو ان کے پاس کیوں نہیں آسکتا ؟یہ واضح طور پر ایک امتیازی سلوک ہے جو جمہوریت کے نام پر حکمرانی کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ بات غیر مدلل بھی نظر نہیں آتی۔ اس میں ایک واضح دلیل موجود ہے اور شاید یہی وہ نکتہ ہے، جس کی وجہ سے سید یوسف رضا گیلانی نے کسی بھی عدالت یا ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

بات شروع ہوئی تھی مرشد سائیں کے لہجے میں آنے والی تلخی سے جس میں روئے سخن اعلیٰ عدلیہ کی طرف تھا ۔ہم مرشد سائیں سید یوسف رضا گیلانی کو مشورہ ہی دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی روایتی روش نہ چھوڑیں ، جو نرم خوئی، حوصلے اور برداشت سے عبارت ہے۔ ان کا اس طرح سے جنم لینے والا لہجہ اور رویہ یہ تاثر چھوڑ رہا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں ،انہیں اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے قانون کے سامنے خود کو پیش کر دینا چاہیے، انہیں سابق وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے فیصلوں پر آئینی تحفظ اور استثناحاصل ہے، جس کا انہیں قانون کے مطابق دفاع کرنا چاہیے۔ مولا جٹ بننے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا ،بلکہ الٹا رائے عامہ ان کے خلاف ہو جائے گی۔ اگر وہ اپنی شخصیت کی مثبت خوبیاں بھی کسی فضول بڑھک بازی میں گنوا بیٹھے تو یہ وزارت عظمیٰ چھن جانے سے کہیں بڑا نقصان ہو گا۔     

مزید :

کالم -