دہشت گردی.... حل کیا ہے؟

دہشت گردی.... حل کیا ہے؟

  

آج انسانیت کو دو بلاو¿ں نے بُری طرح جکڑ رکھا ہے اور دنیا بھر کی حکومتیں ان سے نمٹنے کے لئے اپنے بہترین دماغ، بہترین وسائل اور بہترین کوششیں عمل میں لارہی ہیں، لیکن یہ بلائیں ہیں کہ کسی طرح پسپا نہیں ہو رہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور خونخوار ہوتی چلی جارہی ہیں اور انسانیت ان کے خون آشام جبڑوں اورزہریلے پنجوں کے نیچے زخموں سے چور کراہ رہی ہے۔ یہ دو بلائیں دہشت گردی اور منشیات ہیں ۔ منشیات اور اس کی تمام جہتوں پر مَیںتسلسل کے ساتھ آٹھ دس مضامین میں، جو ملک کے تمام معروف اخبارات میں چھپے، سیر حاصل اظہار خیا ل کرچکا ہوں۔ اس مضمون میں دہشت گردی پر قارئین سے اپنے خیالات شیر¿ کروں گا۔اور سر دست اسے پاکستان تک محدود رکھوں گا۔

ملکی اور عالمی اداروں کے مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں 2001ءسے جو ن 2013ءتک آٹھ ہزار سے زائد واقعات میں پچا س ہزار سے زائد اشخاص دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں ۔دہشت گرد ی کے بارے میں عموماً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس کی وجوہات غربت، جہالت یا بے روزگاری ہیں،لیکن اعدادو شما راور زمینی حقائق اس کی تائید نہیں کرتے ، نہ ملکی، نہ عالمی،چنانچہ دہشت گردی کاشکار علاقوں یا جہاں سے دہشت گرد اُٹھ کر آتے ہیں، وہاں سڑکیں بنانا ، سکول کھولنایا روزگار وغیرہ کے مواقع پیدا کرنا گو اپنی جگہ انتہائی مثبت اور قابل تحسین اقدامات ہیں اور یہ اُن علاقوں میں رہنے والوں کا بنیادی حق ہے جو اُنہیں ہر صورت ملنا چاہئے، لیکن یہ دہشت گردی کے مسئلے کاحل نہیں، کیونکہ ان علاقوں میں یہ سب کچھ کسی نہ کسی حد تک کرنے کے بعدبھی دہشت گردی کم نہیں ہوئی۔اسی طرح زیادہ سے زیادہ دہشت گرد پکڑنا بھی مسئلے کا حل نہیں ۔ زیادہ گرفتاریاں اُلٹا اثر دکھاتی ہیں ، ایک کو ماریں یا پکڑیں ،اس کی جگہ دس نئے آجاتے ہیں۔اس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ گیارہ بارہ سال میں دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے پچا س ہزار افراد میں تقریباًنصف تعداد اُن دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محاذآرائی کے دوران یا خود اپنے ہاتھوں ہلاک ہوئے، لیکن اس کے باوجود ان کے حملوں میںکوئی کمی نہیں آئی ۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے جھانکیں تویہاں بھی ہمیں غربت ، جہالت یا بے روزگاری نہیں، بلکہ درج ذیل پانچ گروہ کارفرما نظرآتے ہیں جو ریاست ، حکومت یا ایک دوسرے سے ناراض ہیں ۔

1۔پاکستا ن سے ناراض گروہ ۔۔۔جو کسی نہ کسی جائز یا ناجائز وجوہات کی بنیاد پر ریاست سے ناراض ہوگیا ہے اور پاکستان سے علیحدگی چاہتاہے ، جیسے بلوچستا ن لبریشن آرمی ،بلوچستان لبریشن موومنٹ وغیرہ

2۔ افغانستان اور امریکا کے معاملات میں پاکستان کے کردار کا مخالف گروہ ۔۔۔جیسے تحریک طالبان پاکستان

3۔ فرقہ وارانہ اختلافات پرمتشددنظریات رکھنے والا گروہ۔۔۔جیسے لشکر جھنگوی اور چند دیگر

4۔ لسانی و علاقائی اختلافات رکھنے والے گروہ ۔۔۔جیسے مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ، جئے سندہ قومی محاذوغیرہ

ان میں سے پہلے دو گروہ ریاست اور حکومت سے محاذ آرائی میں مصروف ہیں اور اس کی قومی یکجہتی کے نشانات (جیسے زیار ت ریذیڈنسی)، اس کے اداروں(جیسے جی ایچ کیو، کامرہ، مہران بیس وغیرہ)،اُس کی معروف اور قدآور شخصیات (صدرپرویز مشرف، محترمہ بے نظیر بھٹواوردیگر)اورریاست و حکومت کو زچ کرنے کے لئے براہِ راست عوام الناس پر حملہ آور ہوتے ہیں ، جبکہ موخر الذکردوگروہ براہ راست فریق ِ مخالف پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک گروہ سے نمٹنے کے لئے الگ الگ اور مختلف حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔کوئی بھی حکمت عملی اختیار کرنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کے پیچھے نفرت ، تنازعات یا اختلافات ہیںاوردہشت گردی کا ہرواقعہ درحقیقت اپنی نفرت ،تنازعے یا اختلاف کے اظہاراور فریق مخالف کو نقصان پہنچانے کاایک انداز ہے۔ یابا الفاظِ دیگر نفرت ، شکایات،تنازعات اور اختلافات، دہشت گردی کی جڑیں، اور دہشت گردی کے واقعات اُس کی شاخیں اور برگ وبار ہیں ۔

ان حالات میں عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ شاخوں اور برگ وبار کو کاٹنے پر محنت اور توانائیاں صرف کرنے کی بجائے جڑوں کو کاٹا اور اُکھاڑا جائے ۔ اُ ن نفرتوں ، تنازعات ،اختلافات اور تضادات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے جو ملک پر طاری دہشت گردی کے حقیقی اسباب ہیں ۔میری تجربات و مشاہدات پر مبنی رائے ہے کہ یہ صرف محبت ، دل جوئی ، داد رسی اورایثارکے پایوں پراستوار تخت پر بیٹھ کر دردمندانہ اوربے لوث جذبات کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ طاقت کے زورپر نہ انگریز غیور پختونوں کو زیر کرسکا ، نہ امریکا اور نیٹو فورسز۔اور نہ ہی پاکستان طاقت کے زور پر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے روک سکا۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں شکست کے پیچھے بیرونی قوتوں کا ہاتھ تھاتو کیا آج پاکستان کی مغربی سرحدوں یا صوبہ بلوچستان میں جو شورش بپا ہے، اس کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ نہیں ؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ جاری جنگ میں بات چیت اور مذاکرات کیونکر ممکن ہیں؟ تو کیا اُسے یا د نہیں کہ حضرت علیؓاور حضرت امیر معاویہ ؓ کے درمیان ہونے والی جنگ صفین میں عین میدان جنگ میں مذاکرات کا علم بلند کردیا گیا تھا اور جنگ روک دی گئی تھی،چنانچہ میری مخلصانہ رائے ہے :

1۔ بلوچستان کے ناراض لوگوں سے بات چیت کی جائے ۔ان کے شکوے شکایتیں سنی جائیں اور ان کا ازالہ کر کے اُنہیں واپس قومی دھارے میں لایا

جائے ۔یہ ہمارے ہی لوگ ہیں اور برسوں سے ہمارے ساتھ ہی رہ رہے ہیں۔ان سب کے عزیزواقارب او ر اُن کی پارٹیاں پاکستان کی صوبائی اور مرکزی حکومتوں میں شریک رہی ہیں اور آج بھی شریک ہیں ۔ان کے ذریعے اُن سے بات کی جاسکتی ہے ۔ اگر عطاءاﷲمینگل اور اُن کا ایک بیٹااختر مینگل صوبہ بلوچستان کا وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور آج بھی پاکستان میں اور حکومتی ایوانوںمیں موجود ہیں تو ان کا کوئی اور بھائی بند پاکستان کا باغی کیسے ہو سکتا ہے؟

اگر نواب خیر بخش مری اور ان کا ایک بیٹا آج بھی حکومت کے ساتھ ہے تو دوسرا بیٹا باغی کیسے ہو سکتا ہے ؟ وعلیٰ ہذا لقیاس ۔ضرور کچھ شکایتیں یا غلط فہمیاں ہوں گی جو دور کی جانی چاہئیں۔ پہلے بھی بلوچستان کے کچھ عناصر ناراض اورپھر راضی ہوتے رہے ہیں، اب بھی یہ ممکن ہے۔ صرف پُرخلوص اور بے غرض کوشش کی ضرورت ہے ۔

2۔ تحریک طالبان پاکستان کے لوگ بنیادی طور پر پاکستانی اور پاکستان کے وفادار ہیں، لیکن ایک طرف حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی سے اختلاف کرتے ہوئے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نبردآزما ہوگئے ہیں اوردوسری طرف اسلام کی اپنی تشریح کو پورے پاکستان پر نافذ کرنے کے درپے ہیں ۔ ان کے پاکستانی ہونے اور اسلامی مزاج رکھنے کی دو مثبت صفات اور مشترکہ بنیاد پرمذاکرات ہوسکتے ہیں، جس کی یہ خود بھی کئی بار دعوت دے چکے ہیں اور جس پر کافی کچھ پیش رفت ہوبھی چکی ہے ۔

3۔ فرقہ وارنہ اختلافات کی شدت کو بھی مثبت کوششوں سے کم کیا جاسکتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے متعلقہ گروہوں کے اُنہی علماءاور اساتذہ کو اعتما د میں لیا جاسکتا ہے، جن کے یہ شاگر دہیں۔ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ ہر ایک کی بات کو رد کرسکتے ہیں، لیکن اپنے استاداور روحانی پیشوا کی بات کسی حالت میں رد نہیںکرتے ۔ اس خوبی کے مثبت نتائج ضرور حاصل کئے جانے چاہئیں ۔اس کے ساتھ ساتھ مدرسوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں مثبت تبدیلیاں لائی جانی چاہئیں اور طلباءکے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جائے کہ کوئی کلمہ گو ،جو رسول اکرمﷺ کو اﷲکا پیغمبر اور خاتم النبیین مانتا ہے، کافر نہیں ہوسکتا، خواہ کسی بھی فقہ کا پیروکار ہو ۔ اس ضمن میں بہت سارا کام ہوا بھی ہے ۔مزید کچھ کام فرقہ وارانہ اختلافات کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔

مَیں نہیں سمجھتا کہ اگر مندرجہ بالا خطوط پر نیک نیتی کے ساتھ کوششیں کی جائیں تو اُس کے مثبت اثرات نہ نکلیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی پر یقیناً قابوپایاجاسکتا ہے، لیکن صرف ازالہ شکایت ، عزت افزائی، بات چیت اور افہام و تفہیم سے ،طاقت سے نہیں۔  ٭

مزید :

کالم -