نئی بستےوں کے مکان اورپرانے مکین

نئی بستےوں کے مکان اورپرانے مکین

  

اگر میں کاروباری ذہن کا آدمی ہوتا تو اب تک دو باتوں کا حساب ضرور لگا سکتا تھا ۔ پہلی تو یہ کہ پچھلے ایک ہفتہ سے جس نو زائیدہ بستی میں اپنے عزیزوں کی میزبانی کا لطف لے رہا ہوں ، آئندہ پانچ سال میں اس کے گھروں کی اوسط قیمت میں کتنا اضافہ ہو گا ، اور دوسرے ، مکانوں اورمکینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے گزر بسر کے لئے کیا یہاں ’بی‘ بلاک کی مارکیٹ میں میڈیکل سٹور کھول لینا چاہیے یا درمیانی سی فیس والا دیسی انگلش میڈیم سکول بہتر رہے گا ۔ خیر ، ان مسائل میں کیا سر کھپاتا ، فی الحال تو یہی سمجھ میں نہیں آرہا کہ مرگلہ پہاڑی کے دامن میں جرنیلی سڑک پہ واقع اس نئے سیکٹر کو سرکاری پالیسی کے مطابق ، اسلام آباد ہی میں شامل سمجھوں یا جولیاں اور سرکپ کے ان کھنڈرات کا پچھواڑہ خیال کروں جہاں سکندر اعظم نے سقوط ٹیکسلا کے صلح نامہ پر دستخط کئے ہوں گے۔

سچ یہ ہے کہ اس بستی کو دیکھ کر مجھے برطانوی دارالحکومت کے شمالی مضافات میں اپنا وہ گھر بہت یاد آیا جہاں پہنچ کر منو بھائی نے تو ہمارے ’ہائی بارنیٹ‘ کے علاقے کو لندن کا باغبانپورہ کہا ، مگر ریڈیو پاکستان کے اچھے وقتوں کے پروڈیوسر اور بے تکلف دوست جاوید قصوری ٹیوب سے اترتے ہی فاصلے کی شکایت کرتے ہوئے یوں میرے ’دوالے‘ ہو گئے تھے کہ ’اوئے ، پہلے یہ تو بتا تیرے سٹیشن کو چونگی کو ن سی لگتی ہے ،؟ ۔ یہ شکائت اس لئے بھی جائز ہے کہ سیکٹر بی 17 کی طرح میرا فلیٹ بھی تھانے کچہری کے لحاظ سے تو لندن ہی کا حصہ تھا ، مگر ڈاک کے پتے میں شہر کی بجائے ہرٹس فورڈ کاﺅنٹی کا نام درج کرنا پڑتا ۔ نئے سیکٹر سے اسے یہ مماثلت بھی ہے کہ جس جنگ گلاب کا ذکر برطانوی تاریخ کے اولین ابواب میں کیا گیا ، اس کے کئی معرکے ہمارے ہی محلے میں ہوئے تھے ۔

 غالب نے ’مکاں کو مکیں سے شرف‘ کی جو بات کی تھی اس کا ایک زاویہ یہ بھی ہے ،کہ رہائشی بستیوں کی طرح کبھی کبھار انسانی محل وقوع بھی پیچیدہ سوال بن جاتا ہے ۔ یہ تو ہوا کہ بچپن میں کوئی شخص والدین یا اپنے کسی بھائی بہن کی بدولت پہچانا گیا ہو، جبکہ بڑھاپے میں اکبر الہٰ آبادی کی طرح شاعری اور ججی کی پرواہ کئے بغیر اس کا یہ کہہ تعارف کرا دیا جائے کہ آپ سید عشرت حسین آئی سی ایس کے والد ہیں ۔ یہ تو سب ٹھیک ہے ، لیکن ’کوئے یار‘ اور ’سوئے دار‘ کے درمیان عملی زندگی کا جو قدرے طویل دورانیہ ہے ، اس میں تیسری شارٹ بریک کے بعد مجھ جیسا مبہم پیشہ ورانہ تعارف رکھنے والا آدمی یہ سن کر بغلیں جھانکنے لگتا ہے کہ ’اچھا تو پھر آج کل کیا ہو رہا ہے،؟ اب اس کا کوئی بھی بے ضرر سا جواب دے دیا جائے تو دوستوں کو مطمئن ہو جانا چاہیے ، مگر عملی طور پر ایسا ہوتا نہیں ۔

 اکثر احباب یہ جاننے پر اصرار کرتے ہیں کہ ان کا ’بھائی‘ آج کل کس چینل یا این جی او میں کون سے ممتاز منصب پہ فائز ہے اور انہیں ڈاکٹر خواجہ زکریا کا یہ دل پسند جواب اچھا نہیں لگتا کہ بس بھئی ، بہت عہدوں پہ کام کر لیا ، اب گھر بیٹھ کر کچھ اور پڑھائی لکھائی کر لینے دو ۔ دوست ہیں کہ آپ کی اور اپنی خیر خواہی میں کچھ سننا ہی نہیں چاہتے ، خاص طور پہ میری وضاحت کہ جس ادارے سے مدتوں کل وقتی تعلق رہا ، اب اس میں صرف ’سروس پروائیڈر‘ یا خدمت کنندہ ہوں ، مگر ان خدمات میں خوشبودار تیل کے مساج کی سہولت شامل نہیں ۔ ایک چینل کی مقامی سربراہی کے دوران مزا اس وقت آیا جب ایک صاحب ملتے ہی میرے ادارے کی پرُجوش تعریف کرنے لگے ۔مگر نام ایک اور چینل کا لے رہے تھے ۔ میں بھی یہ سوچ کر ہاں ہوں کرتا رہا کہ دوستی روزگار جتنی عارضی چیز تو نہیں ۔

جن لوگوں نے ’پطرس کے مضامین‘ میں لاہور کا جغرافیہ پڑھ رکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ لاہور عنقریب وسعت میں ایک صوبہ ہو گا اور پنجاب اس کا دارالخلافہ ۔ اسی لئے میں نے بھی یہ پیشین گوئی کی کہ کچھ دنوں میں لاہور کی ڈی ایچ اے ایک بڑا شہر ہو گی اور لاہور اس کا ایک محلہ ہوگا جس میں تاریخ داں خورد بینوں سے یہ پتا چلائیں گے کہ یہاں دریائے راوی بہتا تھا ، یہیں کہیں انارکلی تھی ، جہاں سے میاں میر کی چھاﺅنی کو جاﺅ تو بائیں ہاتھ ایک پرُشکوہ احاطے میں ایک پچاس ہزاری منصبدار رہا کرتا۔ جسے اس زمانے میں گورنر کہتے تھے ۔ راولپنڈی میں جو وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر ہے ، آثار قدیمہ کے آئندہ مغالطے دور کرنے کے لئے ، شہر کی ڈی ایچ اے اور ائرپورٹ کو اسلام آباد میں شامل سمجھ لیا گیا ہے ، جیسے ضلع گجرات کا ایک معروف فوجی تعلیمی ادارہ آج بھی ملٹری کالج ، جہلم کہلاتا ہے ۔

 یہ نکتہ کسی حکمران کی سمجھ میں آسانی سے نہیں آتا کہ نوٹیفکیشن کے ذریعے انتخابی حلقے ، شہر و قصبات کی حدود ، گلیوں اور محلوں کے نام تو طے کئے جا سکتے ہیں ،مگر عملی اطلاق صرف اسی تبدیلی کا ہوگا ۔جسے اجتماعی شعور قبول کر لے اور پھر وہ ہمارے عوامی تخیل کا حصہ بن جائے ۔ اسی لئے منٹگمری کو ساہیوال ، کیمپبلپور کو اٹک ، یہاں تک کہ لائل پور کو فیصل آباد کہہ دینے کی مزاحمت نہیں ہوئی ۔ اس کے مقابلے میں کسی نے راولپنڈی کی مری روڈ کو شاہراہ محمد رضا شاہ پہلوی اور لاہور کی ڈیوس روڈ کو سلطان آغا خان سوئم روڈ کبھی نہ کہا ۔ ہر پرانی بستی کے باسیوں کی طرح لاہورئیے قدامت پرست لوگ ہیں ، اسی لئے میرے ماموں برسوں پہلے دہلی گیٹ چھوڑ دینے کے بعد بھی بارہ دروازوں اور ایک موری ہی کے علاقہ کو شہر سمجھتے ہیں ، اور تین سو گز دور مصری شاہ کو اس میں شمار نہیں کرتے ۔

 احمد ندیم قاسمی نے اپنی ایک غزل میں مادی ترقی کے ’کولیٹرل ڈیمیج‘ کا اشارہ یہ کہہ کر دیا تھا کہ صنعتیں پھیلنے سے ’سرحدیں ڈوبتی جاتی ہیں گلستانوں کی ‘ ۔ پھر بھی اس سے یہ مراد نہیں کہ انگریز کے جانے کے بعد ہماری شہری آبادی کے پھیلاﺅ میں جو تیزی آئی ، پاکستانیوں نے اسے پسند نہیں کیا ۔ قوم تو اس پسند میں خود کو ’اوور ریچ‘ کرنے کی کوشش میں ہے ، بالکل میرے اس کزن کی طرح جو ہفتے کی ہر تیسری رات گھر لوٹتے ہوئے سر خوشی کی کیفیت میں رفتار کم نہیں کرتا اور اپنے دروازے سے آگے نکل جاتا ہے ۔ بی 17 مرگلہ ہلز کے اس کونے سے جڑا ہوا ہے، جس پہ مریض کو بے ہوشی کی دوا دئے بغیر پتھر کوٹنے والی بیسیوں مشینیں اتنی بے دردی سے چلائی جاتی رہیں کہ صبح ازل میرے نام الاٹ ہونے والے پہاڑ کے اس حصہ کی ہڈیاں وفاقی دارالحکومت کی بنیاد کا سرمہ بن گئیں ۔

 آزاد پاکستان میں مرگلہ کی پہلی نواحی بستی واہ چھاﺅنی تھی ، جس کی شان میں برسوں بعد انجینئر شاعر حسن ناصر کے اس گیت کی دھن موسیقار خادم حسین چودھری نے بنائی کہ ’عظمتوں کا نشاں آرڈننس فیکٹری ، پاک فوجوں کی ماں آرڈننس فیکٹری‘ ۔ فرق یہ ہے کہ ملک کا اولین اسلحہ ساز کارخانہ تعمیر کرتے ہوئے بانی ءپاکستان کے مقرر کردہ کنسلٹنٹ سر نیوٹن بوتھ نے ، جنہیں یہودی ہونے کا طعنہ سننا پڑا ، نہ تو تعمیر و ترقی کی خاطر مغلیہ باغ کے چشموں کا رخ موڑنے کی کوشش کی ، نہ سکیورٹی کے نام پر گوردوارہ پنجہ صاحب میں سکھ یاتریوں کی آمد کے سلسلے کو روکا گیا ۔ یوں حسن ابدال کی ولی قندھاری والی پہاڑی کی روشنی آج بھی ان اہل واہ کی آنکھوں کا نور ہے جن کی سول اور سرکاری آبادیوں کے بیچ مزید بم دھماکوں سے بچنے کے لئے اب سے کچھ عرصہ پہلے ہمیں ایک برلن نما دیوار اٹھانا پڑ گئی ۔

 ہر امن پسند شہری انسانی جانی تحفظ اور اس کی خاطر کئے گئے، انتظامات کو عزیز جانتا ہے ۔ پھر بھی اگر اس شہر میں میری طرح کسی کی زندگی کے پچیس سال اور قریبی مرحومین بھی دفن ہوں تو آسان ترکیب یہ ہے کہ وہ پی او ایف اسٹیٹ کے 20 ایریا والے گریو یارڈ سے لالہ رخ کالونی کے عوامی قبرستان تک جانے کے لئے کسی ’پاس بہ جیب‘ فوجی دوست کی کار میں سوار ہو جائے ۔ ورنہ ایک نیم فوجی پروسیجر اختیار کرنا پڑے گا ، یعنی سائل ٹیکسلا کے بیریر پر کاغذات جمع کرا کر ءواہ میں داخل ہو اور دادا کی قبر پہ فاتحہ خوانی کر کے واپس ٹیکسلا چلا جائے ۔ کاغذات واپس لے کر باہر باہر سے حسن ابدال کے انٹری پوائنٹ تک چودہ کلومیٹر کا سفر کرے ، گھڑی کی سوئیوں کے رخ پر ’یو ٹرن ‘ لے ، کاغذات جمع کرائے اور پہلی دائیں سڑک کے آخر پر ماں اور دادی کے سامنے ’فال ان‘ ہو جائے ۔

مرگلہ پہاڑی کی دوسری جانب اسلام آباد میں منتخب حکومت کا احترام چونکہ زیادہ ہے اس لئے رکاوٹ اتنی ہے کہ کار کا لاہوری نمبر دیکھ کر جگہ جگہ اندر باہر سے چیکنگ کر لی اور آپ یہ مصرعہ گنگنا کر چپ ہو گئے کہ ’رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا‘ ۔ کہنے کو تو یہاں بات ختم ہوگئی ، مگر یہاں بھی ایک نظر نہ آنے والی دیوار برلن کھڑی ہے ، اور وہ ہے انسانوں اور انسانی یاد گاروں کی پہچان کی دیوار ۔ ہماری نوجوانی میں اسلام آباد کا تعارف آبپارہ والے کامران ریسٹورنٹ سے شروع ہو کر کینیڈین ایمبسی کی آٹھ آنے کپ کافی پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ اب نئے حوالوں کی فصیل کے پار سنٹورس ، چائے خانہ اور ’کچھ خاص‘ دکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے آگے ہے مونال ویو چلنے کی دعوت اور میری یہ ضد کہ ’میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال‘۔     ٭

مزید :

کالم -