پاک چین اقتصادی معاہدے

پاک چین اقتصادی معاہدے

  

وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ چین کے دوران ان کی چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے آٹھ سمجھوتوں پر دستخط ہو گئے ہیں ۔ اِن منصوبوں میں لاہور اور کراچی کے درمیان موٹر وے کی تعمیر، خنجراب سے راولپنڈی تک اقتصادی راہداری کی تعمیرکے لئے مشترکہ کمیٹی بنانے، گوادر سے کاشغر تک ریلوے اور سٹرکوں کا نیٹ ورک قائم کرنے، 2000 میگاواٹ کے تھرمل پاور سٹیشن قائم کرنے، شمسی توانائی کے منصوبوں ،خنجراب سے حویلیاں تک 200 کلومیٹر طویل سرنگوں کی تعمیر، راولپنڈی سے کاشغر تک فائبر آپٹک بچھانے ، پولیو اور دہشت گردی کے خاتمہ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ چین پاکستان کو دیئے گئے قرضوں پر انشورنس وصول نہیں کرے گا۔ منصوبوں کے لئے سرمایہ چینی بنک دیں گے۔ تاہم سرمایہ کاری کے لئے چین نے پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مکمل تحفظ مانگ لیا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے چینی حکام کو یقین دلایا ہے کہ وہ ہر صورت چینی سرمایہ کاروں کی حفاظت کریں گے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کے خلاف تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی کمپنی نندی پور پاور پراجیکٹ پر دوبارہ کام کرنے پر رضا مند ہو گئی ہے اور اس نے اپنے انجینئروں کو پیر تک پاکستان پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔

چین کے ساتھ اقتصادی رابطے مضبوط کرنے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب و بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کا یہ دورہ بے حد اہم ہے، جن صوبوں کے لئے چین نے سرمایہ کاری اور تعاون کے لئے معاہدے کئے ہیں ، وہ کوئی نیا خیال نہیں ۔ دونوں ملکوں کی طرف سے اس سلسلے میں عرصہ سے غور وخوض ہوتا رہا ہے ۔ گزشتہ حکومتوں کے دور میں ایسے بہت سے دوسرے منصوبے بھی طا ق نسیاں کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان سے ملحقہ اپنے علاقوں کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کاشغر کو گوادر سے ملانے کا چینی قوم کا خواب بہت پرانا ہے۔ پاکستان میں شمال سے جنوب تک موثر ریلوے لائن اور سٹرکوں کا جال بچھانا جہاں ہماری معیشت کو بے حد فعال اور مضبوط کرنے کا باعث ہو گا وہاں اس کے ذریعے وسعت پذیر برآمدات والے چین کو بھی اپنا تجارتی مال خلیجی ، افریقی اور یورپی ممالک تک پہنچانے کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ سٹرکیں ، سرنگیں، ریلوے اور بس سروس جیسے کا م میں بہت سے ممالک اس طرح سے سرمایہ کاری کے لئے بھی آمادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ ہم سے ایک پیسہ لئے بغیر یہ سب کچھ تعمیر کردیں۔انفراسٹرکچر بنانے کے بعد کچھ برسوں کا ٹول ٹیکس یا اپنی ریلوے وغیرہ کا کرایہ وصول کرکے نفع حاصل کرلیں ۔ اس طرح ان کی تعمیر کے اخراجات بعد میں انہیں استعمال کرنے والے افراد اور ادارے ٹول ٹیکس وغیرہ کی صورت میں برداشت کرلیتے ہیں۔ اس طرح کی آفر1987ء کے زمانے میں ایک جاپانی فرم نے لاہور میں واشنگٹن ڈی سی کے معیار کا انڈر گراﺅنڈ ریلوے سسٹم قائم کرنے کے لئے کی تھی۔ اس کے مطابق اس فرم نے پاکستان سے ایک پیسہ لئے بغیر پورے لاہور کو پانچ سال کے عرصے میں زیر زمین ریلوے کے ذریعے ملا دینا تھا۔ ریل گاڑیاں خود چلانی تھیں۔دس سال بزنس کرنا تھا اور اس کے بعد پورا سسٹم مع چالو گاڑیوں کے حکومت پنجاب کو مفت دے کر چلے جانا تھا، لیکن یہ عظیم منصوبہ اس وقت کی بیوروکریسی کے رویے کی وجہ سے سرے نہ چڑھ سکا۔ وجہ یہی ہوگی کہ بیورو کریسی کو من پسند کمیشن نہیں مل سکاہو گا۔

چینی حکومت کی طرف سے پاکستان کو اپنے سرمایہ کاروں کو دہشت گردوں سے مکمل تحفظ دینے کے لئے کہا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک بیرونی سرمایہ کار پاکستان آنے کا حوصلہ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ بہت سے سرمایہ کاروں نے بیورو کریسی کے منفی رویے کی سخت شکایت کی، جس پر نواز شریف نے انہیں اپنا ای میل ایڈریس دیا اور کہا کہ اس ایڈریس سے ان کی ہر بات کا جواب 24گھنٹے کے اندر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیراعظم نواز شریف تک جہاں ای میل کے ذریعے رسائی ممکن ہے وہاں میاں برادران ایسے ہی دوسرے متعدد موثر ذرائع سے کام کرنے والوں کی نگرانی کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ای میل اور کمپیوٹرز کے استعمال کے علاوہ قومی اہمیت کے معاملات پر نظر رکھنے کے لئے بیورو کریٹس سے ہٹ کر اپنے انتہائی قابل اعتماد افراد سے بھی کام لیتے ہیں۔ نگرانی کا یہ طریق کار ہمارے ملک کے معروضی حالات میں بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔ خود ہمارے اپنے ملک کے ہزاروں اور لاکھوں کاروباری اور دوسرے لوگ ایسے ملک دشمن کاموں کی مثالیں دینے کے لئے موجود ہیں، جن میں بیورو کریسی نے اپنے کمیشن بنانے یا دشمن کے آلہ ¿ کار ہونے کی وجہ سے ملکی مفاد کے گلے پر چھری پھیری یا ملک کے لئے انتہائی مفید کاموں کے سلسلے میں تجاویز اور منصوبوں کو دانستہ سرخ فیتے کی نذر کر دیا۔ چین ہمارا مخلص دوست ملک ہے ، پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں کو اپنی حکومت کی اشیر باد ضرور حاصل ہوگی، لیکن بیرونی کمپنیاں جب بیرونی سرمایہ کاری کے سلسلے میں دوسرے ممالک کے بیوروکریٹس سے ہمارے بیوروکریٹس کا موازنہ کرتی ہیں تو وہ ہمارے ملک سے بددل ہوجاتی ہیں ۔ ایک طرف دہشت گرد ہیں اور دوسری طرف اپنے مفادات کو سامنے رکھنے والے بیوروکریٹس ، جن سے بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر حال میں واسطہ پڑنا ہے۔ جب تک ہماری حکومتی مشینری کے کل پرزے سرمایہ کاروں اور بالخصوص بیرونی سرمایہ کاروں کو ”وی وی آئی پی“ کا درجہ نہیں دیتے ، ان کے ساتھ انتہائی اچھے اخلاق سے پیش آتے ہوئے قانونی پیچیدگیوں کو کم سے کم کرتے ہوئے ان کے لئے ہر لحاظ سے معاو ن و مددگار ثابت نہیں ہوتے، اس وقت تک ہم قوموں کی تقدیر بدلنے والے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرپائیں گے، جس طرح بیورو کریسی منتخب سیاسی حکومتوںکی ماتحتی میں کام کرنے اور منتخب حکومتوں کی عزت و تکریم پر مجبو ر ہے اِسی طرح اسے سرمایہ کاروں کی عزت اور ان کی معاونت کا خود کو پابند سمجھنا چاہئے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ”ون ونڈو آپریشن“ کے ذریعے سب کام مکمل ہونے چاہئیں ۔ جونہی کوئی اہم بیرونی کمپنی کسی ایک شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرے ، فورا ہی ایک سینئر افسر کو اس کی معاونت پر مقرر کیا جانا چاہئے ، جو شروع سے آخر تک اس کے تمام کام ازخود تمام متعلقہ اداروں سے کرائے اور قواعد و ضوابط کے علاوہ اسے حکومتی پالیسیوں اور فراہم کی جانے والی سہولتوں کے متعلق تمام معلومات فراہم کرے۔ ایک بار آجانے والے سرمایہ کار کو ملک میں سرمایہ لگانے کے لئے تمام مراحل سے گزارنا اور اسے سرمایہ کاری پر آمادہ رکھنا اس افسر کی ذمہ داری ہونا چاہئے۔ اگر اس کے ساتھ منسلک بیرونی کمپنی کسی سرمایہ کاری کے بغیر ہی واپس چلی جاتی ہے تو اسے اس افسر کی ناکامی تصور کیا جانا چاہئے۔

انفراسٹرکچر کی تعمیراور بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے علاوہ چین ہمارے ملک میں قیمتی پتھروں کی مائننگ اور اس کی کٹنگ پالشنگ کے مراکز قائم کرکے ہمارے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرکے ہمارے روبی، ٹپاز، زمرد جیسے قیمتی پتھروں کی امریکہ و یورپ کی مارکیٹوں میںقیمت بھی ( تراشیدہ اور پالش شدہ پتھر کی صورت میں) ایک سو گنا زیادہ کراسکتا ہے۔

ریکوڈک جیسی سونے اور تانبے کی کانیں ہمارے پاس اتنا بڑا قیمتی خزانہ ہیں کہ ان کی موجودگی میں قرضے مانگتے ہوئے دُنیا کی نظروں میں ہماری قوم احمقوں کی قوم بن کے رہ جاتی ہے۔ ہر طرح کے قیمتی معدنی وسائل قومی دولت ہیں او ر ان پروفاقی حکومت کا کنٹرول ہے۔ لیکن ایسی قیمتی معدنیات سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ، ان سے آنکھیں بند کئے رکھنے کی منطق سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ اگر امریکہ کی بعض فرمیں ریکوڈک جیسی کان کے لئے (ایک حالیہ خبر کے مطابق) 100 ارب ڈالر کی پیشکش کرنے کو تیار ہیں اور بعض دوسرے کمپنیاں بھی اِس سلسلے میں بیتابی کا مظاہرہ کررہی ہیں تو اس قومی خزانے سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے اس کام کو التواءمیں ڈالے رکھنا یا پھر ذاتی مفاد کے لئے کم قیمت پر ٹھیکہ دے دینا آخر کس کے فائدے میں ہے؟ ان سب باتوں پر وفاقی حکومت کو فوری توجہ دینی چاہئے۔ میڈیا پر بھی لازم ہے کہ وہ کسی طرح کی مصلحتوں کا شکار ہوئے بغیر قوم کے بے پناہ معدنی وسائل کے سلسلے میں تحقیقات کرے اور دیکھے کہ قوم کی ملکیت قیمتی معدنیات کی کتنی ایسی کانیں ہیں جو سرکاری کاغذات میں تو بند پڑی ہیں ، ان کی آمدنی سے ایک پیسہ بھی قومی خزانے میں نہیں پہنچتا، لیکن وہاں اندر کھاتے کان کنی کرکے مافیاذمہ دار افسروں کے ساتھ مل کر کروڑوں اور اربوں روپے کی قومی دولت لوٹ رہا ہے۔

چین کے ساتھ ہمارے تجارتی روابط کا مضبوط ہونا کئی لحاظ سے ہمارے دفاع اور ملکی استحکام کا مضبوط ہونا بھی ہے۔ اِس لئے ہمیں اپنے قریبی مخلص دوست کے تاجروں کی شکایات پر توجہ دیتے وقت انہیں عام کاروباری لوگوں کی شکایات سے مختلف سمجھنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں پاکستان آنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں چین کے علاوہ دوسرے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، جو آ رہے ہیں ان کے ساتھ ہماری بیورو کریسی کا سلوک ہی دوسروں کے یہاں آنے یا نہ آنے کے فیصلے کی بنیاد بنے گا۔ اگر ہم اپنے سب سے اچھے اور آزمودہ دوست اور مشترکہ مفادات رکھنے والے ملک (جس کے متعلق ہم سب کے جذبات بہت اچھے اور مثبت ہیں) کے سرمایہ کاروں سے بھی اچھا سلوک کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو پھر کون سی قوم ہوگی جو ہمارے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں شامل ہونا چاہے گی؟ چین کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنا اور چینی سرمایہ کاروں کا دل و جان سے استقبال کرناہماری قوم کی تمنا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ کی کامیابی سے قوم خوش ہوگئی ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انہوں نے جو راہ متعین کی ہے بیورو کریسی اسے کس حد تک کشادہ کرتی ہے؟   ٭

مزید :

اداریہ -