وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب، ترقیاتی منازل طے ہوں گی!

وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب، ترقیاتی منازل طے ہوں گی!

  

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا دورہ چین ترقی کے حوالے سے کامیاب رہا اور جومعاہدے کئے گئے ان کے تحت پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں سے مستقبل میں اقتصادیات بھی بہتر ہوں گی یوں بھی پاک چین دوستی کی تجدید ہوئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ملک کے اندر حالات میں نمایاں فرق ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی اب تو لوگ کہتے کہ یہ سب بجلی کے نرخ بڑھانے کی حکمت عملی ہے کیونکہ وفاقی وزیر پانی اور بجلی خواجہ آصف نے قیمت بڑھانے کا اعلان بھی کر دیا ہے، چنانچہ اب جو بل آنا شروع ہوں گے تو سب وعدے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اس کے ساتھ ہی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اسے روکنا بھی سود مند نہیں، یہ تو نرخوں کی واپسی سے ہی نیک نامی ممکن ہو سکتی ہے اس کی ملک میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہاں تو نرخ بڑھ جائیں وہ کبھی واپس نہیں ہوتے۔

دوسری طرف آئی ایم ایف کی طرف سے قرضے کے حوالے سے جو بریفنگ دی گئی ہے اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نجکاری کا عمل شروع ہو گا۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی بے چینی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے یہ درست کے سٹیل ملز ہو یا پی آئی اے اور ریلوے کے علاوہ کوئی اور سرکاری محکمہ ہر جگہ عملہ زیادہ ہی نہیں بہت زیادہ ہے کیونکہ حکمرانوں کو ملازمتیں دینے کے لیے یہ ادارے ہی آسانی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ان کا حل نجکاری نہیں بلکہ صحیح قسم کے انتظامی اقدامات ہیں۔ ان میں مناسب طریقے سے رائٹ سائیزنگ (گولڈن ؟؟؟ ) ہو سکتی ہے اور یہ انتظامیوں کو دور کر کے پیداوار اور سروس بہتر کر کے نقصان سے منافع کی طرف جایا جا سکتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا ہے آئی۔ ایم۔ ایف کے ترجمان کے بیان سے تو لگتا ہے کہ نجکاری ہی حل سمجھا گیا ہے اس سے بے چینی پیدا ہونا لازمی ہے ۔

بہتر اور بہترین حل یہی ہے کہ جو کام دہشت گردی کے حوالے سے شروع ہونے والا ہے اسے تمام ؟؟؟ تک پھیلا دیا جائے۔ اور ہر اہم تر مسئلہ پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے اس مقصد کے لیے نمائندہ قومی سلامتی کی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جو مستقل کام کرتی رہے اور اس کی سفارشات کو پذیرائی بھی ہو۔

عوام بلکہ عوام الناس کی سمجھ سے تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے۔ کل تک عمران خان وزیراعظم کو مشتاورتی اجلاس بلانے کا کہہ رہے تھے اور انہوں نے خط بھی لکھ دیا تھا لیکن جونہی وزیراعظم نے اجلاس بلا لیا ہے تو وہ خود لندن روانہ ہو رہے ہیں شیریں مزاری کے بقول وہاں ڈاکٹروں سے وقت لیا جا چکا ہوا ہے اور طبی معائنہ ضروری ہے کہا تو یہ جا رہا تھا کہ بیرون ملک علاج نہیں کرایا جائے گا اب یہ طبی معائنہ کیا علاج نہیں ہوتا؟ بہرحال عوام کیا سوچ رہے یہ انٹرنیٹ پر فیس بک ٹوئیٹر(سوشل نیٹ ورکنگ) کے ذریعے علم نہیں ہوتا۔

مزید :

تجزیہ -