باپ ہو تو ایسا، بیٹے ہوں تو ایسے

باپ ہو تو ایسا، بیٹے ہوں تو ایسے
باپ ہو تو ایسا، بیٹے ہوں تو ایسے
کیپشن: pic

  

13مارچ1977ءکا دن میری زندگی کا دو اعتبار سے تاریخی دن ہے، اس روز میری شادی تھی اور مَیں اپنی بارات لے کر جہانیاں کے قریب ایک مشہور قصبے دنیا پور گیا تھا۔ وہیں نکاح کی تقریب میں پہلی بار لالہ صحرائی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مختلف رسائل و جرائد کے حوالے سے اُن کا نام میرے لئے بہت مانوس تھا، چنانچہ اُن سے بالمثافہ ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی ۔وہ بھی اتنی محبت، تپاک اور چاہت سے پیش آتے کہ پھر ان سے بار بار ملنے کو جی چاہتا اور مَیں جب بھی دنیا پور جاتا اور وہاں بے شمار مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا تو مَیں موصوف محترم سے ملنے کی خاطر لازماً جہانیاں کا سفر بھی کرتا تھا اور ان کی معیت میں جتنا وقت گزرتا وہ زندگی کا یادگار وقت بن جاتا۔چودھری محمد صادق صاحب کو مَیں نے بحیثیت انسان اخلاق اور حسن ِ سلوک کی اعلیٰ بلندیوں پرفائز دیکھا۔ وہ مہمان کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھتے، اُس کی بار بار تواضع کرتے، لیکن بار بار اپنے عجز کا اظہار بھی کرتے جاتے....” مَیں شرمندہ ہوں، جس قدر آپ کی خدمت ہونی چاہئے ،وہ نہیں ہو رہی۔ اس کوتاہی پر مجھے معاف کر دیجئے“ وغیرہ۔

چودھری صاحب شیریں گفتار تھے۔ اُن کی محفل میں گھنٹوں گزر جاتے، لیکن اکتاہٹ کا احساس نہ ہوتا۔ مختلف موضوعات پر اُن کا مطالعہ غیر معمولی تھا اور ان کی گفتگو میں اتنی ورائٹی اور وسعت ہوتی تھی کہ دل نہال اور روح سرشار ہو جاتی، گفتگو میں تازگی پیدا کرنے کے لئے وہ لطیفے بھی سناتے، مگر ان کا تناسب وہی ہوتا، جو آٹے میں نمک کا ہونا چاہئے ،حالانکہ طنزو مزاح کے حوالے سے بھی ان کی تحریروں کی تعداد اچھی خاصی ہے، مگر ان کی گفتگو میں کبھی بھی غیر سنجیدگی کا عنصر پیدا نہ ہوتا۔ ایک خاص قسم کا وقار اور رکھ رکھاﺅ چودھری صاحب کے کردار کا لازمی حصہ تھا۔

اس تعارف کے بعد مَیں نے موصوف محترم کی دستیاب تحریروں کا مطالعہ کیا اور یہ دیکھ کر بے حد متاثر ہوا کہ ان کی نثر میں معیاری، مثالی اور بہترین نثر کی ساری خصوصیات اپنی مکمل شان کے ساتھ موجود ہیں۔ میری اس رائے میں قطعاً مبالغہ نہیں ہے، کوئی بھی صاحب ِ ذوق قاری ان کی نثری تخلیقات ”نور منارہ“ اور ”چمن میری امیدوں کا“ کا مطالعہ کر کے اِسی تاثر تک پہنچے گا۔ ان کی ساری نگارشات ایک پاکیزہ مقصدیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے ایسے موضوعات پر لکھا ہے، جن سے اعلیٰ اخلاقی قدروں کو جلا ملتی ہے اور ایسی شخصیات کو منتخب کیا ہے، جو اپنے وقت میں اس معاشرے کے بہترین لوگ تھے، چنانچہ میراگمان ہے کہ لالہ صحرائی کو اُن کی زبان سے نکلی ہوئی کسی بات کے لئے اور قلم سے برآمد ہونے والے کسی فقرے کے لئے اللہ کے حضور شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔

لالہ صحرائی کی زندگی اور کردار کا ہر پہلو روشن اور تابناک ہے۔ باتیں کرتے تو مُنہ سے پھول جھڑتے تھے اور تحریر ایسی کہ ادب و انشاءکی ساری خوبیاںاُن پر واری صدقے جائیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہینڈ رائٹنگ ایسا کہ پہلی ہی نظر میں دل اور دماغ کو تسخیر کر لیتا تھا۔ظاہری و باطنی خوبیوں نے چودھری صاحب کو مستجاب الدعوات بنا دیا تھا۔ وہ جو دُعا کرتے قبول ہوتی۔ اُس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ساری عمر نثر لکھتے رہے، لیکن اللہ کے دین سے اور نبی پاک کی ذاتِ اقدس سے انہیں جو غایت درجے کی محبت تھی، اس حوالے سے انہوں نے اللہ سے دُعائیں کیں کہ انہیں نعت لکھنے کی سعادت حاصل ہو جائے۔ یہ دُعائیں قبول ہوئیں اور پھر اُردو شاعری کی تاریخ میں ایک معجزہ رونما ہوا اور وہ نعت لکھنے لگ گئے اور چند ہی سال میں نعتوں کے متعدد مجموعے منظر عام پر آ گئے۔

چودھری محمد صادق کی دُعاﺅں کی قبولیت کا مَیں خود عینی شاہد ہوں۔ جسے ان کی کرامت سے بھی تعبیرکیا جا سکتا ہے۔1988ءکے زمانہ ¿ حج میں موصوف محترم نے مجھے مکہ مکرمہ سے خط لکھا کہ مَیں نے آپ کے لئے بہت دُعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حج کی سعادت سے جلد بہرہ یاب فرمائے۔ واپس پاکستان آ کر انہوں نے جہانیاں سے پھر خط لکھا کہ مَیں نے حرم کعبہ میں آپ کے لئے اتنی دُعائیں کیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ دُعائیں قبول ہو گئی ہیں۔چنانچہ حیرت انگیز طور پر تقریباً ایک ہی مہینے کے بعد جدہ میں مقیم اپنے ایک کلاس فیلو دوست کا خط آ گیا۔ اس دوست سے کم از کم20سال سے کوئی رابطہ نہیں تھا ، دو سال پہلے جب اُس کے ہاںایک حادثہ پیش آیا تھا، تو مَیں نے اس کا پتہ معلوم کر کے اسے ہمدردی کا خط لکھا تھا۔ بہرحال چودھری صاحب کا خط ملنے کے بعد جلد اُس دوست کا خط آ گیا، جس میں لکھا تھا کہ اگلے سال 1989ءمیں مَیں حج کروں گا۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ بھی آ جائیں اور ہم اکٹھے حج کریں۔ آپ کا ارادہ بنے تو مَیں آپ کو سپانسر کا ڈرافٹ بھیج دوں۔

مَیں نے جواب میں اس کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ چونکہ تنخواہ کے سوا میری آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ بھی نہیں ہے، اس لئے مَیں20ہزار روپے کی رقم یکمشت ادا نہیں کر سکتا، تاہم اگر آپ انتظار کر سکیں تو، مَیں آسان قسطوں میں اس رقم کی ادائیگی کر دوں گا۔ اس مہربان دوست نے مجھے ڈرافٹ بھیج دیا اور جب مَیں حج کے لئے سعودی عرب پہنچا تو اُس نے پہلی ہی ملاقات میں حرم کعبہ میں کھڑے ہو کر کہا کہ رقم کی واپسی کی فکر نہ کریں وہ میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہے اور اس طرح لالہ صحرائی کی دُعائیں حیرت انگیز طور پر قبول ہو گئیں اور مَیں اللہ کے خاص فضل و کرم سے حج کی سعادت سے بہرہ یاب ہو گیا۔ ورنہ:

کہاں مَیں کہاں یہ نکہتِ گل

نسیم صبح تیری مہربانی

 حج کے بارے میں میرا نقطہ ¿ نظر یہ تھا کہ چونکہ یہ فرض عبادت ہے، اس لئے یہ اپنے ہی پیسے سے ادا ہونی چاہئے، چنانچہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2004ءمیں مَیں نے دوسری بار حج کیا اور میرا ذہن مطمئن ہو گیا۔

 مَیں چودھری محمد صادق کے بیٹوں کو خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ چودھری صاحب کی منظومات کے15مجموعے ہیں، جن میں سے 11 اُن کی زندگی میں شائع ہوئے اور چار اُن کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوئے اور ان سب کا اہتمام اُن کے بیٹوں نے کیا اور اس صورت حال میں کیا کہ ان سے کسی بھی مالی منفعت کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس سلسلے میں خصوصاً ڈاکٹر جاوید صادق صاحب نے غیر معمولی اخلاص و ایثار اور محبت کا مظاہرہ کیا۔ کتابیں چھپتیں تو وہ انہیں چودھری صاحب کے سارے دوستوں کو پیش کرتے اور ساری ہی معروف لائبریریوں تک پہنچاتے۔ خصوصاً ”یاد نامہ لالہ صحرائی“ کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کے لئے انہوں نے جو محنت کی، جو بھاگ دوڑ کی، وہ بڑی ہی ایمان افروز اور فکر انگیز ہے۔ خصوصاً ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی جیسے انتہائی مصروف شخص کو اس کام پر آمادہ کر لینا اور پھر کام لے لینا ڈاکٹر جاوید کا بہت بڑا کارنامہ ہے اور اس کے لئے ڈاکٹر ہاشمی بھی لائق تحسین ہیں۔

مادہ پرستی اور خود غرضی کے اس دور میں جب قریبی رشتوں کا احترام کم ہوتا جا رہا ہے، ڈاکٹر جاوید نے اپنے والد ِ گرامی کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے جو تگ و دو کی ہے اور پھر جگہ جگہ رونمائی کی تقریبات کا جو اہتمام کیا ہے، وہ اپنی نوعیت کی بڑی ہی نادر مثال ہے۔ اسی لئے انہیں بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ باپ ہو تو ایسا، بیٹے ہوں تو ایسے۔

مزید :

کالم -