رمضان کے لئے متوازن خوراک

رمضان کے لئے متوازن خوراک
رمضان کے لئے متوازن خوراک

  



مسلمانوں کے لئے رمضان ایک مقدس مہینہ ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ جہاں رمضان کے روزے رکھتے ہیں ، وہیں سحری و افطاری کا بھی بہت اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے دسترخوانوں پر طرح طرح کے کھانے موجود ہوتے ہیں جن میں کیلوریز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان میں زیادہ تر ہم وطن بہت سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بوقت مجبوری ہی کوئی جسمانی ایکٹیویٹی یا سرگرمی دکھاتے ہیں۔ زیادہ خوراک اور زیادہ آرام کرنے سے ہمارے ہاں رمضان میں لوگوں کا وزن بڑھ جاتا ہے اور کچھ لوگوں کے خون کا لیپڈ لیول (dyslipidemias)بڑھ جاتا ہے اور دیگر طبی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔

رمضان کے دوران متوازن خوراک اور پانی کی مناسب مقدار کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے۔انسانی جسم کا اہم عضو گردے جسم میں مؤثر طریقے سے پانی اور نمکیات کی سطح برقرار رکھتے ہیں، تاہم زیادہ پسینہ آنے سے یہ توازن خراب ہوسکتا ہے۔ روزے کے دوران ، جسم میں موجود گلوکوز جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے جس کے بعد جسم کی چربی جسم کو توانائی فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ سحری اور افطاری کے دوران کافی وقت ہوتا ہے کہ اس استعمال شدہ توانائی کو دوبارہ سے سٹور کرلیا جائے۔ جسم کو توانائی فراہم کرنے کے لئے گلوکوز کے بعد جسم کی چکنائی کا استعمال پٹھوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے۔ پٹھوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لئے خوراک میں ’’انرجی فوڈ ‘‘ جیسا کہ کاربو ہائیڈریٹ اور کچھ فیٹ (Fat) کی مناسب مقدار ہونا ضروری ہوتا ہے۔لہٰذا مناسب غذائی اجزاء ، نمکیات اور پانی کے ساتھ ایک متوازن غذا ضروری ہے۔محمدﷺاپنی خوراک میں عام طور پر دودھ، کھجور، بھیڑ کا گوشت اور جو کا استعمال کرتے تھے۔

ذیل میں رمضان میں صحت مند خوراک کھانے کے لئے چند تجاویز دی گئی ہیں۔

کاربوہائیڈریٹ: برصغیر میں جون جولائی کے دن بڑے ہوتے ہیں اس لئے روزے کا دورانیہ بھی بڑا ہوتا ایسے میں کاربوہائیڈریٹ کا استعمال بہت مؤثر ہوتا ہے کیونکہ کاربوہائیڈریٹ ایسی غذا ہے جو آہستہ آہستہ ہضم ہو کرجسم کو توانائی فراہم کرتی ہے ۔ گندم، باسمتی چاول، جو، سوجی، پھلیاں، مسور، دالوں یعنی اناج اور بیجوں والی غذا میں کاربوہائیڈریٹ پایا جاتا ہے۔ فائبر سے بھرپور کھانے کی اشیاء بھی آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں۔ مختلف سیریلز، چوکر، گندم، اناج اور بیج، سبزیاں جیسا کہ سبز پھلیاں اور تقریباً تمام پھل جن میں خوبانی، آلوبخارہ، انجیر شامل ہیں، میں فائبر کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ سبزیوں اور پھلوں میں مختلف وٹامن اور نمکیات کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ جسم کے لئے شوگر، فائبر، کاربوہائیڈریٹ، پوٹاشیم اور میگنیشیم حاصل کرنے کے لئے کھجوریں بہترین ذریعہ ہیں۔

پانی کی مناسب سطح: جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں، لیکن خاص طور پر شدید گرمیوں کے موسم میں روزے کے دوران پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہم دودھ، ملک شیک، سمودیز، مشروبات اور ناریل پانی وغیرہ سے اپنے جسم میں پانی کی سطح برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر ہم ایسے مشروبات استعمال کریں جن میں کیفین موجود ہو جیسا کہ کافی، چائے اور کولاتو جسم میں جلد ہی پانی کی کمی ہوجاتی ہے کیونکہ کیفین پیشاب آور ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے بار بار پیشاب آتا ہے۔

پروٹین کا استعمال: جسم میں توانائی کی مقدار پوری رکھنے کے لئے گوشت کی کم مقدار ، مچھلی، چکن اور انڈے استعمال کریں۔خوراک میں ایک یا دو کھانے کے چمچ کے برابر ڈرائی فروٹ کے استعمال سے جسم کو پروٹین اور فائبر کی اچھی مقدار مل جاتی ہے۔ ڈرائی فروٹ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں چکنائی بھی کم ہوتی ہے۔ کم چکنائی والا دودھ اور ڈیری کی دیگر مصنوعات جیسا کہ دہی، پنیر وغیرہ بھی ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کے لئے بہت مفید ہوتی ہیں۔

چکنائی کا استعمال: چکنائیوں کا استعمال کرتے وقت احتیاط سے کام لیں کیونکہ کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کی نسبت ان میں دُگنا کیلوریز ہوتی ہیں۔ چکنائیت سے بھرپور اور تلی ہوئی اشیاء صحت کے لئے مناسب نہیں ہوتیں اس لئے ان کا محدود استعمال کریں کیونکہ یہ اشیاء زود ہضم ہوتی ہیں، تیزابیت پیدا کرتی ہیں جس سے سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے اور وزن کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ گوشت، جھینگا مچھلی اور کیکڑے کی زیادہ مقدار، آئس کریم، پھینٹی ہوئی کریم، کریم یا پنیر کی بنی ہوئی چٹنیاں، پیسٹری، ڈو نٹس، کریم رول، تلے ہوئے آلو کے چپس یا فرینچ فرائیزوغیرہ چکنائی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ ان کی جگہ آپ دیگر اشیاء کا استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ اشیاء کو ڈیپ فرائی کرنے کی بجائے کم فرائی (shallow fry) کریں۔ عام طور پر ان دونوں طریقوں کے ذائقوں میں معمولی فرق ہوتا ہے۔

فرائی یعنی تلنے کی بجائے گرلڈ فوڈ (grilled food) یا بیکڈ فوڈ (baked food) صحت کے لئے مفید ہوتی ہیں ۔ان کھانوں میں کھانے کا اصلی ذائقہ برقرار رہتا ہے جیسا کہ مچھلی اور چکن۔ایک بات یاد رکھیں کہ پروسیس کی ہوئی غذا یا جنک فوڈ (junk food) سے مکمل طور پر پرہیز کریں۔ ان غذاؤں کی تیاری میں آسانی اور استعمال نہایت آسان تو ہے، لیکن ان میں خاص طور پر پروسیس فوڈ میں عام طور پر ہائی فروکٹوز کارن سیرپ ، ایم ایس جی ( ذائقہ کو بڑھانے والے کیمیکل)، خوراک زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے والے کیمیکل، بہت سا سوڈیم اور تیل شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح وائیٹ فوڈ مثلاً وائیٹ ڈبل روٹی، وائیٹ رائس، چینی وغیرہ یا ریفائنڈ فوڈ (refined food) کا بالکل استعمال نہ کریں۔ یاد رکھیں، آپ اپنے لئے جس بھی خوراک کو پسند کرتے ہیں ، اس خوراک کو متوازن ہونا چاہئے جس میں صحت مند اجزاء شامل ہوں۔ اچھے اور مناسب طریقے سے پکی ہوئی غذا کھانے سے مزہ تو آتا ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس خوراک سے آپ کی صحت بہتر رہتی ہے، وزن کنٹرول میں رہتا ہے اور بھرپور طاقت بھی ملتی ہے۔ *

مزید : کالم