3 سال قبل لاپتہ ہونے والی ملائیشین ائیرلائن کی پرواز MH370 تو آپ کویاد ہوگی، بالآخر اب سائنسدانوں نے اس طیارے کو ڈھونڈ نکالا، اب تک تلاش ناکام کیوں رہی اور کہاں سے ملا؟ انتہائی حیران کن وجہ بھی بتادی

3 سال قبل لاپتہ ہونے والی ملائیشین ائیرلائن کی پرواز MH370 تو آپ کویاد ہوگی، ...
3 سال قبل لاپتہ ہونے والی ملائیشین ائیرلائن کی پرواز MH370 تو آپ کویاد ہوگی، بالآخر اب سائنسدانوں نے اس طیارے کو ڈھونڈ نکالا، اب تک تلاش ناکام کیوں رہی اور کہاں سے ملا؟ انتہائی حیران کن وجہ بھی بتادی

  


سڈنی (نیوز ڈیسک)ملائیشین ائیرلائن کی پرواز ایم ایچ 370 کو لاپتہ ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اب جبکہ اکثر لوگ اس فضائی حادثے کو بھول ہی چکے تھے تو کچھ سائنسدانوں نے دعویٰ کردیا ہے کہ انہوں نے پرواز ایم ایچ 370کا سراغ لگا لیا ہے۔

ملائیشین ائرلائن کا بوئنگ777 طیارہ کوالا لمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے 8مارچ 2014ءکے روز لاپتہ ہوا تھا۔ اس میں عملے سمیت 245 افراد سوار تھے۔ طیارے کی تلاش کیلئے کئی ممالک کی ٹیموں نے مشترکہ آپریشن کا آغاز کیا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود کچھ پتہ نہ چل سکا تھا۔ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اب آسٹریلیا کے ادارے ’کامن ویلتھ سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن‘ کے ماہرین نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے سراغ لگا لیا ہے کہ پرواز ایم ایچ 370کہاں گری اور اس وقت اس کا ملبہ کہاں ہے۔ ان ماہرین کے مطابق طیارے کا ملبہ جنوبی بحر ہند کے سیونتھ آرک سمندری علاقے میں موجود ہے۔ اس علاقے میں گزشتہ سال کے دوران بھی دو مرتبہ تلاش کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

امریکی صدر کو سی این این بالکل پسند نہیں، یہ بات بتانے کیلئے انہوں نے ایک ایسی ویڈیو جاری کردی جس کی آپ کو ان سے بالکل توقع نہ ہوگی

ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپیشلسٹ سونار، ویڈیو کیمروں اور سینسرز کی مدد سے دو سال کی تحقیق کے بعد پتہ چلایا ہے کہ طیارے کا ملبہ اسی علاقے میں ہے۔ اس سے پہلے افریقہ کے مشرقی ساحل کے قریب طیارے کے پر کا ایک حصہ مل تھا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ شمال مغرب کی سمت بہنے والی سمندری موجوں کی وجہ سے طیارے کا ملبہ بہتا چلا گیا اور اس کا پتا چلانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ ماہرین نے اس دریافت کو ایم ایچ 370 کے ملبے کی تلاش میں اب تک کی سب سے بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد ہی سمندر کی تہہ میں موجود ملبے تک رسائی حاصل کرلی جائے گی۔

مزید : بین الاقوامی