برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات (2)

برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات (2)
برہان مظفر وانی کی شہادت مظلوم کشمیریوں کے لئے پیام نجات (2)

  


برہان شہیدکے والدمظفروانی کہتے ہیں ’’بھارتی فوجیوں کے مظالم کی داستانیں سن کر کم عمربرہان بے چین ہو جایا کرتاتھا۔وہ بھارت فورسزکے مظالم کے کئی واقعات اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ چکاتھالہندا درندہ صفت فوجیوں کے خلاف اس کے دل میں نفرت کالاواپک رہا تھا۔ بڑے بھائی خالد کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد وہ بہت بے چین رہنے لگا تھا۔ پھر ایک دن موسم سرما کی صبح وہ اچانک گھر سے غائب ہو گیا۔ یہ 16اکتوبر کا دن تھا اور صرف دس دن بعد اس کا دسویں کلاس کا سالانہ امتحان تھا۔ نویں جماعت میں میرے بیٹے نے پورے کشمیرمیں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی۔وہ ایک خاموش طبع،حساس،دیندار اور ہونہار طالب علم اور ایک اچھا کرکٹر تھا۔کچھ عرصے بعد ہمیں اطلاع ملی کہ وہ حرب المجاہدین میں شامل ہو چکا ہے‘‘۔ تھوڑاہی عرصہ بعد حزب المجاہدین نے اس کی صلاحیتیں دیکھ کر باقاعدہ کمانڈر ڈکلیئر کر دیا۔اگلے پانچ برس تک برہان سیکیورٹی فورسزکو تگنی کا ناچ نچاتا رہا۔اس دوران وہ مقبوضہ وادی کا سب سے مقبول جہادی کمانڈربن چکا تھا۔ اس کی حیثیت ایک افسانوی کردار جیسی تھی۔نوجوان کشمیری نسل نے اسے اپنا رول ماڈل قرار دیا اور پورے کشمیر میں بچے بچے کی زبان پراس کا نام تھا۔ نو عمر برہان آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دوسرے بڑے مُلک بھارت کے حکمرانوں اور جرنیلوں کے لئے چیلنج بن چکا تھا اس کا ذکر نام نہاد کشمیر اسمبلی میں بھی ہوتا، بعض ارکان اسمبلی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ حکومت مظفروانی سے مذاکرات کرنے ۔ برہان وانی کی انفرادیت اورخوبی یہ تھی کہ اُس نے کبھی اپنا نام نہیں چھپایا، اپنا منہ نہیں ڈھانپا۔ وہ جرأت اور بہادری کا استعارہ بن چکا تھا وہ بھارت سرکار،اس کے جرنیلوں، پولیس افسروں اور کٹھ پتلی حکومت کو للکارتا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ظلم،جبر، تشدد اورخونِ ناحق ہمیشہ ردعمل کو جنم دیتا ہے ۔بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ظلم کے ہتھکنڈوں سے آزادی کے بڑھکتے شعلوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں، لیکن بھارتی فوج کا ظلم آزادی کے شعلوں کو مزید تیز ترکر رہا ہے۔ یہی معاملہ برہان وانی شہیدکا تھا۔ بھارتی فوج کے مظالم نے اسے شعلہ مستعجل اور پھر آتش فشاں بنا دیا۔برہان وانی کو جہاں جہاد اور شہادت سے بے پناہ محبت تھی وہاں وہ پاکستان کا بھی والا وشیدا تھا۔وہ اکثرجماعہ الدعوۃ کے امیر پروفیسرحافظ محمد سعید کا تذکرہ کرتا اور انہیں اہلِ کشمیر کا محسن و محب قرار دیتا۔وہ کہا کرتا تھا کہ پروفیسر حافظ محمد سعید سے بات اور ملاقات کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے۔

پانچ برس کے دوران برہان وانی شہید نے قابض بھارتی فوجیوں کے خلاف کئی خطرناک،کامیاب آپریشن کئے اور معرکے لڑے،جن میں بیسیوں فوجیوں کے علاوہ اعلیٰ عہدوں کے حامل بہت سے افسر مارے گئے۔ 2013ء میں جن تین بھارتی فوجیوں نے کشمیری مسلمان بچیوں کی عصمت دری کی تھی،ان کے سر قلم کر کے ویڈیو فلم سوشل میڈیا پر جاری کر دی تھی۔ 2014ء میں برہان نے اپنے14مجاہدوں کے ساتھ ایک گروپ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی،جس میں سب نوجوان ہاتھوں میں کلاشنکوفیں تھامے فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔سوشل میڈیا پر یہ گروپ فوٹو وائرل ہو گیا اور اس نے عالمی توجہ بھی حاصل کی۔اس کے بعد ہی بھارتی حکومت نے برہان وانی شہید کے سرکی قیمت دس لاکھ مقرر کر دی۔ برہان نے اپنی قوم کے جوانوں میں جذبہ جہاد بیدار کرنے کے لئے بندوق کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور فیس بک کو بھی خوب استعمال کیا۔وہ جہادی زندگی ،بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم اور مجاہدین کی بھارتی فوج کے ساتھ معرکہ آرائیوں کی ویڈیو اَپ لوڈ کرتا۔ بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کے مطابق جس چیز نے برہان کو بھارتی حکومت کے لئے مطلوب ترین بنایا وہ اس کی کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت تھی، جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا، جبکہ بھارتی اداروں کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری برہان کے ویڈیو پیغامات سے متاثر ہو کر ہر ماہ اوسطاً 25سے 30کشمیری نوجوان عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے تھے۔

برہان شہید وانی کی جرأت وبہادر سے بھارتی فوج کے سورما خوف کھاتے اور اس کے قریب جانے سے ڈرتے تھے یہی وجہ تھی کہ برہان کے خلاف ہونے والے آپریشن میں بیک وقت تین فورسز راشڑیہ رائفلز، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور سینٹرل ریزرو پولیس نے حصہ لیا۔8جولائی کو برہان وانی ککر ناگ میں اپنے دیگر دو جہادی ساتھیوں کے ہمراہ ایک مقامی دوست فاروق احمدکے گھر میں موجود تھا کہ بھارتی افواج نے فاروق احمد کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔مجاہدتوہروقت اورہر جگہ جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں، سوبراہان اور اس کے ساتھیوں نے بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر مقابلہ شروع کر دیا۔ سہ پہرساڑھے چار بجے شروع ہونے والا مقابلہ پونے چھ بجے تک جاری رہا۔اس مقابلہ میں برہان نے اپنے دو ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کیا۔ 21سالہ برہان وانی کی شہادت پر بھارتی حکومت کو جس شدید ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی مثال مقبوضہ جموں کشمیر کی گزشتہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

لیکن بات وہی ہے جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں کہ جب ایک مجاہد شہید ہوتا ہے تو اس کی جگہ لینے کے لئے کئی مجاہد پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں، جبکہ وانی کی شہادت کا بدلہ لینے کے لئے بیسیوں مجاہد میدان میں آ چکے ہیں۔ ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے بقول برہان وانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سری نگر میں 40بار اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور مجاہدین نے کلاشنکوفوں سے سلامی دی۔بھارتی اور دیگر عالمی میڈیا کے مطابق برہان وانی کی نمازِ جنازہ میں وادی کے تقریباً چھ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے،جبکہ مختلف حصوں میں غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے آزاد رکن انجینئر عبدالرشید نے اپنے حلقہ انتخاب شمالی کشمیر میں نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے کہا شہید برہان پہلے سے زیادہ اب دلوں پر حکومت کر رہا ہے اورکشمیری نوجوان اس کے نقش قدم پر چلنے کے لئے بے تاب ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق برہان وانی شہیدکے فقید المثال جنازے کے فوری بعد تین ہزارسے زائد نوجوان راہِ جہاد کے راہی بنے اور یہ سلسلہ یقیناًاس وقت تک جاری رہے گا، جب تک مقبوضہ جموں کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا۔

مقبوضہ جموں کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں جماعت جماعہ الدعوۃ نے وسیع پیمانے پر برہان وانی کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کیا۔آج برہان وانی کی شہادت کو ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ شہادت کے واقعہ سے لے کر اب تک پورا مقبوضہ جموں کشمیر مسلسل آتش فشاں بنا ہوا ہے،احتجاج جاری ہے تادمِ تحریر وادی کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوجی ، نیم فوجی اداروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو سو کے قریب افراد جام شہادت نوش کر چکے، جبکہ ہزاروں پابند سلاسل ہیں، سینکڑوں پیلٹ گن کا شکار ہو کر بینائی کھو بیٹھے ہیں۔ 30پولیس تھانوں پر حملے ہوئے اور کئی تھانوں سے اسلحہ لوٹنے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ دفاتر پر بھی حملے ہوئے ہیں۔وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے، حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی،سید شبیر شاہ ،میر واعظ عمر فاروق،مسرعالم بٹ، یاسین ملک اور محترمہ آسیہ اندرابی کی اپیل پر وادی میں کاروبارِ زندگی ٹھپ ہے۔برہان وانی کی شہادت پر ردعمل اتنا شدید ہے کہ بھارت کا پایہ تخت دہلی بھی ۔۔۔ دہل کر رہ گیا ہے۔یہاں تک کہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر فاروق عبداللہ کو بھی کہنا پڑا ’’برہان وانی نہ تو پہلا شخص ہے جس نے بندوق اٹھائی اور نہ ہی آخری ہو گا‘‘۔بھارتی میڈیا کے بقول’’تحریک آزادی کی قیادت اس نسل کے ہاتھ میں آ چکی ہے، جنہوں نے میدانِ جہاد ہی میں آنکھ کھولی ہے۔ اذان کی آواز کے ساتھ ہی جو آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی وہ گولی اور ’’ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی‘‘ کی آواز تھی۔ اس اعتبار سے مزاحمت اس نسل کے خمیر میں رچ بس چکی ہے۔ بھارتی ’این ڈی ٹی وی‘ چینل کی کنسلٹنگ ایڈیٹر برکھادت مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد کہتی ہے’’مقبوضہ کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوان عسکریت کے راستے پر جا رہے ہیں،ان میں کوئی ٹاپر ہے تو کوئی کرکٹر، ان کے لئے عسکریت کا راستہ گلیمر کا راستہ بن گیا ہے‘‘۔یہ حالات صاف بتا رہے ہیں کہ اب بھارت کے لئے تحریک آزادی پر قابو پانا ناممکن ہو چکا ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد بھی کئی نامور کمانڈر جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ شہادتوں کی سفرجاری ہے اور ہر مجاہد یہ کہتے ہوئے جام شہادت نوش کر رہاہے:

ستونِ دار پہ سروں کے چراغ رکھتے چلو

کہ جب تلک ظلم کی یہ ساہ رات چلے

(ختم شد)

مزید : کالم