کولڈ سٹارٹ پر ٹھنڈا پانی

کولڈ سٹارٹ پر ٹھنڈا پانی

  

پاکستان نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ’’نصر‘‘ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، یہ میزائل ہدف کو60سے70کلو میٹر تک نشانہ بنا سکتا ہے اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میزائل کی کامیاب لانچنگ کا مشاہدہ کیا اور سائنس دانوں، انجینئروں اور قوم کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے جنگی نظریئے ’’کو لڈ سٹارٹ‘‘ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے۔ یہ سٹرٹیجک صلاحیت جارح پڑوسی کے خلاف امن کی ضمانت ہے ہماری دفاعی صلاحیت کا واحد مقصد کسی بھی جارحیت کو روکنا ہے، آرمی چیف نے کہا کہ سائنس دان اور انجینئر ہمارے حقیقی ہیرو ہیں جو پسِ پردہ رہتے ہیں، جنگ سے ہر صورت بچنا چاہئے دفاعی صلاحیت بڑھانے کا مقصد جارحیت کو روکنا ہے۔صدرِ مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں کو مبارک دی ہے۔

جارحیت پسند بھارت نے کچھ عرصے سے اپنے کولڈ سٹارٹ جنگی نظریئے اور نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا بڑا چرچا کر رکھا ہے اور دُنیا بھر سے جدید اسلحے کی خریداری کے جنون میں مبتلا ہو چکا ہے، امریکہ بھی اسلحے کی یہ بھارتی بھوک مٹانے کے لئے پیش پیش ہے، اسرائیل بھی تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے لئے مشورے دینے کے ساتھ ساتھ اسلحہ فروخت کرنے پر آمادہ ہے، بھارت اسرائیلی میزائل اور ائر ڈیفنس سسٹم بھی حاصل کرنا چاہتا ہے فرانس سے جدید ترین رافیل جنگی طیارے خریدنے کے سودے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ ایف16 طیارے بھارت کے اندر تیار کئے جائیں گے یہ تمام جنگی تیاریاں آخر کس مقصد کے لئے ہیں، اسی ماحول میں بھارت نے ’’کولڈ سٹارٹ‘‘ کا نظریۂ جنگ پیش کیا تھا جس کا جواب پاکستان پہلے ہی یہ کہہ کر دے چکا ہے کہ کولڈ سٹارٹ ہو یا ہاٹ سٹارٹ، ہم جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اب جنرل قمر جاوید باجوہ نے نصر میزائل کے تجربے کو کولڈ سٹارٹ پر ٹھنڈا پانی قرار دے کر اپنے اِس عزم کا اظہار کر دیا ہے کہ پاکستان نہ تو کسی مُلک کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور نہ ہی جنگ شروع کرنے کا خواہش مند ہے اس کی تمام تر تیاریاں دفاعی نوعیت کی ہیں، نصر میزائل کی رینج ہی یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ ایسے میزائل پاکستان اپنے دفاع کی خاطر اُسی وقت استعمال کرے گا جب اُسے کسی جارحیت کا سامنا ہو گا۔ظاہر ہے اگر کوئی ہمسایہ مُلک ہر وقت جارحیت پر آمادہ ہو اور اِس مقصد کے لئے جنگی نظریے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سرجیکل سٹرائیک کے نئے نئے فسانے بھی تراش رہاہو، تو اس کا جواب اس کے سوا کیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لئے بھرپور تیاریاں کرے، نصر میزائل کا تجربہ اِسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

جنوبی ایشیا میں روایتی ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز بھی بھارت نے کیا تھا اور جوہری تجربات میں پہل بھی اُسی نے کی،پاکستان اگرچہ ایٹمی صلاحیت بہت پہلے حاصل کر چکا تھا تاہم اس نے ایٹمی دھماکہ نہیں کیا تھا نہ فوری طور پر ایسے کوئی عزائم رکھتا تھا اس کا ’’کریڈٹ‘‘ بھی بھارت کو جانا چاہئے جس نے1998ء میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو بھی اس شعبے میں اپنی صلاحیت دُنیا کے سامنے لانے کا موقع فراہم کر دیا۔ بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کرنے کے ساتھ ہی پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس وقت کی بھارتی قیادت جامے سے باہر ہو گئی ان دو ہفتوں کے دوران بھارتی دھمکیوں کا ریکارڈ آج بھی چیک کیا جائے تو نظر آئے گا کہ بھارتی قیادت نے پاکستان کو ڈرانے دھمکانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا، جس کے جواب میں پاکستان بھی جوابی دھماکوں پر مجبور ہوا،حالانکہ پوری دُنیا یہ چاہتی تھی کہ پاکستان ایسا نہ کرے،اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم نواز شریف کو متعدد ٹیلی فون بھی کئے اور دھماکوں کے مضمرات سے آگاہ کیا جو اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ہو سکتے تھے،دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں ترغیبات کا ایک پُرکشش پیکیج بھی پاکستان کو پیش کیا گیا تھا، لیکن وزیراعظم نواز شریف نے کسی چیز کو خاطر میں لائے بغیر دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔تب جا کر بھارت نے ہوش کے ناخن لئے اور دھمکیوں کا سلسلہ بند ہوا۔تاہم کافی عرصے تک پاکستان اقتصادی پابندیوں کا سامنا ضرور کرتا رہا۔

جوہری تجربہ اور جوہری صلاحیت حاصل کر لینا ہی دفاعی میدان میں کافی نہیں سمجھا جاتا، اس کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان کے پاس جوہری وار ہیڈ نشانے پر پھینکنے کی صلاحیت موجود ہو، چنانچہ پاکستان اِس میدان میں تیزی سے آگے بڑھا اور اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لئے میزائلوں کے تجربات اور تیاری کا سلسلہ شروع کر دیا اور زمین سے زمین اور فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات کئے گئے، سمندر سے خشکی میں میزائل فائر کرنے کا تجربہ بھی کیا جا چکا ہے،زیر سمندر آبدوزوں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے جو اس لحاظ سے بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ آج کی دفاعی جنگ میں خشکی کے ساتھ ساتھ بحری جنگ کی اہمیت بھی ہے۔گوادر کی بندرگاہ کو حفاظت اور اسے ممکنہ طور پر ایک بحری اڈے میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کے پیشِ نظر بحریہ کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے اور آبدوزیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔

یہ سارے تجربات اِس لئے ضروری تھے اور وقت کے ساتھ چلنا اب بھی اِس لئے اہم ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو نظرانداز کر کے اپنے عوام کو سرجیکل سٹرائیک کے سحر میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔معلوم نہیں یہ سرجیکل سٹرائیک کب اور کہاں ہوئی،لیکن عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بھارتی افواج پاکستان پر ایک ایسا پُراسرار حملہ بھی کر سکتی ہیں جس کا زمین پر کوئی نام و نشان نہ ہو، گزشتہ مہینوں میں بھارتی سرجیکل سٹرائیک کی الف لیلوی کہانی کچھ اس قسم کی بیان کی گئی تھی جس کا آج تک سراغ نہیں مل سکا، وجہ اس کی غالباً یہ ہے کہ کہیں بھارتی عوام اپنی حکومت سے یہ نہ پوچھ لیں کہ جو اربوں کھربوں روپے اسلحے کی بھٹیوں میں جھونکے جا رہے ہیں اُن کا حاصل حصول کیا ہے،کیونکہ کنٹرول لائن پر جھڑپ ہو تو بھارتی فوجیوں کو لاشیں اٹھانی پڑتی ہیں اور اندرونِ مُلک دہشت گرد کبھی پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں تو کبھی اُڑی میں آگ لگا دیتے ہیں ایسے ہی سوالات کا جواب اساطیری سرجیکل سٹرائیک میں ڈھونڈا گیا، نصر کے کامیاب تجربے اور اِس سے پہلے مختلف النوع تجربات سے پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن پسند ملک ہے،لیکن جارحیت کی صورت میں اپنا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید :

اداریہ -