محسن پاکستان کی علالت

محسن پاکستان کی علالت
 محسن پاکستان کی علالت

  


ممتاز مصری گلوکارہ ام کلثوم کا اچانک انتقال ہو گیا۔ مصری حکام پریشان تھے کہ اس سانحہ عظیم کی خبر عوام تک کیسے پہنچائی جائے؟ مصری ام کلثوم سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ وہ عربوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ مصری حکومت کے سینئر اہلکاروں کا خیال تھا کہ اگر اس خبر کو ریلیز کیا گیا تو عوام کو بے پناہ صدمہ ہو گیا۔ لوگ غم سے پاگل ہو جائیں گے۔ مصری حکام کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ انہوں نے عوام کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لئے تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ام کلثوم کی علالت کی خبر نشر کی گئی۔ پھر طبیعت کے خراب ہونے کا تذکرہ ہوا۔ عوام سے ان کی صحت یابی کے لئے دعاؤں کی اپیل کی گئی۔ آخر سات دن بعد فیصلہ کیا گیا کہ عوام کو ام کلثوم کی وفات کی خبر دے دی جائے۔ خبر سنتے ہی پورا عرب صدمے میں ڈوب گیا۔ قاہرہ اور دوسرے عرب شہروں کی سڑکوں پر نوجوان ماتم کرتے ہوئے نظر آئے۔ ہر طرف ام کلثوم کی محبت میں سرشار عرب سینہ کوبی کر رہے تھے۔

برصغیر کی سیاست میں مہاتما گاندھی کے مرن بھرت اور بیماری کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان سے محبت کرنے والے اکثر ان کی بیماری کی وجہ سے ہر کام کرنے پر تیار ہو جاتے تھے۔دنیا میں ایسی کسی قوم نے ترقی نہیں کی جو اپنے ہیرو پر فخر نہ کرتی ہو۔ کیونکہ یہ قوموں کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں۔ ہیرو عوام ہی بناتے ہیں۔ ایک دانشور کا خیال ہے کہ مغرب نے یہ راز دریافت کر لیا ہے کہ مشرق کو پسماندہ اور ذلت میں رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ذلت کے احساس میں رکھا جائے۔ اس سے فخر کرنے کی ہر وجہ چھین لی جائے۔ اس کے ہر ہیرو کو متنازعہ بنا دیا جائے۔ گزشتہ ایک صدی کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالیں۔

آپ کو اندازہ ہوجائے گا جب بھی کسی قوم میں کوئی بڑی شخصیت پیدا ہوتی ہے اس کے خلاف پراپیگنڈا شروع ہو جاتا ہے۔ یوں کار عظیم کرنے والے ہی بدمزہ نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلیں بھی عظمت کے کاموں سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلمان معاشروں میں شخصیات بڑی تبدیلیاں لے کر آتی ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں کسی بھی شخصیت کو بڑا بننے سے روکنے کا اہتمام ہو جائے تو ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر انہیں یہ پتہ چل جاتا کہ محمد علی جناح بہت علیل ہیں اور ان کی زندگی کا سفر ختم ہونے والا ہے تو وہ برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کو موخر کر دیتے۔ مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو کی طرح لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھی یقین تھا کہ جناح کی وجہ سے تقسیم ناگزیر ہے۔ کیونکہ نہ اسے خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قومی مفادات پس پشت ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکتا تھا۔ وجے لکشمی پنڈت نے بھی تو یہی کہا تھا کہ کانگریس کے پاس صرف ایک جناح ہوتا تو انڈیا تقسیم نہ ہوتا۔ مجھے کے آر ایل میں انجینئر محمد فاروق کے ساتھ برسوں پہلے ہونے والی ایک ملاقات یاد آ رہی ہے۔ انجینئر محمد فاروق وطن عزیز کے ان محسنوں میں سے ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ مغرب نے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم رکھنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کیا تھا۔ دباؤ کے ہر انداز کا استعمال کیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس منصوبے سے دور رکھنے میں کامیاب ہو جاتے تو پاکستان کبھی ایٹمی طاقت نہ بنتا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان سخت علیل ہیں مگر ان کے ساتھ جس بے اعتنائی کا سلوک ہو رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کیسی قوم ہیں؟ انہیں محسن پاکستان کہا جاتا ہے مگر انہیں ہر سطح پر نظرانداز کرنے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔دنیا بھر میں پاکستان کے مخالفین ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے ملک کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ایٹمی طاقت بنا دیا جہاں اچھی سڑک بنانے کے لئے انجینئر بیرون ملک سے بلائے جاتے ہیں۔ یہاں سوئی سے لے کر سائیکل تک درآمد کی جاتی ہے اور یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے امریکہ نے پاکستان کے بعد حاصل کیا اور بھارت میں آج بھی اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام بھارت کے ہیرو ہیں۔ ان پرجنوبی ایشیا میں ایٹمی دوڑ شروع کرنے کا الزام نہیں لگایا جاتا۔ ان کی ذات کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہر اعتبار سے ڈاکٹر عبدالکلام سے بڑے ہیرو ہیں۔ بڑے سائنسدان ہیں مگر آج پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو فراموش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روزان کا ایس ایم ایس ملا جس میں انہوں نے اپنی شدید علالت کی خبر دی تھی۔ دل بجھ سا گیا۔ ان کی درازی عمر کے لئے بے اختیار دل سے دعائیں نکلیں۔ قارئین سے بھی التماس ہے کہ وہ ان کی صحت کے لئے دعا کریں۔ مگر گزشتہ چند برسوں سے ان کے ساتھ جو سنگدلانہ سلوک ہو رہا ہے۔ انہیں جس بری طرح سے انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو جناب ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی قوم ایٹمی دھوئیں میں گھری ہوئی نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ صاحب بصیرت بھٹو بھارتیوں کے عزائم سے آگاہ تھے۔ انہیں برصغیر میں طاقت کا توازن بگڑتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ مگر پھر وہ قائل ہو گئے کہ ہندو سماج میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دلت لیڈر ڈاکٹر امبیدکر نے کہا تھا کہ ہندو سماج ایک ایسی کثیر المنزلہ عمارت کی طرح ہے جس میں نہ تو کوئی دروازہ ہے اور نہ ہی کوئی سیڑھی ۔ جو شخص جس منزل پر پیدا ہوتا ہے وہ اسی منزل پر مرتا ہے۔ ہندو سماج کی کسی منزل پرمسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارتی مسلمان اس کا خوب تجربہ کر رہے ہیں اور اس کی ایک جھلک سچر کمیشن رپورٹ میں نظر آتی ہے جو سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے قائم کیا تھا۔دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سچر کی سربراہی میں بننے والے اس کمیشن نے کہا تھا کہ مسلمان مجموعی طور پر اب دلتوں کے درجے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آبادی کے تناسب سے ان کی ملازمتوں کا تناسب انتہائی کم ہے۔ کچھ عرصہ قبل الجزیرہ ٹیلی ویژن کی ایک ڈاکومنٹری فلم میں بتایا گیا تھا کہ گجرات میں بچوں کو جس اکھنڈ بھارت کے متعلق پڑھایا جاتا ہے اس میں وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی شامل کرتے ہیں۔ اسی ڈاکومنٹری میں بتایا گیا تھا کہ مودی کی حکومت آنے کے بعد پورے ہندوستان میں نوجوانوں کے تربیتی کیمپ شروع ہو چکے ہیں جہاں انہیں لاٹھی چلانے کے علاوہ دوسرے ہتھیاروں کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور یہ نوجوان بھارت کے اکثر شہروں میں ایسے مسلمانوں کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں جن پر گائے کے ذبح کرنے کا الزام لگایا جا سکے۔ بھارت میں تشدد کے یہ واقعات پاکستان ناگزیر ہونے کی داستان سنا رہے ہیں۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن کی ڈاکومنٹری میں لڑکیوں کے ایک تربیتی کیمپ کو دکھایا گیا تھا جہاں انہیں مختلف ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ان کی برین واشنگ کی جا رہی تھی۔ لڑکیوں کو ایک ہندو لیڈر بتا رہا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی بھارتی مسلمان لڑکوں کو فنڈز فراہم کرتی ہے اور یہ لڑکے ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتے ہیں۔ یہ ہندو لیڈر، ہندو لڑکیوں کو مسلمانوں سے ڈرانے کے لئے کہہ رہے تھے کہ مسلمانوں کے مذہب میں اس صورت میں اپنی بیوی کو ذبح کر کے کھانا جائز ہے اگر ان کے پاس کھانے کی کوئی دوسری چیز نہ ہو۔پاکستان میں اگر ہم ہندو کے تعصب اور دشمنی سے محفوظ ہیں تو اس کا کریڈٹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جاتا ہے۔ ان کے کارنامے کی بدولت ہم اس خوف کی فضا میں سانس نہیں لے رہے جس کا تجربہ بدقسمتی سے بھارتی مسلمان کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی دوستی ہونی چاہیے۔ برصغیر کی ترقی اور خوشحالی کا کوئی خواب اس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مگر ایسا بھارت کی خواہش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی معتبر بھارتی انگریزی اخبارمیں قارئین کے تبصرے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو اس خطرناک ہندو ذہنیت سے ملاقات ہوتی ہے جو امن کے لئے حقیقی خطرہ ہے۔ انگریزی اخبارات میں قارئین کے تبصروں میں پاکستان اور مسلمانوں بلکہ بھارتی مسلمانوں کے خلاف ایسی ایسی ننگی گالیاں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اکیسویں صدی میں بھارت کے تعلیم یافتہ لوگ کس طرح اپنی زہریلی ذہنیت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارت میں عام لوگوں کو کس طرح متشدد بنایا جا رہا ہے۔ نریندر مودی اور بی جے پی نے آج کے ہندوکو تقسیم ہند سے پہلے کے ہندو کے مقابلے میں کہیں زیادہ زہریلا بنا دیا ہے۔

ہمارے ہاں بہت سے دانشوروں نے بھی دوسروں کی بے عزتی کر کے عزت کمانے کا راز دریافت کر لیا ہے۔ ہر شخص پر کیچڑ اچھالنے کے ماہرین اپنے آپ کو قومی امور کا ماہر قرار دیتے ہیں۔ مگر اب سوشل میڈیا پر اکثر دانشور خود بھی اس ذلت کا ذائقہ چکھتے ہیں جو انہوں نے دوسروں کے لئے مخصوص کر رکھی تھی۔ میڈیا نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے مگر اس نے بے یقینی پیدا کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی صورت میں تو بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں ایسے استرے آ گئے ہیں جو وہ دوسروں کے گلوں پر پھیرتے رہتے ہیں اور اکثر اس استرے سے اپنے آپ کو بھی زخمی کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ اس میں ظلم کے خلاف آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی بہت سی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بھی بنتی ہیں۔ مگر محسن پاکستان کے معاملے میں سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسے یہودی یا امریکی سازش قرار دینا حماقت کے سواکچھ نہیں ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم بے حسی کی ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں قوم کے بحر کی موجوں میں اضطراب پیدا کرنا ممکن نظر نہیں آتا اور ہم اپنے محسنوں کو نظرانداز کرنے کی شرمناک مثالیں قائم کرنے پر بضد ہیں۔

مزید : کالم