محاذ آرائی ختم کریں

محاذ آرائی ختم کریں
 محاذ آرائی ختم کریں

  


ہونا تو یہ چاہئے کہ اب حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جائے اور یہ جو الفاظ کی جگالی جاری ہے اسے ختم کردیا جائے اگر آئین اور قانون کی بالادستی اور عدلیہ پر اعتماد کا زبانی اظہار کرتے ہیں تو اسے عملی طور پر ثابت کیا جائے، لیکن دکھ کی بات ہے کہ اب بھی درجہ حرارت بڑھانے کا عمل جاری ہے، یہ مانا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اوئے اوئے سے بات کا رخ بدلا اور پھر سوشل میڈیا والوں نے کمال دکھایا اور اب تک ان کی ہنر مندی جاری ہے، اس میڈیا میں اگر متحارب سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے الزام جوڑ بریگیڈ متعین کئے ہیں تو شوقین افراد بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ جانے بوجھے اور پڑھے بغیر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اب تو حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ الزام اور الزام تراشی ہی نظر آتی ہے اور بہتری کی امید نہیں رہی کہ ہمارے میڈیا والے دوستوں کی اکثریت نے بھی پڑھنا چھوڑ دیا اور انہوں نے پڑھو گے، لکھو گے، بنوگے، نواب والا مشورہ نظر انداز ہی نہیں کیا ترک بھی کردیا ہے۔

جہاں تک پاناما پر سپریم کورٹ کی طرف سے جے، آئی، ٹی بنانے کا سوال ہے تو یہ ٹیم مخصوص مقصد کے لئے تشکیل دی گئی کہ عدالت عظمیٰ جن سوالات کا جواب چاہتی ہے وہ تحقیق و تفتیش کے بغیر ممکن نہیں اور عدالت یہ نہیں کرسکتی چنانچہ فاضل فل بنچ نے خود ایک تیرہ نکاتی سوال نامہ مرتب کیا اور جے، آئی، ٹی تشکیل دے کر اسے ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے فرائض تفویض کئے، کمیٹی نے اس کے لئے کام کیا جواب تقریباً ختم ہو چکا، اب تو 10۔ جولائی کے لئے رپورٹ مرتب ہونا ہے اور یہی کام ہوگا، جس کے بعد پھر سے بال فل بنچ کی کورٹ میں چلی جائے گی جو سماعت کرے گا۔ پاناما لیکس کی یہ جے، آئی، ٹی بہت ہنگامہ خیز ثابت ہوئی ہے، مدعا علیہان نے پورے عمل کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت سیاسی بنادیا ہے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ سماعت تو ابھی باقی ہے، جس کے انجام کے بارے میں غوروفکر کی ضرورت ہے ہمارے نزدیک اس سارے عمل میں جو غیر مناسب بات ہو رہی ہے وہ جے، آئی، ٹی کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے کرتے فاضل عدلیہ کے حوالے سے ریمارکس ہیں جو کچھ بہتر نہیں، اس سے بحران پیدا ہوتا ہے ، قیاس آرائیاں، تجزیئے اور تنقید شروع ہے، دور کی کوڑی لائی جارہی ہے اس سے غیر یقینی صورت حال پیدا ہو رہی ہے اور اب تو سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ یہ سب کیا ہور ہا ہے اور اس کا انجام بھی غیر سیاسی ہونے کا امکان ہوگا۔

وزیر اعظم کی صاحبزادی بھی اپنا بیان ریکارڈ اور اپنی طرف سے دھماکہ کرکے جاچکی ہیں اور تجزیہ نگاروں کے ہاتھ نیا موضوع لگ گیا اب ہر کوئی مریم نواز کی گفتگو کا چرچا کئے جارہا ہے، انہوں نے بڑے مدلل اور مناسب انداز میں بات کی اور خوبصورت الفاظ اور استعاروں کی مدد سے واضح کیا کہ حکومت کہیں جانے والی نہیں،بلکہ اگلے انتخابات بھی انہی کی جھولی میں گریں گے، ان کی آمد کے حوالے سے بحث بھی بہت ہوئی اور ہم عرض کریں گے کہ اس سے فائدہ بھی مسلم لیگ (ن) ہی نے اٹھایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سلسلے میں اپنا رویہ الگ سے متعین کیا اور الزام کو تہذیب کا جامہ پہنانے کی بھی کوشش کی ، تاہم محاذ آرائی تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی کے درمیان تیز ہوئی ہے، خود عمران خان اپنی تقریروں میں الزام لگانے سے رہ نہیں سکتے اب دلچسپ تجزیہ تو یہ ہے کہ مریم نواز کی عملی سیاست میں دبنگ انٹری ہوئی ہے، اللہ کے بندو یہ تو بہت پہلے ہو چکا جب مریم نواز نے تعلیم کے شعبہ میں عملی کام اور ٹویٹ کرکے اپنے خیالات ظاہر کرنا شروع کئے تھے اس لئے ان کی آمد تو ہوچکی، تنازعہ میں دخل البتہ پہلی بار اور وہ بھی زور دار طریقے سے ہوا ہے۔

قومی سطح پر محاذ آرائی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور وزراء بھی سازش، سازش کرنے لگے ہیں، مریم نواز نے مہر ثبت کردی، انہوں نے تو یہ تک کہہ کر مزید شکوک بڑھادیئے ہیں ’’ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے سینے میں بہت راز ہیں، ان کو وہیں رہنے دو کھل گئے تو بہت نقصان ہوگا‘‘ اس حوالے سے چودھری نثار علی خان اور میاں محمد شہباز شریف کی خاموشی بھی معنی خیز ہوگئی ہے اور سوالات کئے جارہے ہیں، ایسی سازشی تھیوری کے ساتھ ’’خفیہ قوتوں‘‘ کا کہا جارہا ہے جس سے شکوک بڑھتے ہیں یا تو اس تنازعہ کو خارج ازبحث قرار دے دیں یا پھر باقاعدہ طور پر چارج کریں، ایسی قوتوں اور جوانوں کے مورال کو خراب نہ کریں جو اس نم مٹی سے زرخیزی ڈھونڈ رہے ہیں۔ اب تک کے تنازعہ یا محاذ آرائی کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے یہاں تو سٹاک مارکیٹ کریش کرگئی اور ڈالر کی شرح یکایک بڑھادی گئی وزیر خزانہ اسحق ڈار اسے سازش قرار دے کر اس کا قلع قمع کرنے میں حق بجانب ہوں گے اور انہوں نے برملا اظہار بھی کیا ہے، محترم وزیر خزانہ کی تھیوری مان بھی لیں تو پھر بھی یہ ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی ہے کہ وہ اسے ناکام بنائیں پاناما کا کیا فیصلہ ہوگا کسی کو معلوم نہیں لیکن صورت حال بڑی غیر یقینی ہے، تحریک انصاف والوں کی طرف سے دعوے تو بہت کئے گئے تاہم پتہ تو اس وقت چلے گا ، جب فیصلہ ہو گا ، دونوں فریق اپنے اپنے طور پر مطمئن ہیں ، پریشان تو وہ ہیں جن کو اندیشہ ہائے دور دراز ہے اور کچھ عجیب اشارے مل رہے ہیں ان میں سے چند کا تعلق برادر ملک ترکی سے بھی ہے۔

مزید : کالم