شام غریباں کیوں برپا ہے؟

شام غریباں کیوں برپا ہے؟
 شام غریباں کیوں برپا ہے؟

  


سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ جے آئی ٹی کے اختیارات اور حیثیت سے کم از کم ان لوگوں کو واقف ہونا چاہئے جنہیں پیش ہونے کے لئے طلب کیا جا رہا ہے۔ جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سے قبل ہی اسے اتنا متنازعہ بنانے کی شعوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایوان وزیراعظم کے ملازم تک اس کی کارروائی کے خلاف بر سر عام قابل اعتراض تبصرے کر رہے ہیں۔ سخت الفاظ، ترش لہجے، دھمکی آمیز رویے، کمزوریوں کی چغلی کھاتے ہیں۔ سب ہی کسی نہ کسی صورت نہال ہاشمی کی زبان بول رہے ہیں۔ خانوادہ نواز شریف سے براہ راست تعلق کی بنیاد پر جو بھی افراد جے آئی ٹی میں پیش ہوئے، انہوں نے باہر آکر جس طرح کی گفتگو کی ، وہ توہین عدالت کے زمرے میں کیوں نہیں لائی جاسکتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ نے اب تک اس کا نوٹس نہیں لیا۔ حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، صفدر نے جن لہجوں میں گفتگو کی ہے وہی چغلی کھاتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے روبرو پیشی ان کی توقعات کے برعکس رہی۔ ان سے جو سوالات کئے گئے ہوں گے، یہ لوگ اپنی دانست میں مطمئن کرنے والے جوابات جے آئی ٹی کو نہیں دے سکے ہوں گے، اسی لئے جے آئی ٹی کو معتوب قرار دیا جارہا ہے۔ جے آئی ٹی کوئی قرض وصولی کاا دارہ نہیں ہے۔ اسے تو صرف یہ تحقیقات کرنا ہے کہ لندن میں موجود خانوادہ نواز شریف کی جائیدادیں کن ذرائع سے بنائی گئی ہیں۔یہ منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے جس پر تمام لوگوں کو جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون کرنا اور اس بات کا انتظار کرنا چاہئے کہ جے آئی ٹی کیا رپورٹ پیش کرتی ہے۔

مریم نواز نے جس انداز میں دھمکی بھرے لہجے میں گفتگو کی ہے، انہیں ہی اس کی وضاحت کرنا چاہئے کہ نواز شریف کے سینے میں دفن راز وں کا تعلق اگر حکومت پاکستان کے وزیراعظم کے سرکاری فرائض سے ہے تو وہ راز فاش کرنا اس حلف کی خلاف ورزی ہوگی جو انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے اٹھایا ہوا ہے ۔ مریم نواز کو کیوں ضرورت پیش آئی کہ اس طرح کی دھمکی دیتیں۔ نواز شریف کے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی، ان سے تو صرف یہ سوال کیا جارہا ہے کہ ان ذرائع کے بارے میں اطلاعات فراہم کریں جن کے ذریعہ جائیدادیں بنائی گئی ہیں۔ پاناما کیس کسی سرکاری ادارے یا محکمہ نے نہیں بنایا ہے، صحافیوں کی ایک تنظیم نے تحقیقات کیں اور دُنیا بھر کے ان لوگوں کے نام افشا کئے، جنہوں نے آف شور کمپنیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ ان کمپنیوں سے مریم نواز بھی مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ کیا پاکستان کے عوام کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں اور سرکاری ملازمین اور افسران سے یہ سوال کر سکیں کہ وہ اپنی آمدنی کے ذرائع سے آگاہ کریں۔ کیا پاکستانی عوام کو اپنے رہنماؤں کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہی رہنا چا ہئے ۔ جے آئی ٹی یہی تو کر رہی ہے۔

رہ گیا تعلق قرض کی ادائیگی کا تو مریم نواز سے کسی نے قرض کی واپسی کا تقاضہ نہیں کیا ہے۔ اگر قرضوں کی واپسی کا تقاضہ کر دیا گیا تو نواز شریف کی اولادیں واپس نہیں کر سکیں گی، کیونکہ ان کی اولادوں کو جس طرح ایوان وزیراعظم کی سرکاری سہولتوں اور اشیاء کے تصرف کا نام نہاد حق دیا گیا ہے وہی اس مُلک کا سب سے بڑا قرضہ ہے۔ گاڑیوں کے قافلے، سرکاری ملازمین کی موجودگی، بے انتہاء تحفظ، پولس افسر کا سیلوٹ، پولس افسر کا ذاتی ملازمہ کی حیثیت سے اختیار کردہ رویہ، اسی طرح ان کے بھائیوں کی سرکاری آؤ بھگت، کیوں کر ہوئی۔ کیا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے جوابداروں یا گواہوں کو یہ سہولتیں حاصل ہونا چاہئے۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں سرکاری ذرائع کو ذاتی وسائل سمجھ کر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سوال تو اب تک کسی نے نہیں کیا کہ وزیراعظم کی ذاتی رہائش گاہ جاتی امراء میں سرکاری وسائل کس قانون کے تحت استعمال ہو رہے ہیں۔ جاتی امراء کی ر ہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک کیوں سرکاری رقم خرچ کر کے تعمیر کی گئی، پانی پہنچانے کے لئے خصوصی انتظام کا خرچہ حکومت پنجاب نے کیوں برداشت کیا۔ یہ بھی سوال نہیں کیا گیا کہ جاتی امراء میں جو محل تعمیر کیا گیا ہے وہ زمین کس نرخ پر کن لوگوں سے خریدی گئی تھی۔

مسلم لیگ کا دور حکومت ہو یا پیپلز پارٹی کا ، سرکاری وسائل ذاتی سہولتوں کے لئے اس طرح استعمال کئے جاتے رہے ہیں کہ جیسے یہ وسائل حکمرانوں کی ذاتی جاگیر کا حصہ ہوں۔ عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، ہسپتالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر موجود نہیں ہیں، سکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کئے لئے بنچ نہیں ہیں،لیکن حکمرانوں اور ان کے بالغ بچوں کے لئے ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہیں۔یہ جمہوریت کا ثمر ہے حکمران اپنے آپ کو جس کا حق دار تصور کرتے ہیں۔ آصف کرمانی جو ایوان وزیراعظم کے تن خواہ دار ہیں، کیوں کر جے آئی ٹی کے معاملات پر تبصرہ کر سکتے ہیں، سعد رفیق، عابد شیر علی، دانیال عزیز، طلال چودھری اور اسی قبیل کے دیگر افراد کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ پر تبصرے کرتے پھریں۔ آخر یہ شام غریباں کیوں برپا ہے؟ کیوں نہیں یہ انتظار کیا جا رہا کہ سپریم کورٹ پاناما کیس کی سماعت مکمل کرے اور فیصلہ دے۔ یہ خبط کیوں سوار کر لیا گیا ہے کہ جیسے فیصلہ نواز شریف کے خلاف ہی آئے گا۔ ضروری تو نہیں کہ کسی کو گاڈ فادر قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے ماتحت تشکیل کردہ جے آئی ٹی اپنی تفتیش اور تحقیق کی روشنی میں رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہے، وہ کوئی فیصلہ دینے کی مجاز نہیں ہے۔ فیصلہ تو پاناما کیس کی سماعت کرنے والی بنچ کے معززجج حضرات کو ہی کرنا ہے۔نواز شریف کے بظاہر ہمدرد اور ترجمان حضرات جس لہجوں میں گفتگو اور تبصرے کر رہے ہیں وہ سوائے اس کے کیا اور ہو سکتے ہیں کہ مقدمہ کو سیاسی رنگ دیا جائے تاکہ اگر وسط مدتی عام انتخاب کی کوئی صورت سامنے آئے تو اس مہم کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے معزز ججوں کو تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کی اس ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ بقول ان کے ’’ جج حضرات بے خوف ہو کر فیصلہ دیں ، وکلاء، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہیں ‘‘۔ یہ ترجمان حضرات نہ جانے کیوں اپنی اوقات بھول گئے ہیں۔ حکومت پنجاب بھی اس مہم میں شامل ہے۔ اپنے ایک اشتہار میں اس نے یہ شعر تحریر کیا:

’’برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں

کچھ بھی ہو، اہتمام چراغاں کریں گے ہم‘‘

مزید : کالم