ایک سلیوٹ پر ہنگامہ!

ایک سلیوٹ پر ہنگامہ!
 ایک سلیوٹ پر ہنگامہ!

  

راتوں رات اگر کسی کے بھاگ جاگے ہیں تو وہ اسلام آباد پولیس کی ایس پی ارسہ سلیم ہے ۔ ایک منحنی سی واجبی قد کاٹھ کی لڑکی کو کیا معلوم تھا کہ5جولائی کا دن اُس کے لئے شہرت کے دروازے کھول دے گا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دُنیا میں مشہور ہو جائے گی۔ جس دن اُسے یہ حکم ملا ہو گا کہ اُس کی ڈیوٹی وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر اُن کے ساتھ لگا دی گئی ہے تو اُس وقت ارسہ سلیم کا ردعمل نجانے کیا ہو گا، تاہم5جولائی کی صبح وہ بہت خوش تھی، اُس کے چہرے پر مسکراہٹ عود کر آ رہی تھی۔یہ فیصلہ تو اُس نے پہلے سے کر رکھا ہو گا کہ جب مریم نواز گاڑی سے باہر آئیں گی تو وہ اُنہیں سلیوٹ کرے گی، لیکن اُسے کیا معلوم تھا کہ قدرت اِس سے بھی زیادہ اُس پر مہربان ہے۔مریم نواز گاڑی سے باہر آئیں تو سب کیمرے اُن پر مرکوز تھے، جونہی ارسہ سلیم نے انہیں سلیوٹ کیا، خوشی سے نہال مریم صاحبہ کے ہاتھ سے اُن کا قلم زمین پر گر گیا، جو کیمرے مریم نواز کو سامنے اور ارسہ سلیم کو بیک سے کور کر رہے تھے، انہوں نے یہ منظر دکھایا کہ ایس پی ارسہ سلیم سلیوٹ مارنے کے بعد نیچے جھکیں، کسی کیمرے میں اُن کا مریم نواز کو پین پکڑانا نظر آیا اور کسی میں نہیں۔ یہ مناظر چونکہ ٹی وی چینلوں پر براہِ راست دکھائے جا ہے تھے ،اِس لئے کسی ایسے چینل پر یہ منظر دیکھ کر سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، یہ تبصرہ کر دیا کہ پہلے پولیس کی ایس پی نے مریم کو سلیوٹ کیا اور پھر پاؤں چھوئے، پلک جھپکنے میں باقی سب چینل بھی باقی سب کچھ بھول کر اس بحث میں اُلجھ گئے کہ ایس پی ارسہ سلیم کو کیا مریم نواز کے آنے پر ایسا کرنا چاہئے تھا؟ گویا مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی پیچھے چلی گئی اور ارسہ سلیم کا سلیوٹ نمایاں ہو گیا۔

عام حالات میں تو یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں تھی، پولیس والوں کا جہاں دِل چاہے سلیوٹ اور جہاں دِل چاہے چھترول کر دیتے ہیں، مگر ارسہ سلیم کے نصیب میں چونکہ ہر درجہ شہرت لکھی تھی، اِس لئے اُن کا یہ سلیوٹ چہار دانگِ عالم میں مشہور ہو گیا۔پھر جب کپتان نے اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں ایک ملزم کے طور پر پیش ہونے والی شہزادی کو اتنا پروٹوکول دیا جا رہا ہے کہ پولیس کی ایس پی سلیوٹ پیش کر رہی ہے تو تحریک انصاف کے سب چاہنے والوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ سب نے سوشل میڈیا پر ارسہ سلیم کی درگت بنانے کو اپنا فرض سمجھ لیا۔اُس بے چاری کو نجانے کیسے کیسے القابات سے نوازا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ایک صاف دِل کے ساتھ ڈیوٹی دینے گئی ہو گی، عام حالات میں شاید اُس کا کبھی مریم نواز سے سامنا نہ ہوتا۔ جس طرح ایک سیلیبرٹی کے بارے میں سوچ کے آدمی اپنے اندر ایک سرخوشی سی محسوس کرتا ہے،یقیناًارسہ سلیم نے بھی کی ہو گی۔عام حالات میں جب پولیس کے افسران ڈیوٹی دیتے ہیں تو اُن کا دائرہ محدود ہوتا ہے، وہ دوسروں کی طرح بڑی شخصیات کو دیکھ سکتے ہیں، اُن کے قریب جا کر مل نہیں سکتے،مگر یہاں معاملہ بالکل دوسرا تھا۔ ارسہ سلیم کو اُن کے ہمزاد ہونے کی ڈیوٹی سونپی گئی تھی۔انہوں نے سایہ بن کر مریم نواز کے ساتھ جے آئی ٹی کے اُس کمرے میں جانا تھا جہاں سے حسین نواز کی تصویر لیک ہوئی تھی تو ہا ہا کار مچ گئی تھی۔ یہ احتیاط جے آئی ٹی کے ارکان نے ہی برتی تھی کہ دوسروں کی طرح مریم نواز کو اکیلے تفتیش کے لئے نہ بلایا جائے،بلکہ اُن کے ساتھ ایک ایس پی سطح کی خاتون پولیس افسر ہونی چاہئے، سو آئی جی اسلام آباد کی نظر ارسہ سلیم پر پڑی، شاید اِس لئے کہ وہ سی ایس پی افسر ہیں اور سماجی کاموں میں بھی بھرپور دلچسپی لیتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سلیوٹ مارنے کا حکم آئی جی نے نہیں دیا ہو گا۔اگر آپ سلیوٹ مارنے کے بعد وہ منظر دیکھیں جب ارسہ سلیم مریم نواز کے ساتھ جے آئی ٹی کے سامنے جانے کے لئے آگے بڑھتی ہیں تو اُن کی باڈی لینگوئج اور چہرے سے بے حد خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ مریم ہاتھ لہراتی ہیں تو ارسہ سلیم کے چہرے پر کھکھلا کر مسکراہٹ آ جا تی ہے، اس سے مجھے تو کم از کم یہی لگا ہے کہ بطور ایس پی نہیں،بلکہ ایک خاتون ہونے کے ناطے وہ مریم نواز جیسی مشہور اور خوبصورت شخصیت کے ساتھ جاتے ہوئے خوشی سے نہال تھیں۔

اب سُنا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے ایس پی ارسہ سلیم کو ایک قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر مریم نواز کو سلیوٹ کرنے پر معافی مانگے، وگرنہ اُس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جب سیاست دشمنی کی معراج تک پہنچ جائے تو ایسے ہی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ بات درست ہے کہ ایس پی کو سلیوٹ مارنے کا تکلف کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ معمول کا سلام کرتی اور مریم نواز کے ساتھ چلی جاتی، تاہم بعض چیزیں عادتاً بھی ہو جاتی ہیں۔ ویسے بھی پولیس والے اول تو سلام نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو اُن کا انداز سلیوٹ کرنے والا ہوتا ہے۔کسی نے اس نکتے پر غور نہیں کیا کہ ایس پی ارسہ سلیم تاریخ کی بہت اہم گواہ بن گئی ہے۔صرف اُسی کو معلوم ہے کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز سے کیا سوالات کئے اور کیا جوابات دیئے گئے؟ مریم نواز کے اس موقف کی تائید بھی صرف وہی کر سکتی ہے کہ انہوں نے جے آئی ٹی سے کیا یہ سوال پوچھا تھا کہ آخر اُن پر الزام کیا ہے اور کیا جے آئی ٹی کے ممبران اس کا کوئی جواب نہیں دے سکے تھے؟ پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا پر ایس پی ارسہ سلیم کے اِس اقدام کو اُس غلامانہ ذہنیت کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں جو بیورو کریسی پر طاری ہے۔عمران خان چونکہ نواز شریف کی حکمرانی کو بادشاہت قرار دیتے ہیں، اِس لئے کپتان اس نظریے کو آگے بڑھا رہا ہے،جبکہ مسلم لیگ(ن) کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایس پی نے سلیوٹ کر کے درحقیقت ایک عورت کی طرف سے دوسری عورت کو دی جانے والی عزت کا مظاہرہ کیا ہے۔

کچھ جانبدار افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ارسہ سلیم کا کیریئر بھی محفوظ ہو گیا ہے اور شاندار مستقبل بھی اب اُس کا منتظر ہے،کیونکہ اب وہ شریف فیملی کی گڈ بکس میں آ گئی ہیں اور جو شریف فیملی کی پناہ میں آ جائے تو اُس کے لئے ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔خیر میرے نزدیک یہ اضافی باتیں ہیں۔ البتہ اس ایک واقعہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ہماری سیاست عدم برداشت کی کس سطح پر چلی گئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ اب بڑے بڑے ایشوز پر سیاسی اختلافات رکھنے یا الزامات لگانے کا زمانہ گیا، اب تو چھوٹی چھوٹی باتیں اور واقعات سیاست میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ5جولائی کو شریف فیملی نے مریم نواز کو باقاعدہ طور پر میدانِ سیاست میں اتار دیا ہے، وہ غلط نہیں کہتے۔ البتہ شریف فیملی سے سکرپٹ میں ایک غلطی ہوئی کہ مریم نواز کی پیشی کو بہت زیادہ پروٹوکول میں الجھا دیا،ٹریفک کی بلاوجہ گھنٹوں بندش اور گاڑیوں کا اتنا بڑا قافلہ، اس سکرپٹ میں منفی اثرات چھوڑ گیا، جس سے مخالفین کو بجا طور پہ کہنے کا موقع ملا کہ مریم نواز سیاسی لیڈر نہیں،بلکہ بادشاہ خاندان کی شہزادی ہیں۔ آج کل کے حالات میں جب عوام کا سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے، بہت زیادہ کروفر آپ کو سیاست میں عوام کی ہمدردی نہیں دِلا سکتا، تاہم جو ہونا تھا، وہ ہو گیا،مگر اس سارے کھیل میں جس بات نے رنگ بھرا وہ ایس پی ارسہ سلیم کا سلیوٹ تھا۔ یہ سلیوٹ نہ ہوتا تو شاید مریم نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی اگلے روز قصہ‘ پارینہ بن جاتی،لیکن اب یہ ایک زندہ واقعہ کی صورت میں نجانے کب تک بحث کا باعث بنی رہے گی۔

مزید :

کالم -