آفیشلز، میجمنٹ میں انعامات کی تفریق پر سابق کرکٹر ز کو تشویش

آفیشلز، میجمنٹ میں انعامات کی تفریق پر سابق کرکٹر ز کو تشویش
 آفیشلز، میجمنٹ میں انعامات کی تفریق پر سابق کرکٹر ز کو تشویش

  


لاہور(سپورٹس رپورٹر)آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی پر حکومت کی جانب سے بورڈ آفیشلز اور ٹیم مینجمنٹ میں انعامات کی تفریق پر سابق ٹیسٹ کرکٹر ز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے مگر تقریب میں چیف سلیکٹر سمیت بورڈ کے ایسے آفیشلز جن کا جیت میں کوئی کردار ہی نہیں انکو حیران کن طور پر کروڑ روپے انعام دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔ سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے کہا کہ امجد بھٹی ،عثمان واہلہ ،عون زیدی ،سکیورٹی انچارج اظہر سمیت دیگر پر قوم کا پیسہ کیوں لٹایا گیا۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق پہلے ہی بارہ سے چودہ لاکھ ماہانہ لے رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کوچ مکی آرتھر کا بہت کردار ہے ان کو صرف پچاس لاکھ انعام دیا گیا،اس سے بہتر تھا پی سی بی تمام ملازمین کے لئے بونس کا اعلان کر دیتا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر عطاالرحمان نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست کا شکار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انعامات کی تقسیم میں تفریق نہیں ہونی چاہئے تھی ،ذرائع کے مطابق لسٹ پاکستان کرکٹ بورڈ سے مشاورت کر کے بنائی گئی۔ سابق چیف سلیکٹر محسن حسن کا کہنا تھاکہ کرکٹرز کے بعد پہلا حق ہیڈ کوچ کا ہوتا ہے اور جیت میں کوچ کا کردار سب سے اہم ہے۔ عبدالقادر نے کہا کہ انضمام پہلے خوش قسمت کرکٹر ہیں جنہیں ریٹائرمنٹ کے وقت بھی ایک کروڑ دیا گیا،ایسا عمران خان کے ساتھ ہوا اور نہ ہی وسیم اکرم جیسے نامور کرکٹر کے ساتھ ایسا ہوا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی