کرنسی کی قدر میں اچانک کمی تشویشناک، ناقابل قبول ہے،عاطف اکرام شیخ

کرنسی کی قدر میں اچانک کمی تشویشناک، ناقابل قبول ہے،عاطف اکرام شیخ

کراچی (اکنامک رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چیئرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ساڑھے تین سال کے استحکام کے بعد کرنسی کی قدر میں اچانک کمی تشویشناک، ملک و قوم کے مفادات کے خلاف اور ناقابل قبول ہے۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک سو نو روپے پچاس پیسے کا ہو گیا ہے جسکی قدر کو سابقہ سطح پر لانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

روپے کی قدر گرانے سے نہ تو برامدات میں اضافہ ہو گا نہ ریکارڈ تجارتی خسارے پر کوئی اثر پڑے گا۔موجودہ سیاسی عدم استحکام کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی ضرورت ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے درامدات کو برامدات سے دگنی سے زیادہ ہیں مہنگی ہو جائیں گی جبکہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ملک و قوم کی بدقسمتی ہے۔ڈالر مہنگا ہونے سے درامدکنندگان اور عوام سراسیمہ ہو گئے ہیں کیونکہ اس سے ہر چیز مہنگی ہو جائے گی۔روپے کی قدر کم کرنے سے برامدات میں معمولی بہتری آنے کا امکان ہے مگر اس سے درامدات مہنگی ہو جائینگی جس سے عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہو گی جبکہ افراط زر بڑھ جائے گا۔ روپے کی قدر کم ہونے سے نہ صرف درامد ہونے والا خام مال مہنگا ہو جائے گا بلکہ ڈیموں، پائپ لائنوں اور اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے تحت بننے والے پراجیکٹس کی لاگت بھی بڑھ جائے گی جبکہ ملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے اربوں روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔ برامدات بڑھانے کیلئے تجارتی مراعات اور کرنسی کی قدر گرانے سے بہتر میرٹ پر افسران کی تعیناتی، سفارش کلچر کا خاتمہ، ویلیو ایڈیشن،ہنرمند افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ اور اشیاء تعیش کی درامدات میں کمی ہے۔ برامدی سیکٹر کو سبسڈی ، بیل آؤٹ،کرنسی کی قدر گرانے اور ٹیکس میں چھوٹ عادت ہو گئی ہے جس نے اس شعبہ میں نئی ٹیکنالوجی، اپ گریڈیشن اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے عمل کو روک رکھا ہے جس وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کو قرضوں کے سہارے مستحکم کرنا پڑتا ہے جو اقتصادی خودکشی کے مترادف ہے۔

مزید : کامرس