ٹیکسٹائل کی صنعت میں پروسیسنگ انڈسٹری ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے

ٹیکسٹائل کی صنعت میں پروسیسنگ انڈسٹری ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے

فیصل آباد(بیورورپورٹ) ٹیکسٹائل کی صنعت میں پروسیسنگ انڈسٹری ویلیو ایڈڈ ہو نے کے سبب ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے مگر کاسٹ آف پروڈکشن میں زیادتی اور حکومتی عدم توجہی کے سبب گذشتہ ایک عرصہ سے بے پناہ مسائل اور مشکلات کا شکار ہے جس کا اثر نہ صرف لوکل اداروں کے لئے مشکلات کا باعث ہے بلکہ ملکی ایکسپورٹ جو زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کا باعث ہو سکتی تھی وہ بھی 65% سے% 40 تک آچکی ہے۔اگر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈ سٹری کے بحران کو حل نہ کیا گیا تو خدانخواستہ ہماری معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن ( اپٹپما) فیصل آباد ریجن کے چےئرمین انجینئر حافظ احتشام جاوید نے اپنے اخباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا انرجی بحران اپنی جگہ مگر صنعتوں کے لئے بجلی کے فی یونٹ ریٹ ہی اس قدر زیادہ ہیں کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے لاگتی اخراجات اس کی کاسٹ کو بڑھا دیتے ہیں مثال کے طور پر ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو فی یونٹ 9 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں فی یونٹ 7 روپے میں بجلی فراہم کی جارہی ہے جبکہ پاکستان میں تقریباً دگنا یعنی 14 روپے فی یونٹ وصول کئے جارہے ہیں ۔ویت نام میں 5 روپے فی یونٹ میں صنعتی بجلی دستیاب ہونے کی وجہ سے جنوبی ایشیائی ممالک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری آئیندہ عرصہ میں ویت نام میں شفٹ ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ایسے ماحول میں ہم کس طرح بیرونی منڈیوں میں ان ممالک کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔؟

انہوں نے کہا جس طرح ٹیکسٹائل کی صنعت میں پروسیسنگ انڈسٹری کو ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے اسی طرح سوئی گیس اس صنعت کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے بد قسمتی سے سابقہ دور میں 18 ویں ترمیم کے ذریعہ بالخصوص صوبہ پنجاب کے لئے گیس فراہمی کے حوالے سے بدترین فیصلہ کیا گیا جس کے نقصان دہ اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں ۔ متبادل ایندھن کی وجہ سے کاسٹ آف پروڈکشن میں اس حد تک اضافہ ہو چکا ہے کہ لوکل مارکیٹ میں چائنا، انڈیا جیسے ممالک کا کپڑا نسبتاً سستے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ انجینئرحافظ احتشام جاوید نے کہا کہ ایسی صورتحال کسی بھی صنعت کیلئے خطرناک ہوا کرتی ہے۔ مینوفیکچر نگ کے مقابلہ میں ٹریڈ کی حوصلہ افزائی سے صنعتوں کی تباہی اور بے روزگار ی میں بے پناہ اضافہ ملکی حالات کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں ۔ ایشیائی ممالک کا مقابلہ کیا کرنا تھاہمیں تو لوکل سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے پنجاب بمقابلہ سند ھ کے گرداب میں پھنسا دیا ہے ۔ بجلی کے نر خوں میں زیادتی ، گیس کی عدم دستیابی کے علاوہ ہائی ریٹ RLNG ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پنجاب سے ختم کرنے کی سازش ہے ۔ حکومت سے اپیل کی جاتی ہے کہ ملک بھر میں بجلی اورپٹرول کی قیمتوں کی طرح گیس اور RLNG کی Wheighted Averageقیمت یکساں طور پر رائج کی جائے تاکہ پاکستان کی ہر صوبہ کی ٹیکسٹائل انڈسٹری یکساں طور پر عالمی منڈی میں مقابلہ کر کے اپنی مصنوعات بیچنے کے قابل ہو سکے۔ اس کے ساتھ سوئی گیس کے بلوں میں حکومتی وعدوں کے مطابق GIDC کے پرانے واجبات کو بلوں سے حذف کیا جائے۔حکومت ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کو خصوصی ریلیف فوری فراہم کرے تا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑی ہو سکے ۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ترقی سے نہ صرف ملکی ایکسپورٹ بڑھنے سے زرِ مبادلہ میں کثیر اضافہ ہو گا بلکہ لوگوں کو روز گار بھی فراہم ہو گا۔ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل کر دیا جائے تو صنعت کاپہیہ چلنے، روزگار میں بہتری اور ایکسپورٹ میں اضافہ کے ذریعہ ملکی معیشت کو سنبھالا مل سکتا ہے

مزید : کامرس