تیرے قدموں پر نثار جان و متاع! محبتِ رسولؐ ہی ایمان ہے۔۔۔!

تیرے قدموں پر نثار جان و متاع! محبتِ رسولؐ ہی ایمان ہے۔۔۔!

جس سے محبت ہو اس کی رضا جوئی اور اطاعت عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ ہر کام میں حضورؐ کے منشا وپسند کو ملحوظ رکھتے تھے اور حضورؐ کی ناراضگی سے بے حد گھبراتے تھے۔ مثلاً سیدنا سعد سیاہ فام تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اسلام کے جانثاروں میں شمار ہونے لگے۔ ایک مرتبہ حضورؐ نے ان کی جانثاری سے خوش ہو کر فرمایا: ’’سعد! شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ انہوں نے عرض کی یا رسولؐ اللہ! مجھ جیسے کالے کلوٹ اور بد صورت کو لڑکی دینا کون پسند کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا: ’’جاؤ قبیلہ ثقیف کے سردار سے کہو کہ مجھے رسول اللہؐ نے بھیجا ہے‘ مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو۔‘‘

سیدنا سعدؓ نے جا کر پیغام پہنچا دیا۔ سردار ان کی صورت دیکھ کر بہت برہم ہوا کہ اپنی حسین وجمیل بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں؟ سیدنا سعدؓ مایوس ہو کر واپس جانے لگے تو پردے کی اوٹ سے آواز آئی: جانے والے ذرا ٹھہر جا۔ وہ ٹھہر گئے‘ پھر آواز آئی: کیا رسول اللہؐ نے تجھے میرے ساتھ نکاح کرنے کو بھیجا ہے؟ اگر یہ واقعی حضورؐ کا ارشاد ہے تو بسر وچشم قبول ہے۔ اس کے بعد اس سعادت مند بیٹی نے باپ کو سمجھایا کہ آپ نے بہت برا کیا کہ رسول اللہؐ کے پیغام پر ناک بھوں چڑھائی اور حضورؐ کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا۔ اسلام تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی کے لیے سب کچھ کرنے کا نام ہے۔ بہتر ہے آپ حضورؐکی بارگاہ میں جا کر اپنی غلطی کی معافی مانگیں۔

بیٹی کی باتوں کا باپ کے دل پر گہرا اثر ہوا اور بات سمجھ میں آگئی کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی۔ چنانچہ فوراً حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت خواہ ہوئے۔ حضورؐ نے تسلی دی اور بالآخر سعد کی شادی عرب کے اسی معزز سردار کی بیٹی سے ہو گئی۔

ایک دفعہ حضورؐ نے ایک انصاری سے فرمایا: ’’تم اپنی بیٹی میرے حوالے کر دو۔‘‘ صحابہ کرامؓ کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہ تھی کہ حضورؐ کی کسی خواہش کو پورا کریں‘ وہ انصاری باغ باغ ہو گئے۔ لیکن سید الانبیاءؐ نے فرمایا: ’’میں اپنے لیے نہیں بلکہ جلبیب کے لیے یہ پیغام دے رہا ہوں۔‘‘

سیدنا جلیبیبؓ کو لوگ عموماً ان کی بے جا ظرافت کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ ان کا نام سن کر سوچ بچار میں پڑ گئے۔ عرض کی حضورؐ! ذرا لڑکی کی والدہ سے مشورہ کر لوں۔ ماں نے جلیبیب کا نام سنتے ہی انکار کر دیا لیکن لڑکی خود بولی کہ رسول اللہؐ کی بات سے انکار مناسب نہیں۔ میرے متعلق حضور پاکؐ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے آگے سر تسلیم خم ہے۔ مجھے امید ہے کہ حضورؐ کی رضا جوئی میں خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہؐ سے عشق ومحبت مومن کا گراں بہا سرمایا ہے اور کسی مومن کا دل اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہی محبت اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی ذات وصفات کے صحیح تصور کا واحد ذریعہ ہے۔ صحابہ کرامؓ بڑے خوش قسمت تھے کہ یہ سرمایہ سب سے زیادہ ان کے حصے میں آیا۔ ان کے سامنے حضورؐ کا وہ حسن صورت بھی تھا جس کے ایک ایک نقش اور خد وخال میں جمال سیرت کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ حضورؐ کی نشست وبرخاست‘ انداز گفتگو‘ صدق وامانت‘ اپنے بیگانے سے بے پناہ ہمدردی‘ شدائد ومصائب میں بے پناہ تحمل‘ غرض کمال انسانیت کا ایک خوب صورت پیکر تھا جو اپنی ہر ادا کی دل کشی کے ساتھ شب وروز دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دے رہا تھا اور لوگ بن بلائے اس حسن کی کرشمہ سازیوں کی طرف کھینچے چلے آتے تھے۔ غرض محبت اور پیار کے بہترین نمونے ہمیں صحابہ کرامؓ کی زندگی میں ملتے ہیں جن کے دل اس سے ہمہ وقت لبریز رہتے تھے۔

صحابہ کرامؓ رسول اللہؐ کے اخلاق وکردار اور آپؐ کے فرمان کی اطاعت میں بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کر لیتے تھے‘ بلکہ اس میں راحت محسوس کرتے تھے اور اموال واملاک تو درکنار اپنی جان تک سے بے نیاز ہو گئے تھے۔ فرمانِ رسولؐ بھی یہی ہے کہ ’’تم میں کوئی کامل ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد‘ ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔‘‘ چنانچہ صحابہ کرامؓ کی تمام زندگی شاہد ہے کہ انہیں حضورؐ کی ذات اقدس ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی۔ مثلاً:

جب غزوۂ تبوک ہوا تو سخت گرمی کا موسم تھا۔ سیدنا خیثمہؓ کسی وجہ سے اس غزوہ میں شریک نہ ہو سکے۔ ایک دن وہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی بیوی نے ان کی راحت وآسائش کے لیے بالا خانے پر چھڑکاؤ کیا ہے۔ پانی سرد کیا ہے اور عمدہ کھانا تیار کر رکھا ہے۔ یہ سب سر وسامان دیکھ کر کہنے لگے: رسول اللہؐ تو اس لُو اور شدید گرمی میں کھلے میدان میں ہوں اور میں سرد پانی اور عمدہ غذا سے لطف اندوز ہوں؟ خدا کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا۔ میں ہرگز بالا خانہ پر نہ جاؤں گا۔ چنانچہ اسی وقت زادِ راہ لیا اور تبوک کی طرف روانہ ہو گئے۔

غزوۂ تبوک میں عدم شرکت کی بنا پر رسول اللہؐ نے سیدنا کعب بن مالکؓ سے سب صحابہؓ کو قطع تعلق کا حکم دیا۔ حتی کہ انہیں اپنی بیوی سے بھی علیحدگی کی ہدایت فرمائی‘ یہ ہدایت سن کر انہوں نے عرض کیا کہ میں اسے طلاق دے دوں؟ حضورؐ کے قاصد نے کہا: نہیں صرف علیحدگی مقصود ہے۔ چنانچہ انہوں نے فوراً بیوی کو میکے بھیج دیا۔

رسول اللہؐ نے شوہر کے علاوہ دوسرے اعزہ کے سوگ کے لیے صرف تین دن قرار دیئے تھے‘ صحابیات نے بڑی شدت سے اس کی پابندی کی۔ چنانچہ سیدہ زینبؓ بنت جحش کے بھائی کا انتقال ہوا۔ چوتھے دن ان سے ملنے اور اظہار افسوس کے لیے کچھ عورتیں آئیں‘ سیدہ زینبؓ نے ان سب کے سامنے خوشبو لگائی اور کہا کہ مجھے خوشبو لگانے کی حاجت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہؐ سے سنا تھا کہ مسلمان عورت شوہر کے سوا کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے۔ میں رسول اللہؐ کے حکم کی تعمیل کر رہی ہوں۔

قریش مکہ نے سیدنا خبیبؓ کو چند روز قید وبند میں بھوکا پیاسا رکھا‘ اسی حالت میں صلیب کے نیچے لے جا کر کھڑا کیا اور کہا کہ اب بھی اسلام سے دست بردار ہو جاؤ تو تمہاری جان بچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر اسلام کی دولت ہی پاس نہ رہی تو جان بچا کر کیا کروں گا؟ سولی پر چڑھنے سے پہلے انہوں نے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت مانگی‘ مہلت مل گئی تو نماز ادا کی‘ اس کے بعد انہیں سولی پر چڑھایا گیا۔ ایک شقی القلب نے ان کے جگر کو چھیدا اور کہا کہ اب بھی تم پسند کرو گے کہ محمدؐ پھنس جائے اور میں چھوٹ جاؤں؟ سیدنا خبیبؓ نے پر جوش لہجے میں کہا: ’’خدا جانتا ہے میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میری جان بچ جائے اور اس کے عوض رسول اللہؐ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے۔ ان کے ساتھ سیدنا زیدؓ بھی گرفتا ہو کر آئے تھے اور ان سے بھی یہی سلوک ہوا۔ انہوں نے بھی یہی بے باکانہ جواب دیا اور سولی پر چڑھا دیئے گئے۔

ایک جنگ کے بعد جب مسلمان واپس آئے تو ایک عورت (جس کا باپ‘ بھائی اور شوہر تینوں جنگ میں شریک تھے) بڑی بے تابی سے باہر نکلی‘ لوگوں نے اسے بتایا کہ تمہارا باپ‘ بھائی‘ شوہر تینوں شہید ہو گئے ہیں۔ عورت نے کہا میں اور کسی کو نہیں پوچھتی بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہؐ کہاں اور کیسے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: آپؐ بفضل خدا صحیح وسلامت ہیں۔ کہنے لگی: ذرا مجھے دکھاؤ۔ جب اس نے دور سے چہرہ مبارک کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھی: ’’آپؐ سلامت رہیں تو ہر مصیبت برداشت ہو سکتی ہے۔‘‘

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جب اسلام قبول کیا تو سب سے پہلے توحید باری تعالیٰ پر خطبہ دیا‘ کفار ان کلماتِ حق سے مانوس نہ تھے اور یہ آواز ان کے آبائی عقائد کے بھی خلاف تھی۔ یہ سنتے ہی ان پر ٹوٹ پڑے اور انہیں اس قدر زد وکوب کیا کہ دیکھنے والوں کو ان کی موت کا یقین ہو گیا۔ ان کے قبیلہ بنو تمیم نے انہیں ایک کپڑے میں لپیٹا اور اٹھا کر گھر لے گئے۔ شام کے قریب انہیں کچھ ہوش آیا تو بجائے اس کے کہ اپنی تکلیف بیان کرتے‘ زبان کھلتے ہی رسول اللہؐ کا حال پوچھا۔ قبیلے کے لوگوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔ بایں ہمہ ان کو اسی ایک محبوب نام کی رٹ لگی رہی۔ آخر کار لوگوں نے انہیں رسول اللہؐ تک پہنچایا۔ حضورؐ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو بڑی رقت پیدا ہوئی‘ ان کے اوپر جھکے اور ان کا بوسہ لیا۔

بے پناہ محبت بعض دفعہ دیوانگی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو جہاں رسول اللہ ؐ سے والہانہ محبت اور آپؐ کی اطاعت کا سوال سامنے آتا ہے وہاں دیکھنے والوں کو وہ دیوانے نظر آتے ہیں اور یہ سب اتباع رسولؐ کی علامت وجذبہ تھا۔ مثلاً جب سیدنا عروہ بن مسعودؓ بارگاہِ نبوت سے ہو کر اپنی قوم کی طرف گئے تو انہیں بتایا کہ میں قیصر وکسریٰ کے درباروں میں گیا‘ ان کا جاہ وجلال بھی دیکھا ہے لیکن رسول اللہؐ کی جو عظمت ان کے اصحاب کے دلوں میں جاگزیں ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ آپؐ تھوکتے ہیں تو آبِ دہن ہاتھ میں لے کر منہ پر مل لیتے ہیں۔ آپؐ وضو کرتے ہیں تو آپؐ کے مستعمل پانی کو حاصل کرنے کے لیے یوں ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے ابھی ان میں لڑائی ہو گی اور آپؐ بات کرتے ہیں تو سب تن بے حس کی طرح ساکت وصامت ہو کر سنتے ہیں۔

سیدنا اسید بن حضیرؓ بڑے خوش طبع اور شگفتہ مزاج آدمی تھے‘ ایک مرتبہ ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے کہ حضورؐ نے ان کے پہلو میں چھڑی چبھوئی‘ انہوں نے آپؐ سے اس کا انتقام لینا چاہا۔ آپؐ اسلامی مساوات کے پیش نظر اس کے لیے راضی ہو گئے۔ لیکن انہوں نے کہا جس طرح چھڑی چبھوتے وقت میرا جسم برہنہ تھا آپؐ کے جسم پر بھی قمیص نہیں ہونی چاہیے۔ آپؐ نے قمیص اوپر اٹھا دی‘ قمیص کا اٹھنا تھا کہ وہ بے تابانہ آپؐ سے لپٹ گئے۔ پہلوؤں کو بوسہ دیا‘ عرض کی یا رسولؐ اللہ! میرا مقصود اصلی یہی تھا ورنہ میں آپؐ سے انتقام لینے کی جرأت کیسے کرتا؟

ایک صحابیؓ کو آپؐ سے بے پناہ محبت تھی اور آپؐ کی خدمت میں اکثر تحفے بھیجا کرتے تھے‘ ایک دن وہ بیٹھے سودا بیچ رہے تھے کہ حضورؐ نے از راہ شفقت پیچھے سے آکر گود میں لے لیا‘ انہوں نے کہا کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔ جب معلوم ہوا کہ رسول اللہؐ ہیں تو اپنی پشت کو بار بار حضورؐ کے سینے سے لپٹاتے تھے۔

رسول اللہؐ کے دیدار سے صحابہ کرامؓ کے ایمان تازہ ہو جاتے۔ اسی لیے حضورؐ کی جلوہ نمائی کے لیے وہ منتظر ومشتاق رہتے تھے۔ چنانچہ حضورؐ جب مرض الموت میں مبتلا تھے‘ نماز کا وقت قریب ہوا۔ پردہ اٹھا کر صحابہ کرامؓ کو نماز کی حالت میں دیکھا تو چہرہ اقدس متبسم ہوا۔ اس آخری دیدار سے صحابہ کرامؓ پر مسرت وخوشی کی عجیب کیفیت طاری ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔

بعض صحابہ کرامؓ آنکھوں کی بینائی کا کام صرف دیدار رسولؐ سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک صحابی کی بینائی جاتی رہی‘ لوگ عیادت کے لیے آئے تو کہنے لگے کہ اس بینائی سے تو صرف دیدار رسولؐ مقصود ہوتا تھا۔ جب آپؐ دنیا سے رخصت ہو گئے تو اب بینائی ہوتی بھی تو کس کام کی تھی؟

رسول اللہؐ کا فیض صحبت صحابہ کرامؓ کے لیے دولت جاودانی تھا۔ انہیں ایک پل بھی رسول اللہؐ کی مفارقت گوارا نہ تھی۔ دشمنوں کی طرف سے خطرات کے موقع پر حضورؐ تھوڑی دیر کے لیے بھی آنکھوں سے

اوجھل ہو جاتے تو جاں نثار صحابہ کو بے حد پریشانی ہوتی تھی۔ چنانچہ ایک بار حضورؐ صحابہ کرامؓ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ آپؐ کسی ضرورت سے اٹھ کر تشریف لے گئے‘ پلٹنے میں زیادہ دیر ہو گئی تو صحابہ کرامؓ گھبرا گئے۔ سیدنا ابوہریرہؓ آپؐ کی جستجو میں نکلے‘ انصار کے ایک باغ کے پاس پہنچے‘ اندر جانے کا راستہ نہ ملا‘ دیوار میں ایک سوراخ نظر آیا‘ اسی میں گھس کر اندر پہنچے۔ وہاں حضورؐ کو دیکھ کر اطمینان ہوا اور حضورؐ سے صحابہ کرامؓ کی پریشانی اور اضطراب کا حال بیان کیا۔

دنیا میں حضورؐ کی صحبت ودیدار سے سیری نہ ہوئی تو بعض صحابہ کرامؓ نے یہ تمنا کی کہ عقبیٰ میں بھی ہم اس دولت سے بہرہ مند ہوں۔ چنانچہ سیدنا ربیعہ بن کعب سلمیؓ سے جو آپ کے خادم تھے‘ ایک بار آپؐ نے فرمایا کہ ’’کچھ مانگو۔‘‘ وہ کہنے لگے: ’’جنت میں حضورؐ کی رفاقت کا متمنی ہوں۔‘‘ پھر ارشاد ہوا: ’’کچھ اور؟‘‘ وہ بولے: ’’بس اسی ایک چیز کی تمنا ہے۔‘‘ حضورؐ نے فرمایا: ’’اگر یہی دولت چاہتے ہو تو نوافل بکثرت پڑھا کرو۔‘‘ حضورؐ کی وفات کے بعد جب آپؐ یاد آتے تو‘ صحابہ کرامؓ بے اختیار روپڑتے اور حضورؐ سے ابدی مفارقت کا تصور انہیں بے تاب کر دیتا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو رسول اللہؐ کی زندگی میں جو رفاقت وقرب کا شرف حاصل تھا اس نے انہیں بے حد رقیق القلب بنا دیا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہؐ نے مرض الموت میں ان کو اپنی جگہ امام بنانا چاہا تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کیا کہ انہیں سمجھیے یہ تو جب حضور کو نہ دیکھیں گے تو خود بھی روئیں گے اور دوسروں کو بھی رلائیں گے۔ سیدنا بلالؓ جو حضورؐ کے مؤذن خاص تھے نے آپؐ کی وفات کے بعد اذان چھوڑ دی کیونکہ آقائے نامدارؐ کی یاد سے دل بھر آتا تھا۔

ایک دن سیدنا عمرؓ کے عہد خلافت میں ان کے اصرار سے مجبور ہو گئے اور اذان دینا شروع کی‘ ان کی آواز سن کر حاضرین پر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ رسول اللہؐ کے مبارک عہد کا نقشہ آنکھوں کے آگے پھر گیا۔ دل بے چین ہو گئے۔ سب کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ سیدنا عمرؓ کا تو حال عجیب ہوا۔ ان کی تو ہچکی بندھ گئی۔ سیرت صحابہؓ میں ہے کہ سیدنا عمرؓ ایام خلافت میں رات کو گشت کے لیے نکلے۔ ایک مکان کے قریب سے گذرے تو آواز آئی‘ ایک عورت روئی دھنک رہی تھی اور یہ اشعار پڑھ رہی تھی:

علی محمدؐ صلوات الابرار

صلی علیہ الطیبون الاخیار

قد کنت قواما بکاء بالاسحار

یا لیت شعری والمنایا اطوار

ہل یجمعنی وحبیبی الدار

’’محمدؐ پر ابرار کے درود ہوں‘ ان پر پاک لوگ اور نیک لوگ درود پڑھ رہے ہیں۔ وہ تو راتوں کو جاگنے والے اور سحر کو رونے والے تھے‘ موت تو بہت طرح سے آتی ہے‘ اے کاش! مجھے یقین ہو جائے کہ مرنے کے بعد مجھے حضورؐ کی زیارت نصیب ہو گی۔‘‘

سیدنا عمرؓ وہیں بیٹھ گئے‘ روتے رہے‘ ان اشعارِ دلگداز نے حضورؐ کی جدائی کے زخم تازہ کر دیئے۔ اس صدمہ سے بیمار ہو گئے اور چند روز تک صاحب فراش رہے۔

مزید : ایڈیشن 1