احمد پور شرقیہ میں الٹنے والا ٹینکر غیر قانونی طور پر آئل لے جارہا تھا : ابتدائی رپورٹ

احمد پور شرقیہ میں الٹنے والا ٹینکر غیر قانونی طور پر آئل لے جارہا تھا : ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ احمد پور شرقیہ میں الٹنے والے آئل ٹینکر کا لائسنس ختم ہو چکا تھا،ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ رپورٹ سانحہ احمد پور شرقیہ کے ذمہ داروں کے تعین اور ہسپتالوں میں برن یونٹس کی اصل تعداد ریکارڈ پر لانے کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش کی گئی ۔فاضل جج نے آئندہ تاریخ سماعت پراوگرا،نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس اور نجی آئل کمپنی کے ذمہ دار افسروں کو طلب کر لیاہے۔درخواست گزار ہیلمز فاونڈیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں آگ لگنے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں میں جلنے والوں کے علاج کے لئے برن یونٹس ہی موجود نہیں۔ااحمد پور شرقیہ حادثہ آئل کمپنی کی غفلت اور حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کے سبب پیش آیا۔محکمہ ایکسپلوسیو کی جانب سے سرکاری وکیل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ احمد پور حادثہ میں الٹنے والے آئل ٹینکر کا لائنسنس گزشتہ سال ختم ہو چکا تھا،غیر قانونی طور پر تیل لے جانے پر نجی آئل کمپنی کو شوکاز نوٹس بھجوایا جا چکا ہے۔عدالتی حکم کے باوجود اوگرا،نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر عدالت نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے اوگرا اور دیگر فریقین کے ذمہ دار افسروں کو 7جولائی کو جواب سمیت عدالت میں طلب کر لیاہے۔

آئل ٹینکر

مزید : علاقائی