فوجداری مقدمات میں پنچائتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،سپریم کورٹ

فوجداری مقدمات میں پنچائتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے پنچایت کی ہدایت پر مبینہ طور پر چوری ہونے والے بھینّسے کی ڈی این اے رپورٹ مسترد کردی،عدالت عظمیٰ نے بھینسا چوری کرنے کے الزام میں دو ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں پنجائت کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عمر عطاء بندیال اورجسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملزم جاوید ورک اور ارشاد ورک کی درخواست ضمانت کی سماعت کی ۔درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سیاسی مخالفوں نے پولیس کی ساز باز سے ان پر بھینسا چوری کرنے کا جھوٹا مقدمہ درج کروادیا، مقامی طور پر پنچائت نے مبینہ چوری ہونے والے بھینسے کا محکمہ لائیو سٹاک سے ڈی این کرانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفوں نے ملی بھگت سے بھینسے کی ڈی این اے رپورٹ تیار کر لی۔

پنچائتی فیصلہ

مزید :

علاقائی -