مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر کابینہ کانیپرا ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ معطل

مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر کابینہ کانیپرا ایکٹ میں ترامیم کا ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر سید منصور علی شاہ نے مشترکہ مفادات کونسل کی باضابطہ منظوری کے بغیر نیپرا ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کی منظوری کے حوالے سے وفاقی کابینہ کا فیصلہ معطل کر دیاہے۔فاضل جج نے پاکستان تحریک انصاف کے راہنماجہانگیر ترین کی درخواست پر نیپرا ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل اوروفاقی کابینہ کے اجلاس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے جبکہ آئندہ سماعت پر وزارت پانی و بجلی اور مشترکہ مفادات کونسل کے ذمہ دار افسروں کو بھی پیش ہونے کا حکم دیاگیا ہیّدرخواست گزار جہانگیر ترین کے وکیل مصطفی شیرپاؤ نے موقف اختیار کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے 31 ویں اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی عدم موجودگی کے باوجود سفارشات کو غیر آئینی طور پر منظور کر لیا گیا ۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کو مذاق سمجھ رکھا ہے، اداروں کا احترام نہیں کرنا تو پھر مشترکہ مفادات کونسل کو ختم کر دیں، عدالت نے نیپرا ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کی منظوری کی حوالے سے کیا جانیوالے نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے کونسل اور کابینہ کا تمام ریکارڈ 27جولائی کو طلب کر لیاہے۔

مفادات کونسل

مزید : علاقائی