حج کوٹہ 2017ء کی تقسیم کا ڈراپ سین؟

حج کوٹہ 2017ء کی تقسیم کا ڈراپ سین؟
 حج کوٹہ 2017ء کی تقسیم کا ڈراپ سین؟

  

پرائیویٹ حج سکیم 2006ء سے کامیابی کے ساتھ مرحلہ وار اپنی غلطیوں پر قابو پاتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اور موجودہ حکومت نے بھی چار حج کامیابی سے کروائے خوب نام بھی کمایا اور داد بھی وصول کی۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف وزیر مملکت پیر حسنات احمد کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جنہوں نے اپنی ساری کوششیں سرکاری حج سکیم کی کامیابی اور اس کی تشہیر میں صرف کر دیں اور پرائیویٹ سکیم کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔ سعودی حکومت ہماری حکومت کی نجی پالیسی کے پوری دنیا کی طرح پاکستان سے بھی حج کو مرحلہ وار پرائیویٹ کرنا چاہتی ہے، مگر 2013ء کے حج سکینڈل کی عدالتوں میں سماعت کے دوران میڈیا میں حج سکینڈل کی سماعت کے دوران زمینی حقائق سے یکسر پہلوتہی کی جاتی رہی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے ذمہ داران سعودی عرب میں عمارتیں خریدنے اور کمیشن بنانے میں مصروف رہے۔ کئی دفعہ تحریر کر چکا ہوں علامہ حامد سعید کاظمی، راؤ شکیل، راجہ آفتاب پر جو الزام لگا وہ کل عمارتوں کا صرف 19فیصد عمارتیں خریدنے پر تھا اس بحث میں پڑے بغیر الزام کتنا سچ کتنا جھوٹ تھا کہ اب وہ عدالتوں سے باعزت بری ہو چکے ہیں۔5سال پابند سلاسل رہنے کے بعد بدنامی کا داغ ہمیشہ کے لئے اپنے اوپر لگوا چکے ہیں۔ بحث مقصود نہیں ایک بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جو عمارتیں حج 2013ء کے لئے حاصل کی ہیں وہ براہ راست لینے کی بجائے پراپرٹی ایجنٹوں کے ذریعے حاصل کی ہیں جس میں کمیشن حاصل کیا گیا۔ فیض نامی شخص بھی 3سال کے بعد گرفتار ہوا ہے۔19 فیصد عمارتوں میں کتنے کروڑ کا کمیشن کھایا گیا ہو گا حساب لگایا جا سکتا ہے۔

چار سال سے کامیاب حج کروانے والوں کا ایک پہلو تو قابل ستائش ہے۔ اس میں حج سستا کیا گیا جب سرکاری حج سستا ہو گیا تو بہت سے گناہ خود بخود دُھل جاتے ہیں۔ حاجی حج کرکے اپنی دو دو بسوں میں سوار ہو کر حرم پہنچنے ، منی میں تین وقت میں صرف چائے ملنے اور حرم سے 11کلومیٹر دور رہائش کا رونا کیسے رو سکتا ہے جبکہ وہ خود سستے حج کے نام پر پھنسا ہوتا ہے۔ عملی طور پر جب دال کی پلیٹ کے لئے میاں بیوی 100حاجیوں کی لائن میں لگے ہوتے تھے ان کا ضبط ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ درمیان میں حاجی کا احوال آ گیا میرا سوال تھا جو اخبارات کے ایڈیٹرز کی سردار محمد یوسف کے ساتھ نشست میں کیا گیا وہ یہ تھا کہ جناب والا آپ چار سال میں سرکاری عازمین حج کے لئے حاصل کی گئی عمارتوں کی تفصیل قوم کو بتائیں گے؟ کتنی عمارتیں ایجنٹوں کے ذریعے لی گئی اور کتنی عمارتیں براہ راست لی گئی ہیں۔ جواب میں وفاقی وزیر نے معذوری کااظہار کیا کہ میرے پاس ریکارڈ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر کے قریبی حلقوں کی طرف سے نئی انرول ہونے والی کمپنیوں کے ساتھ میٹنگ پھر ان کی تنظیم سازی بار بار ملاقاتیں لاہور ہائیکورٹ، پشاور ہائی کورٹ ،کوئٹہ ہائی کورٹ ،سندھ ہائی کورٹ پھر سپریم کورٹ میں ایک ہزار سے زائد حج کوٹہ کے لئے درخواستیں دلوانا ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔ دو عملی کہاں تھی کون سازش کر رہا تھا؟ دوپہر شام سرکاری حج سکیم کی تعریفیں رات کو نیا حج کوٹہ دلانے کی منصوبہ بندی، وفاقی سیکرٹری پر دباؤ ایڈیشنل سیکرٹری پر دباؤ ،سیکشن آفیسر کو راستہ نکالنے کا حکم وغیر وغیر۔

پرائیویٹ حج سکیم اگر اتنی بری تھی تو اس کو 100 فیصد ختم کرنے کی بات ہونا چاہیے تھی۔ ثبوت پیش کئے جانے چاہئے تھے۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سکیم کے 742حج آرگنائزر جن کو پوری دنیا سے آنے والے پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر میں سے پاکستان کو پہلا نمبر دیاگیا بلکہ کہا گیا پاکستان میں پرائیویٹ سکیم نے مرحلہ وار غلطیوں پر قابو پایا ہے۔ اوراس مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے کہ مقابلے کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ حج 2006ء سے حج 2016ء تک کی کارکردگی بہتر سے بہتر ہوئی ہے۔ ان حالات میں پرائیویٹ حج سکیم کی مخالفت اور پھر شام کو کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورابکس کھولنے کے لئے راستہ نکالنے کی باتیں۔ سیاسی دباؤ کا رونا کیسا ہے؟ بات دوسری طرف نکل گئی۔2012ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر انرول کی گئی 2200سے زائد کمپنیوں کے لئے لائحہ عمل بنایا جانا چاہیے تھا کسی کام کی جزا طے ہوتی ہے تو اس کی سزا بھی طے ہونا چاہیے مگر تین سال انرول کمپنیوں کو نہیں چھیڑا گیا۔ حج 2016ء میں بھی حج پالیسی بنانے کے ساتھ مافیا نے مخصوص لابی کو سرگرم کر دیا۔ حکم امتناعی پر حکم امتناعی حاصل کئے جاتے رہے جو کام رمضان سے بہت پہلے ہونا چاہیے تھا وہ رمضان کے آخر میں مکمل ہوئے پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر سکون سے نہ عمارتیں حاصل کر سکے نہ مکتب نہ بسیں حاصل کر سکے نہ ہی بہتر منصوبہ بندی کر سکے۔ اس کے باوجود حج 2016ء پرائیویٹ سکیم کے لئے بہترین قرار پایا تو 10سال سے کام کرنے والوں نے وزارت کی طرف نظریں لگا لیں کہ ہمیں غلطی پر تو پکڑا جاتا ہے لاکھوں روپے جرمانہ کیا جاتا ہے اچھی کارکردگی پر کوئی سرٹیفکیٹ ملے گا کسی کا کوٹہ زیادہ ہوگا ایسا کرنے کی بجائے حج 2017ء کے لئے اسی مخصوص لابی کو پھر سرگرم کر دیا گیا جس نے گزشتہ حج آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی۔ حج پالیسی 2017ء کا Mouسائن ہوا حج 2016ء کا کلیہ حج 2017میں پچاس فیصد سرکاری اور پچاس فیصد پرائیویٹ رکھنے پر اتفاق ہوا پھر حج پالیسی منظور ہوئی۔2016ء کے حج آرگنائزر 2017ء میں ذمہ داری ادا کریں گے۔ پھر حج دشمن مافیا ایک طرف حج کوٹہ کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ دوسری طرف 10سال سے کام کرنے والوں کو ڈاکو، بروکر مافیا قرار دے کر فارغ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اور ساتھ سپریم کورٹ میں رٹ پر رٹ دائر کی جاتی رہی۔ کہ پہلے کام کرنے والے حج آرگنائزر نہیں، ڈاکو ہیں۔ اصل میں ہم آپ کا دست و بازو بنیں گے۔ سرکاری حج سے بھی 20ہزار سے 50ہزار تک سستا حج کروائیں گے۔ پہلے حج آرگنائزر کوٹہ فروخت کرتے ہیں دو دو لاکھ منافع لیتے ہیں ہم عبادت سمجھ کر سستا حج کروائیں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ان کو ہر صورت اکاموڈیٹ کیا جائے یہ لوگ سستا حج کروائیں گے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا دوسانی کیس کے مطابق نئی کمپنیوں کو کوٹہ دیا جائے۔ پرائیویٹ حج سکیم کی خوش بختی کہ انہیں خالد مسعود چودھری کپٹن آفتاب کی شکل میں ایسے وفاقی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری مل گئے تھے جنہوں نے ایمانداری کے ساتھ میرٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کا عزم کر لیا۔ ناصر عزیز خان، اظہر اقبال ہاشمی ،فرید خٹک نے بھی اپنے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی معاونت کی ،لیکن بغیر کسی شکایت اور وجہ سے سابق کمپنیوں کا دو سے دس فیصد کوٹہ کاٹ کر نئی 29کمپنیوں کو کوٹہ دے دیا۔ عید کی چھٹیوں سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ میں میرٹ کے مطابق دیئے گئے کوٹے کا ریکارڈ جمع کرا دیا گیا۔

حج آپریشن 2017ء کے شروع ہونے سے 20دن پہلے 29نئی اور 722پرانی کمپنیوں کو آفر لیٹر دے دیئے گئے میرٹ پر کوٹہ ملنے پر 29افراد خوش تھے مگر چھٹیاں ختم ہوتے ہی سیاسی سفارشی کمیشن نذرانہ مافیا نے شور مچا دیا کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ اس وقت جب 29کمپنیاں جو سپریم کورٹ کے حکم پر کوٹہ لے کر بکنگ کا آغاز کر چکی تھیں ان کے لیٹر روکنے کا فیصلہ قائمہ کمیٹی نے دے دیا۔ وفاقی سیکرٹری خالد مسعود چودھری اور ایڈیشنل سیکرٹری کے دبنگ اور دوٹوک موقف اور دلائل کی وجہ سے قائمہ کمیٹی کو قائل ہونا پڑا کہ کسی جگہ ڈنڈی نہیں ماری گئی۔ اب 20جولائی کو حج آپریشن شروع ہو رہا ہے۔10دن پہلے پرائیویٹ سکیم کے حج آرگنائزر کے ساتھ پیکیجز کے مطابق بکنگ کرنے کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فیصلے صادر کئے جا رہے ہیں کہ 20جولائی کو نہ جائیں 25جولائی کو چلے جائیں۔

یہ بتانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔کہ10دنوں میں ملٹی پل ویزے کیسے لگیں گے ایئر لائنز سے کیسے سیٹیں ملیں گی۔ عزیزہ مکہ مدینہ میں ہوٹل کیسے لیتے ہیں۔ مکتب میں لاکھوں ریال آن لائن کیسے بھیجتے ہیں۔ شاہی فرمان جاری ہو رہے ہیں۔ زمینی حقائق کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔20ہزار روپے سرکاری حج سے سستا پیکیج رکھنے کے دعوے دار کوٹہ ملتے ہی آنکھیں بدل چکے ہیں۔4لاکھ 80ہزار سے 7لاکھ کا پیکیج بنا رہے ہیں۔ 3سے چار نئے کوٹہ ہولڈرز کی طرف سے فارم فروخت کرنے کی بھی خبریں ہیں وزارت کب تک آنکھیں بند رکھے گی۔ سوال اٹھ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور، وزیر مملکت اور قائمہ کمیٹی سٹینڈنگ کمیٹی کا صرف سرکاری حج ہے پرائیویٹ نہیں ہے؟ اگر یہی حالات رہے تو حج 2017ء پرائیویٹ سکیم کا حج آپریشن متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ مالی سکینڈل بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ذمہ دار کون ہو گا حج کوٹہ کی تقسیم کا ڈراپ سین فی الوقت تو ہو گیا ہے کوٹہ لینے والے بھی سر پکڑے بیٹھے ہیں اور پہلے سے کوٹہ ہولڈر بھی کبھی وزارت کی طرف اور کبھی اپنی نمائندہ ہوپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔پرائیویٹ سکیم کے ساتھ ایسا سلوک اور وہ بھی ہر سال، آخر کیوں؟

مزید :

کالم -