’’ مدعی لاکھ برا چاہے‘‘

’’ مدعی لاکھ برا چاہے‘‘
 ’’ مدعی لاکھ برا چاہے‘‘

  

برق لکھنوی نے ڈیڑھ سو برس پہلے ہی کہہ دیا تھا، ’مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘، اکبر الہ آبادی کی زبان میں مدعی کو رقیب سمجھ لیں،کہا، ’رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں، کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں‘۔ مجھے یہ دونوں کلاسک کا درجہ اختیار کرجانے والے اشعار جے آئی ٹی کی حالیہ آنیوں جانیوں پر یاد آئے، مجھے یادآیا کہ دھرنے کے دنوں میں بھی میاں نواز شریف حسب روایت کتنے ہی دنوں کے لئے مکے اورمدینے کے مکین ہوگئے تھے، یار دوستوں نے گرہ لگائی کہ وزیراعظم اپنا اقتدار بچانے کے لئے اپنے سعودی دوستوں سے مددلینے کے لئے گئے ہیں، میرے ایک کالم کا آغاز ہی اس رائے سے تھا کہ اگر میاں نوا ز شریف سعودی بادشاہوں سے مدد لینے گئے ہیں تو میں نہیں جانتا کہ یہ مدد کس حد تک کارگرثابت ہو گی، وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افسران اور مٹھی بھر سیاستدانوں کے اس گروہ کا راستہ کیسے روکیں گے لیکن اگر وہ دونوں جہانوں کے شہنشاہ سے مدد مانگنے اس کے گھرگئے ہیں تو پھر جان لیا جائے، مان لیا جائے کہ وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور جسے چاہے، اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں دیتا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ برق لکھنوی کا شعر تو یاد آنے کی وجہ سامنے آگئی یہ حضرت اکبر الہ آبادی کہاں سے یاد آئے، اکبر الہ آبادی مریم نوازشریف کی گفتگو سے یاد آئے، رقیب یہ تو نہیں کہتے کہ نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کر دی، سی پیک کو حقیقت بنا دیا، مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پا لیا تو وہ چوتھی ہی نہیں پانچویں بار وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں، ان کی اصل شکایت، خوف اور مسئلہ بھی یہی ہے۔ بھولے نے مجھ سے پوچھا، کیا پاکستان کے بہت سارے بااختیار لوگ نہیں چاہتے کہ یہ مسائل حل ہوں، میں نے جواب دیا، یہ ان کے مسائل ہی نہیں ہیں، اسٹیبلشمنٹ والے جہاں رہتے ہی وہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی، ان کے گھروں سے دفتروں اور کلبوں ہر جگہ تک کے لئے پکی اور کھلی سڑکیں موجود ہیں، ان کے بچے جن تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں ان کے باہر بہت سارے ادارے پہلے ہی نوکریوں کی فہرست لئے کھڑے ہوتے ہیں۔لوئر مڈل اور مڈل کلاس کے مسائل اب ہائر کلاس سے مختلف ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ تو اس سے بھی بہت آگے اور اوپر کی چیز ہے۔اس سدا بہارحکمران کے مقابلے میں بے چاری جمہوریت ہے، اس کے قاتل بدل جاتے ہیں اور کبھی خنجر بدل جاتے ہیں مگر نشانہ لیاقت علی خان سے لے کر اب تک ایک ہی رہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہو گا، جواب سادہ ہے کہ وہی ہو گا جو منظور خدا ہو گا۔مدعی کی اس وقت دوڑوزیراعظم نواز شریف کو نااہل کروانے تک ہے ورنہ ایک وقت تھا کہ وہ جان کے درپے تھے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ ازخود وزیر اعظم کو نااہل نہیں کر سکے گی، اس پر سپریم کورٹ کو فیصلہ لینا ہو گا او رتادم تحریر جے آئی ٹی کی کارروائی مکمل طور پر متنازعہ ہوچکی ہے۔ہمارے دوست عبدالعلیم خان کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں کوئی فرق نہیں، وہ ایک ہی کتاب کے دو صفحے ہیں اور میں ان کی بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ دنیا بھر کے نظام عدل میں کبھی عدلیہ اورتفتیشی ادارے ایک نہیں ہوتے، اگر ایسا ہو تو جس پر بھی فرد جرم عائد ہو وہ سزا یافتہ ہوجائے لہذا مدعی نے تو ماضی قریب میں بھی بہت برا چاہا تھا جب شاہراہ دستور پر کفن اوڑھ لئے تھے اور قبریں کھود لی تھیں۔ پاناما کیس پر یہ عدالتی جنگ کا دوسرا مرحلہ ہے، پہلے مرحلے کا نتیجہ آ چکا اور حکمران جماعت تین، دو سے وہ میچ جیت چکی۔ ہمارے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی پر اعتراض کیوں، اس وقت تو فیصلہ آنے پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں۔ جناب عقل ، ہمیشہ بھینس سے بڑی ہوتی ہے مگر آپ بھینس کو بڑا مانتے ہیں۔ جس روز مٹھائیاں تقسیم کی گئی تھیں اس روز یہ سمجھا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم نواز شریف کو اسی طرح گھر بھیج دے گی، مگر ایسا نہیں ہوا، اس روز آئین اور جمہوریت پسندوں کا جشن منانا بنتا تھا اور پھراس کے بعد منیر نیازی کے بقول ایک دریا عبور کرنے پر انہیں ایک نئے دریا کا سامنا تھا۔

میں تو فرض بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مدعی خدا کے چاہنے کے بغیر کچھ چاہ بھی سکتا ہے، اس کا کامیاب ہونا تو بہت دور کی بات ہے مگر تصور کر لیتے ہیں کہ مدعی اس وقت جو برا چاہ رہا ہے، وہ ہوجاتا ہے توکیا اس کے نتیجے میں بھی تحریک انصاف کے سربراہ وزیراعظم نہیں بن جائیں گے، اب برائے مہربانی وہ معروف پنجابی لطیفہ یہاں یاد مت کیجئے گا۔ وزیراعظم مسلم لیگ نون سے ہی ہو گا جس کا ہر قدم میاں نواز شریف کی قیادت اور کریڈٹ کے تحت ہی ہوگا۔یہ عین ممکن ہے کہ اس کے بعد اپوزیشن قومی اسمبلی کی تحلیل کی مہم چلا دے مگرمیں ذاتی طور پر قائل ہوں کہ نواز شریف اسمبلی نہیں توڑیں گے لیکن اگر قومی اسمبلی توڑی بھی جاتی ہے تو کیا خیبرپختونخوا اور سندھ کی اسمبلیاں بھی توڑی جائیں گی، ہرگز نہیں ،جو جرات دھرنوں میں نہیں ہوئی وہ اب کیسے ہو گی، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات ایسے منظرنامے میں ہوں گے جب آبادی کے مطابق آدھے سے زیادہ پاکستان میں مسلم لیگ نون، پنجاب کی حکومت کی صورت میں، منتظم ہو گی اور پورے ملک کے ووٹروں کے دلوں میں ان کے لئے ہمدردی کی لہر۔ قبل از وقت انتخابات مسلم لیگ نون کو اپنا مقدمہ عوام کے سامنے پیش کرنے کا موقع دے دیں گے کہ وہ بجلی کے کارخانوں اور موٹرویز کاجال بچھا رہے تھے کہ سازشی عناصر نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ مسلم لیگ نون اس وقت تک انتہائی کامیاب سیاسی حکمت عملی سے جے آئی ٹی کو سازشیوں کا آلہ کار ثابت کرچکی ہے۔

کسی نے کہا، اپنے رب سے مانگنا ہے تو علم، دولت اور حسن سمیت کچھ مت مانگو، مانگنا ہے تو اپنے رب سے مقدر مانگو۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے رب سے مقدر مانگ کے لائے ہیں اور اس مقدرکے نامے پر مکے ، مدینے جا کر بار بار تصدیقی مہریں ثبت کرواتے رہتے ہیں، ان کا مقابلہ ایسے بدقسمت سے ہے جو حج کا ارادہ بھی کرتا ہے تو محدود ، وقتی اور غیر یقینی سیاسی مفادات کے لئے ترک کر دیتا ہے۔ میں نے مریم نواز شریف کو جے آئی ٹی میں پیش ہوتے ہوئے اور بعد میں سیاسی طور پر مخالفین کو للکارتے ہوئے سنا، مخالفین کا خیال تھا کہ وہ مریم نواز شریف کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو دباو میں لے آئیں گے، حسین نواز کی مجبوری کے عالم میں بیٹھے ہوئے فوٹولیک سے ہمدردیاں اکٹھی کر لیں گے مگر الٹی ہوگئی سب تدبیریں اور کچھ نہ دوا نے کام کیا کہ سب سے بہتر کارساز اور سب سے بہتر حیلہ کرنے والا توکوئی اور ہے ، یہ وہی ہے جو لوگوں کے ہنسنے اور رونے کافیصلہ کرتا ہے، وقت آتا ہے کہ دوسروں کو رلانے کے دعوے کرنے والے ایک سلیوٹ پر دھاڑیں مار مار کے رونے لگتے ہیں۔

یہ میاں نواز شریف کے مقدر میں لکھا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بھی بنیں گے اور وزیراعظم بھی، اس سے اچھا، بھرپور اور طاقت ور مقدر کیا ہو سکتاہے مگر میں سوچتا ہوں کہ دولت، عزت ، اقتدار، خاندان اور اچھے دوستوں کے ساتھ ساتھ ایک دعا یہ بھی ہونی چاہئے کہ ہمارا رب ہمیں مخالف بھی باظرف اور خاندانی عطا کرے۔

مزید :

کالم -