ضامن ممالک میں اختلافات، پانچویں آستانہ مذاکرات تعطل کا شکار

ضامن ممالک میں اختلافات، پانچویں آستانہ مذاکرات تعطل کا شکار

  

آستانہ(این این آئی)شام میں دیر پا قیام امن کے لیے قزاقستان کے صدر مقام آستانہ میں روس، ایران اور ترکی کی زیرنگرانی ہونے والے مذاکرات ان تینوں ضامن ملکوں کے باہمی اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق تینوں ملکوں کے مندوبین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متوقع معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔تینوں ضامن ملکوں ایران، روس اور ترکی کے درمیان اختلافات ہیں۔ تینوں ملکوں نے اختلافات دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم ہے جو پہلے ضامن ممالک کے مواقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔اسی سیاق میں روس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو نے شام سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ روسی وفد کاکہنا ہے کہ شام میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق سات دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔

ان تمام دستاویزات کی روشنی میں امور کا طے کیا جانا ابھی باقی ہے۔ادھر شام کے سرکاری وفد کے سربراہ بشار الجعفری نے ترکی پر شام میں امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ گذشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انقرہ کے موقف کی وجہ سے مذاکرات کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی رائے گاں گئی ہیں۔شام میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کیلیے کوشاں تینوں ممالک ایران، روس ار ترکی نے آستانہ مذاکرات کا آئندہ اجلاس اگست کے پہلے ہفتے میں بلانے کا اعلان کیا ہے۔آستانہ مذاکرات کے پانچویں دور میں مختلف وفود کی باہمی ملاقاتیں جاری رہیں۔ اس موقع پر شامی اپوزیشن کے کئی گروپ غیرحاضر تھے جب کہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے اپوزیشن گروپوں نے بھی اسد رجیم پر مخصوص ایجنڈا مسلط کرنے کا الزام عاید کیا اور خبردار کیا کہ حکومت کی جانب سے من پسند حل مسلط کرنے کی کوششیں بات چیت کو ناکامی سے دوچار کریں گی۔

مزید :

عالمی منظر -