بھارت میں شادیوں کی رجسٹریشن لازمی بنا دینے کی سفارش

بھارت میں شادیوں کی رجسٹریشن لازمی بنا دینے کی سفارش

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں ایک غیر معمولی پیش رفت کے تحت حکومتی قانون کمیشن نے مسلمانوں سمیت تمام فرقوں کے افراد کی شادیوں کی رجسٹریشن لازمی کر دینے کی سفارش کی ہے۔ بعض حلقے اسے اپنے عائلی قانون میں مداخلت کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق پیچیدہ قانونی امور پر حکومت کو مشورہ دینے والے قومی قانون کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ تمام مذاہب کے شہریوں کی شادیوں کو شادی کے تیس دن کے اندر اندر لازمی طور پر رجسٹریشن کیا جانا چاہیے اور مسلمانوں سمیت کسی بھی عقیدے کے افراد کو اس عمل سے استثنیٰ نہ دیا جائے۔اس کے علاوہ رجسٹریشن میں بلاوجہ تاخیر پر یومیہ پانچ روپے کے حساب سے جرمانہ بھی عائد کیا جائے اور شادی سے متعلق غلط یا گمراہ کن معلومات دینے پر بھی جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تجویز کے مطابق کسی بھی شادی کو ایک سال کے اندر اندر رجسٹرکرایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے مجاز اتھارٹی سے تحریری منظوری لینا ہو گی جب کہ ایک سال کے بعد صرف کسی فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کی منظوری کے بعد ہی کسی شادی کی رجسٹریشن ممکن ہو سکے گی۔ اس کمیشن نے تاہم واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن نہ کرانے پر قانون کے نظر میں کوئی شاد ی غیر مؤثر نہیں ہو گی۔قومی قانون کمیشن کے سربراہ اور بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی چوہان نے شادیوں کی رجسٹریشن کی حمایت میں پیش کردہ اپنی سفارشات میں کہاکہ حالیہ دنوں میں فرضی شادیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں اور لازمی رجسٹریشن کی عدم موجودگی میں خواتین دھوکا دہی کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان کے لیے معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور وہ قانونی تحفظ سے بھی محروم رہتی ہیں۔ لازمی رجسٹریشن سے شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے میں بھی آسانی پیدا ہو گی،وزیر اعظم مودی کی حکومت میں ملکی وزارت قانون نے گزشتہ فروری میں اس قانون کمیشن کو شادیوں کی لازمی رجسٹریشن کے معاملے پر غورکر کے اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔ کانگریس پارٹی کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد کی سابقہ حکومت میں بھی 2012 میں اس حوالے سے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ ایوان بالا نے اس کی منظوری دے دی تھی لیکن 2014 میں جب لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا گیا تھا تو لوک سبھا تحلیل ہو جانے کی وجہ سے اس بل کی منظوری کے لیے مقررہ مدت بھی قانونی طورپر ختم ہو گئی تھی۔

مزید : عالمی منظر