ایٹمی دھماکہ کرنے والے کا جعلی ا حتساب ،اپوزیشن سازش کر رہی ہے جے آئی ٹی کا معاملہ ہو جائے دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے : نواز شریف

ایٹمی دھماکہ کرنے والے کا جعلی ا حتساب ،اپوزیشن سازش کر رہی ہے جے آئی ٹی کا ...

وزیراعظم کے طیارے سے (سہیل چوہدری) وزیراعظم محمد نوازشریف نے شکوہ کے لہجہ میں کہا ہے کہ جس نے ایٹمی بٹن دبا کر ملک کو ایٹمی قوت بنایا ، چاہئے تو یہ تھا کہ اسے شاباش ملتی لیکن اس کا احتساب کیا جارہاہے ، وہ بھی جعلی۔لیکن نیت صاف ہے اس لئے اب ہم جے آئی ٹی کے عمل سے گزرنا چاہتے ہیں کبھی بڑھک نہیں ماری لیکن سازشوں میں شریک اپنے اور سازش کرنیوالی دھرنا پارٹی سے تو ہم سیاسی میدان میں بخوبی نمٹ لیں گے ، بھارت کو ا فغانستان کیلئے اس وقت تک راستہ نہیں دینگے جب تک مسئلہ کشمیر کے حل سمیت اس سے دیگر معاملات طے نہیں ہوتے ، وہ دو روزہ دورہ تاجکستان کے بعد اپنے خصوصی طیارے میں وطن واپس آتے ہوئے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کررہے تھے ، انہوں نے سوال کیا کہ کس چیز کا احتساب ہورہاہے ، قومی خزانے میں کہاں لوٹ کھسوٹ یا کرپشن ہوئی ہے ، ا میرے سمیت ہم سب نے جے آئی ٹی سے پوچھا کہ الزام کیا ہے ؟جے آئی ٹی تو ابھی تک ہم پر الزام ڈھونڈ رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہتے تھے ، ہر طرح کی پیش کش کی ، ملکر ٹی او آر بنانیکی پیش کش کی لیکن ان کے مقاصد کچھ اور تھے ، اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی طرف لگے ، اگر ہم نے درمیان میں کوئی سیاسی فیصلہ کیا تو اس پر تنقید ہوگی ، جب ہمارے ہاتھ صاف ہیں کوئی سرکاری خورد برد کا الزام نہیں۔ انہوں نے بااعتماد لہجہ میں کہا کہ وہ اس آزمائش سے گزرسکتے ہیں ، حالات کا تقاضا بھی یہی ہے تاہم انہوں نے توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے ملک کی معیشت پر اثر پڑ رہاہے ، پاکستان کی معیشت جو تیزی سے ابھر رہی ہے متاثر ہونے لگی ہے سٹاک مارکیٹ کی گراوٹ اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ اس کے واضح اشارے ہیں، جہاں تک توانائی بحران کا معاملہ ہے تو یہ قریباختم ہونے کو ہے ، ان سے جب استفسار کیا گیا کہ آپ اس بحران کے خاتمہ کیلئے ریاست کے دیگر اداروں سے بات کیوں نہیں کرتے تو وزیراعظم نے انگلی اوپر اٹھا کر کہا کہ ان کے ہاتھ صاف ہیں اور وہ صرف اللہ سے بات کرینگے ، انہوں نے فریش مینڈیٹ لینے کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں آئینی مدت پوری کریں ، اب دیکھنا چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی کیا کرتی ہے حالات کا تقاضا بھی یہی ہے تاہم جب میرے ہاتھ ہی صاف ہیں تو اچھے فیصلے کی توقع ہے ،وزیراعظم نے اپنے دورہ تاجکستان کے حوالے سے کہا کہ اگرچہ پاکستان ہمسایہ ملک سمیت سب کیساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے ، تاہم وسط ایشیائی ریاستوں کے پاکستان کیساتھ خاص دوستانہ تعلقات ہیں جبکہ تاجکستان اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جن میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں سی پیک کے تناظر میں ترقی کا عمل جاری ہے ، تاجک صدر نے گوادر کے ذریعے تجارت میں دلچسپی ظاہر کی کیونکہ تاجکستان کوتجارت کیلئے پاکستانی بندگاہیں قریب ترین پڑتی ہیں، ترقی کا فائدہ ہم اس وقت اٹھا سکتے ہیں جب دیگر ملکوں کیساتھ تعلقات بہتر ہوں گے ۔ تاجکستان کے صدر افغانستان کے راستے پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں،لیکن افغان صدر نے سہ فریقی کانفرنس میں کہا کہ بھارت کو افغانستان سے براہ راست تجارت کرنیکی سہولت دی جائے، وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے افغان صدر پر واضح کیا کہ یہ پاکستان ،تاجکستان اور افغانستان کا سہ فریقی فورم ہے اور ہمیں اس فورم میں سہ فریقی معاملات کو حل کرنا چاہیے، وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو افغانستان سے تجارتی رسائی دینے کا معاملہ الگ سے ہے اس میں پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ معاملات آڑے آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت کے رویہ کااس بات سے اندازہ کریں کہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں خود چل کر گیا لیکن کشمیر کی صورتحال عیاں ہے جہاں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے 100سے زائدکشمیری لوگوں کو شہید اور200سے زائد کشمیری نوجوانوں کو اندھا کیا جاچکا ہے ایسے حالات میں بھارت کیساتھ کس طرح کاروبار کی بات ہوسکتی ہے ۔ہم کشمیر میں ظلم و ستم کا خاتمہ چاہتے ہیں اس دیرینہ مسلے کے حل کی جانب جانا چاہتے ہیں افغانستان بھارت سے تجارت کا معاملہ سارک سربراہ کانفرنس پراٹھاسکتا تھا اور یہ سارک سربراہ کانفرنس کے ایجنڈا میں موضوع شامل تھا لیکن بھارت اور افغانستان سمیت چارممالک نے اس کانفرنس میں انکار کیا جس کی بنا پر نہ صرف یہ کانفرنس منسوخ ہوگئی ، افغانستان اپنے اس ایشو کیلئے وہ موقع ہاتھ سے گنوا بیٹھا۔ایجنسیوں کے مطابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ مجھ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ٗ پانا ما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے ٗ اچھے فیصلے کی توقع ہے ٗ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا جعلی احتساب ہورہاہے ٗ 2014میں دھرنوں کو دیکھ لیا ٗ لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا ٗ دھرنے والے سازشیں کرتے رہے ہیں ان سے نمٹ لینگے ٗ ہم پر کوئی الزام نہیں ٗ نیت ٹھیک ہے ٗ کوئی خورد برد نہیں کی ۔ ہم پر کوئی الزام نہیں ٗبات صرف اللہ سے ہی کریں گے، ہماری نیت ٹھیک ہے، کوئی خوردبرد نہیں کی، تحقیقاتی عمل سے گزرنا چاہتے ہیں، مظلوم بھی ہم ہیں ٗاحتساب اورحساب بھی ہمارا ہورہا ہے ٗاحتساب کس چیز کا ہورہا ہے؟ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے میں نے کبھی بڑھک نہیں ماری وزیراعظم نے صحافیوں سے سوال کیا کہ قومی خزانے میں کوئی لوٹ کھسوٹ ہوئی؟ کوئی الزام ہی بتا دیں ٗ جے آئی ٹی سے پوچھا ہم پر الزام کیا ہے؟ کوئی جواب نہیں ملا ٗ ہم نے دھرنے والوں سے مذاکرات کی بڑی کوشش کی ٗ ٹی او آر مل کر بنانے پر اتفاق کی کوششیں بھی کیں لیکن ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ گزشتہ سال فیصلے کرسکتے تھے کہ عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لیں پھر طے کیا کہ جو مینڈیٹ ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کی خدمت جاری رکھیں آگے دیکھیں گے کہ کیا راستہ اختیار کر نا ہے ۔ دورہ تاجکستان کامیاب رہا ٗافغان صدر نے تجارتی راہداری کیلئے بھارت کو راستہ دینے کی تجویز دی جس پر ہم نے کہا پہلے پاکستان، تاجکستان اور افغانستان اپنے معاملات بہتربنالیں، بھارت سے متعلق معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورکچھ ہی دنوں میں 100 سیزائد کشمیری شہید کردیئے گئے، ایسے حالات میں بھارت سے کاروبار کی بات کیسے ہوسکتی ہے۔وزیراعظم نے افغانستان کے الزامات کا جوبا دیتے ہوئے کہاکہ ہماری طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہورہی مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوئے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنا چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن سازش کر رہی ہے، مخالفین کے عزائم کچھ اور ہیں، جے آئی ٹی میں بھی سرخرو ہوں گے، بے ضابطگیوں کا کسی کے پاس ثبوت نہیں بتایا جائے ہم نے کون سا قومی سرمایہ لوٹا ہے؟ بے ضابطگیوں کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں، ہمارا کاروبار 1937ء سے چل رہا ہے۔ اپوزیشن ماضی میں بھی سازش کرتی رہی، اب بھی کر رہی ہے۔بھارت سے تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک سے ہمیشہ اچھے تعلقات کی کوشش کی، میں بھارتی وزیر اعظم کی حلف برداری میں شامل ہوا لیکن اب کشمیر میں اتنی قتل و غارت ہو رہی ہے، اب ان سے کیسے بات کریں۔ وزیراعظم نوازشریف نے مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مظلوم نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کرے اور ہم انہیں تجارتی رعایت دیں یہ کسی صورت ممکن نہیں افغانستان کاسامان جاناچاہیے پا انہوں نے بھارت کو تجارتی راہداری میں شامل کرنے کا افغان مطالبہ مسترد کردیا اور کہا کہبھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھائے ہم انہیں تجارتی رعایت دیں یہ ممکن نہیں، انہوں نے کہا ہم خود جے آئی ٹی کے عمل سے گزرنا چاہتے ہیں، جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے دھرنے والوں سے مذاکرات کی بڑی کوشش کی، ٹی او آر مل کر بنانے پر اتفاق کی کوششیں بھی کیں، لیکن ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ ہم نے کون سا قومی سرمایہ لوٹا ہے؟ بے ضابطگیوں کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں، ہمارا کاروبار 1937 سے چل رہا ہے، مظلوم بھی ہم ہیں احتساب اورحساب بھی ہمارا ہورہا ہے، ہمسایہ ممالک سے ہمیشہ اچھے تعلقات کی کوشش کی بھارتی وزیر اعظم کی حلف برداری میں شامل ہوا لیکن اب کشمیر میں اتنی قتل و غارت ہو رہی ہے، اب ان سے کیسے بات کریں۔مجھ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ٗ پانا ما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے ٗ اچھے فیصلے کی توقع ہے ٗ 2014میں دھرنوں کو دیکھ لیا ٗ لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا ٗ دھرنے والے سازشیں کرتے رہے ہیں ان سے نمٹ لینگے ٗ ہم پر کوئی الزام نہیں ٗ نیت ٹھیک ہے ٗ کوئی خورد برد نہیں کیا۔

نواز شریف۔ طیارے میں گفتگو

دوشنبہ (تجزیہ نگار خصوصی) پاکستان ، تاجکستان ، افغانستان اور کرغزستان نے یہاں سربراہی اجلاس میں ہونے والی غیرمعمولی پیش رفت میں اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ کاسا 1000ہر صورت اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل اور اس مقصد کیلئے رکن ممالک اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرینگے ، تاہم اس کانفرنس کے بعد تاجکستان کی خواہش پر تاجکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے اس سمیت افغانستان اور پاکستان کی سہ فریقی کانفرنس افغانستان کی ہٹ دھرمی کے حوالے سے نتیجہ خیز نہیں رہی ، دونوں یکے بعد دیگرے ایک ہی دن منعقد ہونے والی چہار فریقی اور سہ فریقی سربراہ کانفرنس دوشنبہ سے 35کلومیٹر کی مسافت پر پر فضاء پہاڑی مقام پوگس میں ہوئیں ،یہ چارملکی منصوبہ 2018ء تک دو وسطی ایشیائی ریاستوں سے پاکستان اور افغانستان کو 1300میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا۔ وزیرا عظم محمد نواز شریف کے علاوہ تاجک صدر امام علی رحمانوف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم سوران بے جین بیکوف نے کاسا 1000 چہار فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ ان رہنماؤں کا اجلاس دارالحکومت دوشنبے سے 36کلومیٹر دور پہاڑی سیاحتی مقام پوگس میں منعقد ہوا جس میں اس اہم منصوبے پر بات چیت کی گئی جس سے آبی وسائل کے ذریعے صاف ستھری اور ماحول دوست بجلی پیداہو گی ۔رہنماؤں نے مئی 2016ء میں اس منصوبے کا آغاز کیا تھا جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت نے منصوبے کو تیزکرنے کے لئے اقدام اٹھایا اور استنبول میں تاریخی معاہدہ طے پایا۔چار ملکی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو خطے کے لئے ایک اہم منصوبہ قراردیتے ہوئے اس پر جلد عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم نے کاسا 1000 اجلاس کی میزبانی اور شاندار مہمان نوازی پر تاجکستان کے صدر کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارے خطے میں ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو وسطی ایشیاء میں تاجکستان ، کرغزستان اور جنوبی ایشیاء میں افغانستان اور پاکستان کو بجلی کے گرڈ کے ذریعے آپس میں ملائے گا۔ اس کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتتیب ایک ہزار میگاواٹ اور 300میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ رکن ممالک کے لئے اقتصادی ، سماجی اور ماحولیاتی فوائد لائے گا اور توانائی کی قلت دور کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، تجارت میں بہتری آئے گی اورصاف ستھری توانائی کی فراہمی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج میں کمی واقع ہو گی۔ اس سے علاقائی ہم آہنگی میں بھی مدد ملے گی۔ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گاکہ یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ منصوبہ مجوزہ سنٹرل ایشیاء ساؤتھ ایشیاء ریجنل الیکٹریسٹی مارکیٹ کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ یہ توانائی کی کمی کا شکار جنوبی ایشیاء اوروافر توانائی کے حامل وسطی ایشیاء کے درمیان تعاون کے فروغ کی عمدہ مثال ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ کاسا 1000منصوبے سے نہ صرف کرغزستان اور تاجکستان کو محصولات حاصل ہو گے بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی قلت میں بھی کمی واقع ہو گی اور ترقی کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔ یہ وسیع تر کاروباری اور سرمایہ کاری مواقع پیدا کرتے ہوئے افغانستان کے لئے بھی ریونیو کا ذریعہ ہو گا۔ انہوں نے اس امر پر مسر ت کااظہار کیا کہ 16مارچ 2017ء کو دوشنبے میں پاک تاجک مشترکہ ورکنگ گروپ برائے توانائی و بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنیکل کمیٹی کادوسرا اجلاس منعقد ہوا ۔ یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ 11مئی 2017ء کو اے بی بی ، سیمنز، ایلسٹونیٹ جیسے سرکردہ مینوفیکچررز سمیت کنورٹرز سٹیشنز کے لئے 5کمپنیوں نے پیشکشیں دی ہیں ۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ مجھے بتایاگیاہے کہ کرغزستان سے تاجکستان اور تاجکستان سے افغانستان تک ٹرانسمیشن لائنوں کے لئے ٹینڈرز پیش کر دیئے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جارہاہے ۔ مجھے امید ہے کہ ٹرانسمشین لائنوں پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے منصوبے پر جلد عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی اور اپنے صنعتی شعبے کو پوری صلاحیت سے چلانے کے لئے توانائی درکار ہے ۔ اس سے روز گار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی عوام کا معیار زندگی بھی بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ کاسا 1000 منصوبہ تاجکستان اورکرغزستان سے پاکستان اورافغانستان کو بجلی کی ترسیل کا منصوبہ ہے۔توانائی کے شعبے میں اپنی نوعیت کے انفرادی منصوبے کاسا 1000کا آغاز گذشتہ برس ہوا تھا۔کاسا ایک ہزارمنصوبہ دوہزاراٹھارہ میں مکمل ہوگا۔منصوبہ پاکستان کو سستی اورماحول دوست بجلی کی فراہمی کا سبب بنے گا۔کاسا 1000 سے توانائی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی۔منصوبے سے علاقائی روابط کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی۔منصوبے سے روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے اورخطے میں خوشحالی آئے گی۔عالمی بینک نے مارچ 2014میں منصوبے کیلئے 52کروڑ 65لاکھ ڈالرکی گرانٹ اورکریڈٹ فنانسنگ کی منظوری دی تھی،تاہم سہہ فریقی سربراہ کانفرنس تاجکستان کی خصوصی خواہش پر منعقد ہوئی تاکہ تاجسکتان ،افغانستان کے راستے پاکستان کی بندرگاہوں سے ایک تجارتی معاہدہ کے تھت تجارت کرسکے لیکن افغان صدر اشرف غنی نے بھارت کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگرتاجکستان افغانستان کے راستے پاکستان سے تجارت کرنا چاہتا ہے تو پاکستان بھارت کو بھی افغانستان تک براہ راست تجارت کی رسائی دے تاہم پاکستانی قیادت نے افغان موقف سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ بھارت کو تجارتی سہولت دینا ایک الگ سے معاملہ ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ کاسا 1000 منصوبہ پاکستان اور افغانستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس سے تاجکستان کو ریونیو حاصل ہوگا ٗمنصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے ٗ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی ٗمنصوبے کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتیب ایک ہزار میگاواٹ اور 300میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ وزیرا عظم محمد نواز شریف کے علاوہ تاجک صدر امام علی رحمانوف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم سوران بے جین بیکوف نے کاسا 1000 چہار فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ چار ملکی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کاسا 1000 پاور پراجیکٹ کو خطے کے لئے ایک اہم منصوبہ قراردیا اوراس پر جلد عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے ، سماجی و اقتصادی ترقی، توانائی کی قلت دور کرنے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم نے کاسا 1000 اجلاس کی میزبانی اور شاندار مہمان نوازی پر تاجکستان کے صدر کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ یہ ہمارے خطے میں ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جو وسطی ایشیاء میں تاجکستان ، کرغزستان اور جنوبی ایشیاء میں افغانستان اور پاکستان کو بجلی کے گرڈ کے ذریعے آپس میں ملائیگا ٗ اس کی تکمیل سے پاکستان اور افغانستان کو تاجکستان اور کرغزستان سے موسم گرما میں بالترتیب ایک ہزار میگاواٹ اور 300میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ منصوبہ رکن ممالک کے لئے اقتصادی ، سماجی اور ماحولیاتی فوائد لائے گا اور توانائی کی قلت دور کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، تجارت میں بہتری آئے گی اورصاف ستھری توانائی کی فراہمی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج میں کمی واقع ہو گی۔ اس سے علاقائی ہم آہنگی میں بھی مدد ملے گی۔ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گاکہ یہ منصوبہ بروقت مکمل ہو ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ منصوبہ مجوزہ سنٹرل ایشیاء ساؤتھ ایشیاء ریجنل الیکٹریسٹی مارکیٹ کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ یہ توانائی کی کمی کا شکار جنوبی ایشیاء اوروافر توانائی کے حامل وسطی ایشیاء کے درمیان تعاون کے فروغ کی عمدہ مثال ہوگا۔ کاسا 1000منصوبے سے نہ صرف کرغزستان اور تاجکستان کو محصولات حاصل ہو گے بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی قلت میں بھی کمی واقع ہو گی اور ترقی کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔ یہ وسیع تر کاروباری اور سرمایہ کاری مواقع پیدا کرتے ہوئے افغانستان کے لئے بھی ریونیو کا ذریعہ ہو گا۔ انہوں نے اس امر پر مسر ت کااظہار کیا کہ 16مارچ 2017ء کو دوشنبے میں پاک تاجک مشترکہ ورکنگ گروپ برائے توانائی و بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکنیکل کمیٹی کادوسرا اجلاس منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ مجھے بتایاگیاہے کہ کرغزستان سے تاجکستان اور تاجکستان سے افغانستان تک ٹرانسمیشن لائنوں کے لئے ٹینڈرز پیش کر دیئے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جارہاہے ۔ مجھے امید ہے کہ ٹرانسمشین لائنوں پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے منصوبے پر جلد عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی اور اپنے صنعتی شعبے کو پوری صلاحیت سے چلانے کے لئے توانائی درکار ہے ۔ اس سے روز گار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی عوام کا معیار زندگی بھی بلند کرنے میں مدد ملے گی۔

نواز شریف ۔ تاجکستان

مزید : صفحہ اول