امریکی الزامات مسترد، حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروپوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں ، پاکستان

امریکی الزامات مسترد، حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروپوں کی افغانستان میں محفوظ ...

اسلام آباد (آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے حقانی نیٹ ورک کی حمایت کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے قبائلی اور دیگرعلاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں جبکہ حقانی نیٹ ورک اور دہشتگرد گروپ جن میں تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار اور دیگر شامل ہیں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں بھارت کی افغانستان کی موجودگی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے بھارت پاکستان کے اندر دہشتگردی میں ملوث ہے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کو خوش آئند کہتے ہیں ۔ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کی توجہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ مکمل کرکے افغانستان کے دورہ کے دوران امریکی سینیٹر جان مکین کے بیان کی طرف دلائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت کرنے کا الزام ہے، ترجمان نے کہا کہ یہ بیان میڈیا میں آیا ہے جبکہ مکین پاکستان میں آئے تھے تو پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات خطے اور افغانستان کے حوالے سے مثبت رائے کا اظہار کیا تھا پاکستان نے اپنے قبائلی اور دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائیوں میں انہیں تباہ کردیا ہے افغانستان میں امن وامان کے حالات مناسب نہ ہونے کے باعث تحریک طالبان پاکستان حقانی نیٹ ورک جماعت الاحرار اور دیگروپس کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں بھارت کی افغانستان میں موجودگی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ بھارت کی وہاں موجودگی بہت بڑا مسئلہ ہے بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن کی حمایت کے حوالے سے تمام کوششیں اور اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ افغانستان میں امن دونوں ممالک کے حق میں ہے تاجکستان کے دورے کے دوران افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کی دوطرفہ ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ حتمی کچھ نہیں کہہ سکتے ملاقات ہوگی یا نہیں، بھارت کے وزیر دفاع اور ان کی فوجی قیادت کی جانب سے پاکستان میں مبینہ سرجیکل سٹرائیک پر خود متضاد بیانات ہیں بھارت کی روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ سے جنوبی ایشیا کے خطے میں امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں عالمی برادری کو بھارت کے اس جنون کا نوٹس لینا چاہیے ۔کشمیر میں جاری بھارت جارحیت کی مذمت کرتے ہیں کچھ روز کے اندر بھارت نے پندرہ کشمیریوں کو شہید اور 250 کو شدید زخمی کیا ہے۔تین کشمیریوں کوبھارت کی جانب سے جلانے کی رپورٹ آرہی ہیں اس عمل کی تصدیق ہوئی تو اس سے بھارت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی کنونشن کی خلاف ورزی ہوگی جو کہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی انہوں نے عالمی تنظیموں خصوصاً انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس

عمل کا نوٹس لے کر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول