کاغذ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ،تاجروں کی مل مالکان کیخلاف احتجاج کی دھمکی

کاغذ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ،تاجروں کی مل مالکان کیخلاف احتجاج کی دھمکی

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر،کامرس رپورٹر)پیپرملز مالکان کی جانب سے کاغذ کی قیمتوں میں از خود20سے 30 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا، کتابوں اور سٹیشنری کی قیمتوں میں 20فیصداضافہ سے غریب والدین پر مالی بوجھ بڑھ گیا،سول سوسائٹی اور تاجر وں نے پیپر مل مالکان کے خلاف احتجاج کا عندیہ دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق پیپرز مل مالکان نے ہٹ دھرمی اور ملی بھگت سے کاغذ کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر دیا ہے جس سے اردو بازار اور کاغذ انڈسٹری سے وابستہ تاجر طبقے کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے غریب والدین اپنے بچوں کو مہنگے داموں پر کتابیں خرید کر دینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پیپر ملز مالکان نے کاغذ کی فی کلو قیمت میں20سے 30روپے اضافہ کر دیا ،نئی قیمت 92 روپے سے 100روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جس سے 100 روپے کی کتاب پر 20 سے 25 روپے اضافہ ہو گا اردو بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ اتنا مہنگا کاغذ لے کر کتابیں بنانے سے 20فیصد کتابیں مہنگی ہو جاتی ہیں جن کو بیچنے میں ہمیں دشواری ہو رہی ہے۔تاجروں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پیپر مل مالکان نے کاغذ کی قیمتوں میں اضافے کو واپس نہ لیا تو ہڑتال سمیت کاروبار بند کرنے کا آپشن موجود ہے۔دوسری طرف پیپر مل مالکان کی طرف سے کاغذ کی قیمت میں از خود اضافے کی وجہ سے سول سوسائٹی اور غریب والدین نے نہایت غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔غریب والدین کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات بڑی مشکل سے پورے کر رہے ہیں ۔صدر آل پاکستان پیپر مرچنٹس ایسوسی ایشن ناردرن زون باؤ بشیر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپر انڈسٹری مالکان ایک طاقتور مافیا ہے جو کسی بھی سسٹم کا حصہ نہیں اور نہ ہی ان پر چیک اینڈ بیلنس ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپر ملز مالکان سرکاری افسران اور حکومتی نمائندوں کی ملی بھگت سے اربوں روپے سالانہ ناجائز منافع کما رہے ہیں جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -