استعمال شدہ تیل کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں جائیں:لاہور ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن

استعمال شدہ تیل کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے کے فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں ...

لاہور (سٹاف رپورٹر) لاہور ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے ریستورانوں سے استعمال شدہ تیل اکٹھا کرنے کا ٹھیکہ من پسند نجی کمپنی کو دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اس اقدام کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اتھارٹی کا یہ اقدام کھانے پینے سے وابستہ کاروباری اداروں کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ اس بارے میں پاکستان فورم میں گفتگو کرتے ہوئے ایل آر اے کے وائس چیئرمین اور معروف فوڈ چین آپشنز ریسٹورنٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر قیصر رفیق نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بائیوٹیک انرجی نامی نجی کمپنی کو سنگل لائسنس جاری کرتے ہوئے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پنجاب کے تمام ریسٹورنٹس سے استعمال شدہ تیل خریدے۔ اجارہ داری کے باعث کمپنی من مانی کرتے ہوئے استعمال شدہ تیل 30 سے 35 روپے فی لیٹر خریدتی ہے جبکہ مذکورہ ٹھیکے سے قبل کئی کمپنیاں یہی تیل 70 سے 80 روپے فی لیٹر خریدتی رہی ہیں۔ فوڈ اتھارٹی نے بائیو ٹیک سے معاہدہ کرکے تمام ریسٹورنٹس پر یہ پابندی عائد کردی کہ وہ کسی دوسری فرم کو یہ تیل فروخت نہ کریں۔ ڈاکٹر قیصر رفیق کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ تیل خریدنے والی کمپنیاں اور بھی ہیں جو ریسٹورنٹس سے تیل خریدنے کی خواہش مند ہیں لیکن سرکاری پابندی نے ہمارا کاروبار تباہ کردیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب کے ریسٹورنٹس کو ماہانہ 13 سے 14 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ یہ بائیوٹیک کمپنی کا ناجائز منافع بھی ہے جو فوڈ اتھارٹی نے پسند نا پسند کے تحت شروع کروا رکھا ہے۔ ایل آر اے کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کا عملہ لوہے کی ویلڈنگ والی دیسی سلاخ کے ذریعے بڑے بڑے ریسٹورنٹس کے استعمال شدہ تیل کو جانچتا اور ناپتا ہے جو کہ فرسودہ اور جاہلانہ طریقہ ہے دنیا بھر میں تیل جانچنے کا جدید میٹر استعمال ہورہا ہے۔ میرے ریسٹورنٹ پر جب اتھارٹی کی ٹیم آئی تو میں نے انہیں یہ میٹر دکھایا اور کہا کہ آپ ہمارے استعمال شدہ تیل کو مزید استعمال کرنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔ اپنے امریکی میٹر سے تیل کی پیمائش کروائی تو عملہ خود بھی حیران تھا۔ ایل آر اے کے رہنما کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کے خلاف مختلف عدالتوں میں سنگین الزامات کے تحت کیسز چل رہے ہیں جبکہ ہم بھی اس حوالے سے عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تیل خریدنے کی واحد کمپنی کی اجارہ داری ختم کرکے دیگر کپمنیوں کو بھی تیل لینے کی اجازت دی جائے۔ پیمائش کے لئے جدید طریقہ استعمال کرتے ہوئے اتھارٹی یا کمپنی کو میٹر فراہم کئے جائیں۔ جو کمپنیاں تیل خریدیں انہیں مارکیٹ ریٹ کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے اور ادائیگی بھی نقد ہو کیونکہ آجکل اجارہ دار کمپنی ڈیڑھ ڈیڑھ ماہ کا کریڈٹ کررہی ہے جو ہمارے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ ریسٹورنٹس کے حوالے سے باقاعدہ ایس او پیز ہماری مشاورت سے طے کئے جائیں اور فوڈ اتھارٹی کو ہر قدم پر اپنی مرضی کا جرمانہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر فیم گیم ختم کی جائے اور لاہور کے روایتی کھانوں کی خوبصورتی یا فوڈ کلچر تباہ کرنے سے بچانے کیلئے اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو من مانی سے روکنے کیلئے کوئی ایپلیٹ ٹریبونل بھی ہونا چاہئے۔ اس حوالے سے جب پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایل آر اے کے الزامات درست نہیں ہم نے استعمال شدہ تیل کی کھانے پینے کی اشیاء میں دوبارہ استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ کیونکہ اس تیل سے انتڑیوں اور معدے کا کینسر پھیلتا ہے۔ ریسٹورنٹس سے استعمال شدہ تیل خرید کر بعض کمپنیاں نمکو یا مچھلی وغیرہ فرائی کرنے والوں کو فروخت کر دیتی تھیں یہ تیل انسانی صحت کے لئے نہ صرف مضر بلکہ موت کے مترادف ہے۔ ہم نے اخبار میں باقاعدہ اشتہار دے کر تیل خریدنے والی کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کئے تھے صرف شیخوپورہ کی ایک کمپنی بائیوٹیک انرجی نے ٹینڈر فراہم کیا ہم نے ٹھیکہ دیتے وقت ان سے باقاعدہ معاہدہ کیا کہ آپ یہ تیل صرف بائیو ڈیزل بنانے والوں کو فروخت کر سکتے ہیں جو گاڑیوں وغیرہ کے استعمال میں آتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے لاہور ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے میراتھن میٹنگز کیں اور مشاورت ہی نہیں بلکہ اتفاق رائے سے یہ پالیسی بنائی تھی جس کے تحت آجکل معاملات چل رہے ہیں۔ تاہم فوڈ اتھارٹی مزید کمپنیوں کو ٹھیکہ دینے کیلئے جلد ٹینڈر دے رہی ہے جس کے بعد چھوٹا موٹا اعتراض بھی ختم ہوجائیگا۔

مزید : صفحہ آخر