میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث، اعلیٰ افسروں، ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی اور اشتہاریوں کی فائلیں غائب ہونیکا انکشاف

میگا کرپشن سکینڈل میں ملوث، اعلیٰ افسروں، ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی اور ...

لاہور( ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر) انسداد رشوت ستانی ہیڈ کوارٹر نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے صوبائی اداروں کے گریڈ 18تا19سے زائد کے کروڑوں روپے کی میگا کرپشن میں ملوث اعلیٰ افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی اور اشتہاریوں کی فائلیں غائب کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس ضمن میں ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ مک مکا کر کے اربوں روپے کے تر قیاتی فنڈز کی خر د برد کرنے والے کرپٹ افسران کے خلاف چلنے والی انکوائریا ں داخل دفتر کردی گئیں۔وفاق اور پنجاب حکومت کے کئی ایم این ایز، ایم پی ایز ، وزراء سمیت اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران کے ملوث پائے جانے کا امکان ہے۔، سائلین نے وزیر اعلیٰ شکایات سیل اور عدالتوں کا رخ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 2002لے کر 2015تک صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے اضلاع سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، نارووال ، فیصل آباد، شیخوپورہ سمیت لاہور اور دیگر اضلاع میں صوبائی اداروں پنجاب ہائی وے،سی اینڈ ڈبلیو، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ،لوکل گورنمنٹ، ورکس ڈیپارٹمنٹ ، محکمہ ایری گیشن، پنجاب پولیس، ایجوکیشن ، ہیلتھ اور ضلعی حکومتوں کے خلاف اربوں روپے کے سرکاری فنڈز میں کروڑوں روپے خورد برد کئے گئے۔ علاوہ ازیں کئی ٹھیکیدار وں، سابق ایم این ایز، ایم پی ایز ، تحصیل و ضلعی ناظمین کے خلاف اینٹی کرپشن کو تحریری درخواستیں بھجوائی گئیں۔ جن کے خلاف کئی مقدمات بھی درج کئے گئے اور کئی مقدمات کی اجازت طلب کئے جانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب اورچیف سیکرٹری پنجاب کو تحریری اجازت نامے بھجوائے گئے مگر اس وقت کے موجودہ حکمرانوں کے بااثر ایم این ایز، ایم پی ایز وزراء نے اپنے اثرو رسوخ سے کارروائی رکوا دی اور اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران نے سیاسی اثرو رسوخ کے خلاف اختیارات کو استعمال نہ کرتے ہوئے فائلیں داخل دفتر کر دیں اور نہ ہی کوئی کارروائی کی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن بھی اپنی بے بسی میں ایسی فائلیں اوپن نہ کروا سکے۔ بعد ازاں کئی سائلین نے انصاف حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ عدالتوں کا رخ کر لیا ہے۔ زرینہ عباسی نے بھی پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالج راولپنڈی (مری) کے خلاف کارروائی کے لئے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی مگر اس کے باوجود بھی صوبائی حکومت کے اہم رکن کی سفارش پر ڈی جی اینٹی کرپشن کارروائی کرنے کے لئے بے بس ہیں۔ دوسری جانب مرکزی صو بائی حکومت کی طرف سے مقامی ایم این ایز ایم پی ایز کو اربوں روپے کے تر قیاتی فنڈز جاری کئے گئے جس میں پنجاب ہائی وے، سی اینڈ ڈبلیو ،پبلک ہیلتھ انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایس ای، ایکسین،ایس ڈی اوز کی کرپشن کے خلاف انکوائریاں زیر سماعت تھیں ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ٹیکنیکل ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کوارٹر کے سابق و مو جودہ ڈائر یکٹرنے مبینہ طور پر مک مکا کر کے ایک کروڑ کی کرپشن کا ایک ملین وصول کرنے کے انکشا فات سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے جاری اربوں روپے کے تر قیاتی منصو بوں میں کرپشن کا بول بالہ ہے تا ہم اس حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ ہر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔اور کسی کے لئے بھی معا فی کی گنجائش نہ ہے اس حوالے سے موقف دریافت کر نے کے لئے ڈائریکٹرٹیکنکل پنجاب یسین بٹ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کے میں کسی اخبار کو موقف دینے کا پابند نہیں ہوں جو لکھنا ہے لکھ دو۔

مزید : صفحہ آخر