باغ تو سارا جانے ہے!

باغ تو سارا جانے ہے!
باغ تو سارا جانے ہے!

  


مریم نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی اسٹیبلشمنٹ کے پیش پڑ جائے گی، ان کی لمبی تقریر، راولپنڈی اور اسلام آباد سے ان کے حامیوں کے قافلے،اور جے آئی ٹی کے اردگرد عوام کی بڑی تعداد اس بات کا بین ثبوت تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں عوام وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہیں، ان کے بچوں کے ساتھ ہیں، ان کی فیملی کے ساتھ ہیں ....یہ پاکستانی عوام اگر مل کر لاحول ولا پڑھ کر ایک پھونک ماریں تو پانامہ نامی بلا بھاگ جائے گی، میاں صاحب کا پیچھا چھوڑ دے گی!

اب ہر طرف ایک سوال ہے کہ 10جولائی کو کیا ہوگا؟10جولائی کے بعد کیا ہوگا، حالانکہ جو کچھ جے آئی ٹی کے باب میں 10جولائی سے پہلے ہو گیا ہے وہ آج سے ساٹھ باسٹھ دن پیشتر کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، آج جے آئی ٹی شکوک و شبہات سے لدی پھندی کھڑی ہے ، کہیں کہیں تو اس کی کرتوتوں کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں...تبھی تو اس کے سامنے مریم نواز نے یہ سوال کرکے کہ اسے کیوں بلایا گیا ہے ، اپنے آپ کو پاکستان سے نہیں پاکستان سے باہر کی دنیا سے بھی متعارف کروادیا ہے!....انہیں بطور Dependantبلایا گیا، بطورBeneficial Ownerبلایا گیا ہو یا پھر Trusteeکے طور پر، وہ پاکستان کی نئی ملالہ اور نئی بے نظیر بھٹو کے طور پر دنیا سے متعارف ہوئی ہیں....ان کا ٹھوس اور پرعزم لہجہ نواز شریف کو مزید بڑا لیڈر بنادے گااور عوام میں باپ بیٹی کا امیج اور بلند ہو جائے گا۔مریم کو حالات نے کھینچ کر پاکستانی سیاست کے سٹیج کے عین درمیان میں لا کھڑا کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس سازش میں اسٹیبلمشنٹ برابر کی شریک ہے، مریم کے باب میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں حالانکہ عوام کا عام تاثر یہ ہے اسٹیبلشمنٹ کا مقصد وزیر اعظم نواز شریف کے لئے ذلت و رسوائی کا سامان پیدا کرنا تھا۔انہیں ڈان لیکس سے بوجوہ صاف بچ نکلنے کی سزا دینا تھی جسے یقینی بنانے کے لئے پوری شریف فیملی کو 60دن کے اندر دیوار سے لگادیا گیا، سوائے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ اور والدہ کے ....اب شریف فیملی کی مزید کوئی پیشی نہیں ہوگی!

اپنے والد اور بھائیوں کی طرح مریم نواز نے بھی جے آئی ٹی سے پوچھا کہ اسے کیوں بلایا گیا ہے؟.....لیکن یہی بات تو ان سے بھی پوچھی جا سکتی ہے کہ آپ گئی کیوں تھیں ؟.....اور اگر محض یہ پوچھنے گئی تھیں کہ مجھے کیوں بلایا ہے تو یہ بات تو جے آئی ٹی کے نوٹس کے جواب میں ایک چٹھی ڈال کر بھی پوچھی جا سکتی تھی ، اس کے لئے وزیر اعظم ہاؤس سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی تک کا سفر کرنے کا تردد کیوں کیا گیا!غالباً اس کے لئے کہ جے آئی ٹی نے طلبی کے نوٹس میں کہا تھا کہ اگر نہ آئیں تو قانونی کارروائی ہوگی۔

اکیڈمی کے سامنے انہوں نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو جس انداز میں لتاڑا ہے اسے دیکھ کر ہمیں تو پہلی بار سمجھ آیا کہ بے نقط سنانا کس کو کہتے ہیں....صرف نواز شریف ہی نہیں ، انہوں نے بھی اپنی بات کہنے کے بعد ملکی میڈیا کو لفٹ نہیں کروائی اور اپنی کتھا سنا کر ہوا ہو گئیں۔ میڈیا کی ایسی بے توقیری کی اگرچہ شریف فیملی کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے لیکن وہ تب تک ایسا کرتے رہیں گے جب تک عوام ان کے ساتھ ہیں کیونکہ میڈیا کے ایک حصے نے ایک ایسی روش اپنا رکھی ہے جس کے جواب میں وہ اسی سلوک کے مستحق ہیں جو مریم نواز نے ان سے روا رکھا ہے ۔ تاہم اس کے باوجود انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ ایسی چوٹوں کی سہک بہت زمانوں تک رہتی ہے!

ایک عام بحث یہ ہوئی ہے کہ 5جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر مریم نواز نے عملی سیاست کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے حالانکہ انہیں ابھی بہت سے دریا عبور کرنے ہیں جن کے بغیر وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح محض اپنے والد کی سیاسی Legacyپر ہی اتراتی رہیں گی اور خود ان کا ووٹ بینک کبھی نہیں بن سکے گا۔ ایسی ہی ایک صورت حال سے ہمسایہ ملک بھارت میں راہول گاندھی بھی دوچار ہیں کہ ماں باپ کی میدان سیاست میں کمائی ان کے حصے میں آئی تو ہے لیکن وہ اس کلیم سے بڑھ کر ہندوستانی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہوں نے عوام میں اپنے آپ کو ان کے حقوق کا چمپیئن بن کر نہیں دکھایا ہے۔بے نظیر بھٹو کی اپنی سیاست میں اگر دم خم ہوتا تو ان کا کفن میلا ہونے سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کا جنازہ نہ نکلتا!

مریم نواز کو بھی اول تو اپنے ابو جان کی اوٹ سے اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کو کھری کھری نہیں سنانی چاہئے تھیں اور اگر ایسا کرلیا ہے تو اس کا اعادہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے اس کی قیمت ان کے والد کو ادا کرنا پڑے گی۔ اگر ان کے والد نے انہیں ایسا کرنے کو کہا ہے تو انہیں بھی اپنی لڑائی اپنے بچوں کی زبان میں نہیں لڑنی چاہئے ، وہ کون سا پہلی مرتبہ حکومت سے نکالے جا رہے ہیں اور کون سا آخری بار حکومت میں آرہے ہیں؟..

مریم نواز کو ایک کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی قوم کو اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ وہ کھل کر اس معاملے پر بات کریں کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے قبل اس بات کا تعین کیا جائے کہ کون ہے جس نے کٹھ پتلیوں کاکھیل رچایا ہوا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بالکل درست کہا ہے کہ ایک جمہوری حکومت کے خلاف سارش پانامہ سکینڈل سے زیادہ اہم بات ہے، یہ بحث ضرور کسی منطقی نتیجے پر پہنچے گی۔ ایسے میں جو اینکر پرسن اصرار سے پوچھ رہے ہیں کہ حکومت کھل کر بتائے کہ کون سازش کر رہا ہے ، ان کی خدمت میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے

پتہ پتہ، بوٹا بوٹا،حال ہماراجانے ہے

جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے باغ توسارا جانے ہے

مزید : کالم