مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا،علامہ ساجد نقوی

مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا،علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی(جنرل رپورٹر) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا پھکر گلگت میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6 جولائی یوم نفاذ فقہ جعفریہ مسلم سکالروں/محققوں، مجتہدوں اور فقیہوں کی علمی اور تحقیقی کاوشوں سے استفادہ اور تجدید عہد کا دن ہے، آئین پاکستان میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں جس کا اعادہ اس معاہدے میں کیا گیا جو 80کے کنونشن کے نتیجہ میں ہوامگر ایک عرصہ سے آئین کی دفعہ 227کی توجیہ کے تقاضے مسلسل نظر انداز کئے جارہے ہیں، مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا، تمام مکاتب فکر کو ان کے مذہبی،شہری ،آئینی اور بنیادی حقوق نہیں دئیے جا رہے بلکہ ان کی مذہبی، شہری اور بنیادی انسانی آزادیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائدکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ان کی صدائے احتجاج کو روکنے کے لیے ظالمانہ انداز اختیار کئے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ایک بڑا المیہ کا خطرہ موجود ہے اگر غور نہ کیاگیا تو پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوگی، ذمہ داران ماضی سے سبق سیکھیں اور عبرت حاصل کریں جبکہ عوام بھی ملک و قوم کے خلاف ہونیوالی سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں، یوم نفاذ فقہ جعفریہ فرقہ واریت کی نفی اور وحدت کا یوم ہے، افسوس 80کی خالصتاًعوامی ملی جدوجہد کیخلاف کچھ بددیانت لوگوں نے الزام تراشیوں کے تانے بانے بنے اور جھوٹا پراپیگنڈہ کیا ۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ 6 جولائی 1980 کے اسلا م آباد کنونشن میں عوام نے جائز‘ اصولی اور منطقی مطالبہ کیا کہ اسلامائزیشن کے عمل میں تمام مکاتب فکر کے عقائد ونظریات کا احترام اور ان کے شہری و مذہبی حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں مذہبی و شہری آزادیاں دی جائیں۔ اس مقصد کے لیے طاقت و اختیار کے مرکز وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ ہوا جس میں جام شہادت بھی نوش کیاگیا اس احتجاج کے بعد ایک معاہدہ عمل میں آیا جسکی وجہ سے یہ تاریخ ساز دن آئینی‘ قانونی‘ مذہبی اور شہری حقوق کے حصول کی خاطر سنگ میل قرار پایا انہوں نے متوجہ کیا کہ قائد بزرگوار علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی فکر و جدہ جہدسے الہام لیتے ہوئے اپنے آئینی حقوق کے دفاع اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی تاریخ کو دہرایا جاسکتا ہے۔ یہی رویہ اس سے قبل قائد مرحوم علامہ سیدمحمد دہلوی کارہااور یہی انداز اس کے بعد قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کا تھا ۔ انہو ں نے کہا کہ 6 جولائی کادن عوام کے ان جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئین نے تمام مکاتب فکر کو دئیے ہیں۔ یہ دن وحدت امہ کے لیے سنگ میل تھا اور اس دن تمام مسالک اور مکاتب کے درمیان ایک دوسرے کے عقائد ونظریات اور رسوم و عبادات کے احترام کا دائرہ کار واضح اور مشخص کیا گیا ۔ یہ دن قطعاً کسی ایک مسلک کی دوسرے مسلک کے خلاف محاذ آرائی نہیں تھی بلکہ اس وقت اسلا مائزیشن کے جاری عمل میں وسعت نظری اختیار کرنے،آئین کی پابندی کرنے اور تمام فقہوں کو مدنظر رکھ کر سب کے حقوق کی پاسداری کی طرف توجہ دلانا مقصود تھا لیکن بدقسمتی سے ملک کی پالیسی سازی کے مراکز پر حاوی کوتاہ نظروں نے اس طرف توجہ نہ دی اور غلط رپورٹوں کا سہارا لے کر زور آوری اختیار کی ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہاکہ تمام مسالک اور مکاتب کے نظریے اور عقیدے کا خیال نہیں رکھا جارہا، تمام مکاتب فکر کو ان کے مذہبی،شہری ،آئینی اور بنیادی حقوق نہیں دئیے جا رہے بلکہ ان کی مذہبی، شہری اور بنیادی انسانی آزادیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائدکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ان کی صدائے احتجاج کو روکنے کے لیے ظالمانہ انداز اختیار کئے جا رہے ہیں۔ لہذا6 جولائی کے دن ہمیں تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ہم ایک بار پھر نئے حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے حقوق کی جد وجہدتیز کریں گے۔پاکستان اور پاکستانی عوام کو درپیش سنگین خطرات کے ازالے اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے میدان عمل میں آئیں گے اور ملک و عوام کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر