پی ایس 114کا معرکہ آئندہ انتخابات کاٹیسٹ کیس ثابت ہوگا

پی ایس 114کا معرکہ آئندہ انتخابات کاٹیسٹ کیس ثابت ہوگا

(تجزیہ کامران چوہان)

سندھ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس114 کے ضمنی الیکشن کے باعث شہرِقائدمیں سیاسی حدت سوانیزے پرہے۔الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اعلیٰ قیادت ووٹرزکی حمایت حاصل کرنے کیلئے پاورشورکرکے اپنی فتح کو یقینی بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔2013ء کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے عرفان اﷲ مروت کی فتح کالعدم قراردیکراعلیٰ عدالت نے ری الیکشن کاحکم دیاتوسیاسی جماعتیں کمرکس کر میدان میں اترآئیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ ڈے کا اعلان ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں کے امیدواران نے اپنے لاؤلشکر کے ساتھ حلقے میں پڑاؤ ڈالا ہوا ہے۔ PS 114 کی فتح کا تاج اپنے سر سجانے کے لیے صوبے کی حکمران جماعت نے سعید غنی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کامران ٹیسوری، تحریک انصاف نے انجینئر نجیب ہارون، مسلم لیگ (ن) نے علی اکبر گجر جبکہ جماعت اسلامی نے ظہورجدون کو میدان میں اتارا ہے۔پی پی امیدوار سعید غنی حلقے کے پرانے رہائشی ہیں مگر اپنی سینیٹر شپ کے دور میں بھی چنیسرگوٹھ کو قائم منشیات کے اڈوں سے پاک کرانے میں ناکام رہے جبکہ گذشتہ 9سالوں سے انکی جماعت صوبے پر حکمران ہونے کے باجود بھی حلقے کی عوام کے لیے کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام بھی نہیں کرواسکے ۔ صوبائی نشست کے امیدوار نامزد ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سمیت سندھ حکومت بھی کامیابی کے حصول کیلئے سر توڑ کوششیں کررہی ہے۔ PS-114 سابق صوبائی وزیر عرفان اللہ مروت کا حلقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ مگر اس بار انہوں نے الیکشن میں حصہ نہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق عرفان اللہ مروت اور تحریک انصاف کے درمیان طے پایا ہے کہ مروت ضمنی الیکشن میں حمایت کریں گے جبکہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف مروت کے مدِ مقابل امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ الیکشن سے قبل عرفان اللہ مروت کپتان کے قافلے میں شامل ہوجائیں گے۔ اس ساری صورتحال کے بعد اور زمینی حقائق سے PS 114 کی نشست پر تحریک انصاف کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ دوسری جانب حلقے سے 2 بار فتح حاصل کرنے والی متحدہ اپنے نئے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں کامران ٹیسوری کے ذریعے نشست کے حصول کے لئے نبردآزما ہے۔ وفاق کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے علی اکبر گجر کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے سابق یوسی ناظم ظہورجدون الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ظہور جدون نے اپنے دور نظامت میں علاقے میں بہت سے ترقیاتی کام کرائے جس کی وجہ سے ان کو اس حلقے سے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جارہا ہے ۔تاہم دوسری مذہبی جماعتوں ان کی بجائے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت اعلان کیا ہے،جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اب ایم ایم اے کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ PS-114 کے ضمنی الیکشن آئندہ عام انتخابات کا ٹیسٹ کیس سمجھا جارہا ہے۔ اسی سبب تمام سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ قیادت انتخابی مہم میں بھرپور انداز میں شرکت کررہی ہیں۔ PS-114 کی نشست پر سابق رکن صوبائی اسمبلی عرفان اللہ مروت اور سردار رحیم مد مقابل رہے مگر اس بار دونوں رہنما تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں۔ دکھائی یہی دیتا ہے ’’کپتان‘‘ کا کرزما، عرفان اﷲمروت اور سردار رحیم کی حمایت کے سبب تحریک انصاف کا پلڑابھاری ہے ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے آئندہ الیکشن کے متوقع ’’سیاسی منظرنامے ‘‘کے حوالے پی ایس 114کے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل بن چکے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حلقے کی عوام کس جماعت کے امیدوارکواپنانمائندہ چنتے ہیں مگریہاں یہ بات ضرورقابل ذکر ہے کہ یہ حلقہ ایک طویل عرصے سے بلدیاتی مسائل کا گڑھ بناہواتھا انتخابات کی گہماگہمی اورووٹران کواپنی جانب مائل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں نے ریکارڈترقیاتی کام کروائے جس سے حلقے عام لوگوں کی مشکلات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 9جولائی کوجیت کا سہراسجانے والے امیدوارکو چاہیے کہ مستقل بنیادوں پرعلاقے کے مسائل کے حل کیلئے حلقہ میں موجود رہے۔عرفان اللہ مروت کی ماضی میں اس حلقے سے کامیابی کی وجہ بھی ان کا ووٹرز کے ساتھ براہ راست رابطہ تھا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر