سرائیکستان پسند نہیں تو حکمران صوبے کا نام شریف آباد رکھ لیں‘ سرائیکی رہنما

سرائیکستان پسند نہیں تو حکمران صوبے کا نام شریف آباد رکھ لیں‘ سرائیکی رہنما

ملتان(جنرل رپورٹر)صوبے کا نام سرائیکستان پسند نہیں تو ’’ شریف آباد ‘‘ رکھ لیں ، صوبہ بنائیں ‘ سرائیکی صوبے کی جدوجہد میں ہماری تین نسلیں لگ گئیں ‘ حکومت بتائے کہ وسیب کے لوگ کتنا انتظار کریں ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان(بقیہ نمبر48صفحہ12پر )

قومی کونسل کے رہنماؤں پروفیسر شوکت مغل ‘ ملک قادر بخش میتلا‘ مسیح اللہ خان جامپوری ‘ مرزا محمد یامین مغل اور ظہور دھریجہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے وعدوں کا پاس نہیں تو کم از کم ہمارے سفید بالوں کا ہی خیال کرے اور موجودہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے سرائیکی صوبے کا بل پاس کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہر وزیراعظم کو پانچ سال پورے کرنے چاہئیں ، ہمارا سوال ہے کہ یہ بات ان کو سرائیکی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے برطرفی پر کیوں یاد نہ رہی ؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران خود کو معیشت کا چمپئن کہتے ہیں لیکن انہی کے نا اہلی کی وجہ سے روپے کی قدر خوفناک حد تک کم ہو ئی اور ڈالر مہنگا ہونے سے پاکستان کے قرضے تین سو ارب بڑھ گئے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ تین سو ارب ڈالر وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے وصول کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بہاولپور اور ملتان صوبے کے نام سے وسیب کے لوگوں کو لڑانے کی سازش بند کی جائے اور صوبہ سرائیکستان بلا تاخیر بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں کو سرائیکستان پسند نہیں تو وہ صوبے کا نام ’’ شریف آباد ‘‘ رکھ لیں مگر صوبہ تو بنائیں ۔ انہوں نے تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکستان کی بحث کے علاوہ کچھ کاغذی تنظیموں نے سرائیکی تحریک کو بلیک پینٹ کرنے کیلئے اس کے لئے لسانیت کے الزام کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ حالانکہ وسیب کے لوگ ہر طرح کے تعصب ‘ تنگ نظری ‘ فرقہ واریت اور لسانیت کے خلاف ہیں ۔ اس موقع پر ظہور دھریجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سرائیکی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ جماعتوں کا نام لسانی طور پر سرائیکی کی بجائے جغرافیائی طور پر سرائیکستان رکھیں ۔ اگر ہم سرائیکی صوبے کا مطالبہ کریں گے تو یہ لسانی ہوگا اور اس بناء پر صوبوں کے نام پنجابی صوبہ ، سندھی صوبہ ، بلوچی صوبہ ، پشتونی صوبہ وغیرہ رکھنے پڑیں گے جو کہ غلط ہے ‘ اگر جغرافیے پر بات ہوگی تو جس طرح بلوچستان ، بلتستان ، وزیرستان ، ایران ، افغانستان وغیرہ ہیں ، اسی طرح صوبہ سرائیکستان بھی غلط نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سرائیکستان کا لفظ بظاہر منفی نظر آتا ہے لیکن سرائیکی کے مقابلے میں بہت مثبت ہے ۔ میری تجویز پر سب سے پہلے حمید اصغر شاہین نے اپنی جماعت کا نام سرائیکی موومنٹ سے بدل کر سرائیکستان موومنٹ رکھا۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ فتوے دیتے ہیں انہوں نے اردو بازار جیسے خود لسانی نام رکھے ہوئے مگر ہمیں نہ کسی پر اعتراض ہے ارو نہ کسی کی پروااہ ، ہم اپنی جدوجہد شناخت ‘صوبے اور وسیب کے حقوق کے حوالے سے جاری رکھیں گے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر