لڑکی کالی قرار، فروخت، کالے کو جرمانہ نہ دینے پر گورلی مارنے کا پنچایتی حکم

لڑکی کالی قرار، فروخت، کالے کو جرمانہ نہ دینے پر گورلی مارنے کا پنچایتی حکم
لڑکی کالی قرار، فروخت، کالے کو جرمانہ نہ دینے پر گورلی مارنے کا پنچایتی حکم

  

کوٹ چھٹہ (نمائندہ پاکستان )چندماہ قبل تھانہ درخواست جمال خان کی حدود میں بشیراحمد چانڈیہ سکنہ موضع بکھرواہ شرقی نزد حاصل والا سکول کی 15سالہ کنواری بیٹی(ص) کے حاملہ ہو جانے پر والدین نے لڑکی کا آپریشن کروا کے 8ماہ کے ناجائز بچے کو مار دیا اور لڑکی کو کالی قرار دے کر فروخت دیا ۔

کالی کالا کی رسم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وڈیروں فیض محمد ولد نذر محمد چانڈیہ غلام حسین ولد نذر حسینچانڈیہ ،غلام فرید کلیری ،کریم بخش بغلانی عبدالرزاق چانڈیہ ،میوا خان چانڈیہ ودیگر نے پنچائت میں نزدیکی رشتہ دار محمد معاویہ ولد شملہ چانڈیہ کو لڑکی (ص)سے کالا قرار کرکے دیکھتے ہی گولی مارنے کاحکم سنایا ۔ (ص)کو چار لاکھ میں علی شیر کلوئی نے خریدلیا اور اپنے بیٹے سے نکاح کردیا اور پنچائت میں کالے محمد معاویہ کو تین لاکھ روپے چٹی دینے کاحکم سنایا ۔اگر کالے نے چٹی ادا نہ کی تو گولی مارنے کاحکم سنایا گیا ۔

بدنصیب لڑکی 15سالہ(ص) بکھرواہ غربی چاہ ٹھل علی محمد تھانہ درخوست جمال خان کی حدود میں علی شیرکلوئی کے بیٹے کے پاس قید ہے ،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ،اور اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔علاقہ کے لوگوں نے ڈی پی او ڈیرہ سے کاروائی کا مطالبہ کیاہے ایس ایچ او تھانہ درخواست جمال خان عبدالرحمن بھٹی اس وقوعہ سے باخبر ہے ۔

مزید :

جرم و انصاف -