جنات کے زیراثرخاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22

جنات کے زیراثرخاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22
جنات کے زیراثرخاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 22

  


میں نے چاروں طرف نظر دوڑائیں لیکن بلی کہیں بھی نہ تھی۔

’’شاید کھڑکی کھلی رہ گئی ہے‘‘ یہ سوچ کر میں نے کھڑکی کھولنا چاہی پر وہ بند تھی چٹخنی لگی ہوئی تھی۔ میں نے ہلکی آواز سے ایک دوبارہ’’مانو‘‘ کرکے پکارا کہ شاید ہو بیڈ یا ٹیبل کے یچے ہو اور باہر آجائے لیکن بے سود۔ میں دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا تھوری دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا۔ گھر کے لان میں بیٹھا ہوں شام کا وقت ہے کہ اچانک گیٹ سے ایک نہایت حسین عورت داخل ہو کر مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ میں حیرت سے اسے دیکھتا ہوں وہ اس قدر حسین ہوتی ہے کہ میں گنگ اسے دیکھتا رہتا ہوں میرے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ وہ چلتی ہوئی مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر پہنچ جاتی ہے اس کے ہاتھ میں ایک سفید رنگ کا کاغز ہے جسے وہ میری طرف بڑھاتی ہے اس پر کچھ لکھا ہوتا ہے۔ میں تحریر پر نظر دوڑاتا ہوں

’’میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی میرے سجنا!‘‘

جنات کے زیراثرخاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 21 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بس یہی چند الفاظ اس پر لکھے ہوتے ہیں۔ تحریر پڑھ کر میں نظر اوپر اٹھاتا ہوں تو وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اچانک تیز ہوا کا جھونکا آتا ہے اور کاغذ کو میرے ہاتھوں سے اڑا کر لے جاتا ہے میری آنکھ کھل گئی۔ سامنے کارپٹ پر صائمہ نماز پڑھ رہی تھی۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے تین بجے تھے صائمہ تہجد پڑھ رہی تھی۔ میں کروٹ بدل کر دوبارہ سو گیا۔

دوسرے دن میری طبیعت پوری طرح سنبھل گئی۔ میں نے بینک جانا شروع کر دیا۔ زندگی ایک بار پھر معمول پر آگئی۔ کچھ دن مزید گزر گئے کوئی خلاف توقع بات نہ ہوئی تو میں بھی سب کچھ بھلا کر مطمئن ہو گیا۔ ایک ہفتہ واقعی سکون سے گزر گیا کوئی ایسی بات نہ ہوئی جو پریشانی کا باعث بنتی۔ شاید سادھو کی موت کے بعد سارے مسئلے ہی حل ہو گئے تھے۔ اس دوران آتے جاتے ملنگ بھی کہیں نظر نہ آیا۔

ایک دن میں شریف کے والد صاحب کی خدمت میں حاضری دینے گیا انہیں سارے حالات بتائے۔ ان سے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی اور گھر آگیا۔ کھانا کھانے کے بعد صائمہ اور بچے تو سو گئے جبکہ میں بینک سے لائی فائلز دیکھنے لگا۔ بیماری کی وجہ سے کافی سارا کام پینڈنگ تھا جس کی وجہ سے میں اکچر فائلز گھر لے آتا اور دیر تک کام کیا کرتا۔ جب تھکن محسوس ہوئی تو میں نے ایک زور دار انگڑائی لی اور سونے کے لئے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ رات کو مجھے واہی خواب دوبارہ دکھائی دیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار وہ عورت مجھ سے کم فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا تو میں نے سر جھٹک دیا۔ میں خوابوں پر یقین کرنے والا نہ تھا۔ وقت کا دریا اپنے مخصوص انداز میں بہتا ہرا۔ ہم چھٹی والے دن کبھی پروفیسر بیگ کے کبھی عمران کے گھر چلے جاتے۔ کبھی ہمارے گھر پر محفل جمتی انکل بہت بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ اس پر عمران۔۔۔بات کم کرتا لطیفے زیادہ سناتا تھا۔ اس دوران محرم الحرام کی چھٹیاں ہوئی توہم تین دن لاہور گزار کر آئے۔ خوب گھومے پھرے انجوائے کیا۔ واپس آئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ میری ساس اور چھوٹی سالی ناعمہ آگئیں۔ صائمہ اور ناعمہ کی شادی ایک ہی دن ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اسسٹنٹ کمشنر اور ان دنوں وہ رحیم یار خان میں تعینات تھا ۔ صائمہ کے برعکس ناعمہ بہت شوخ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت شرارت ناچتی رہتی۔ ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔ میرے بچوں کے ساتھ اس کا بہت پیار تھا۔ بچے بھی اس کے دیوانے تھے۔ ایک دن ہم سب رات کے کھانے کے بعد بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ناعمہ کہنے لگی۔

’’بھائی جان! آپ کے گھر میں جنات تو نہیں؟‘‘

’’جہاں تم موجود ہو وہاں جنات کی مجال ہے کہ وہ آسکیں؟ یوں بھی جنات چڑیلوں سے ڈرتے ہیں‘‘ میری بات پر سب ہنس پڑے۔ جس پر اس نے گھور کر سب کو دیکھا اور کہنے لگی۔

’’آج صبح میں اوپر والے بیڈ روم میں بیٹھی ناول پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میں نے سوچا باجی آئی ہوں گی مڑ کر دیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن کوئی موجود نہ تھا۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے ہوا سے کھل گیا ہو میں پھر ناول کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک زور دار آواز سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد ایسے آواز آئی جیسے کوئی دروازے کے سامنے ٹہل رہا ہو۔ مجھے ڈر لگا میں جلدی سے نیچے آگئی۔‘‘

میری ساس صائمہ کو کوئی بات سنانے لگیں تو موضوع بدل گیا۔ یوں بھی وہ ناعمہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھیں وہ سارے گھر میں جھوٹی مشہور تھی بات آئی گئی ہوگئی۔ یہ لوگ دو دن مزید رہ کر واپس چلے گئے۔ ایک دن میں حسب معمول میں بینک میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ صائمہ کا فون آیا۔

’’فاروق ! میرا ڈائمنڈ کا سیٹ آپ نے کہیں رکھ دیا ہے؟‘‘

’’نہیں۔۔۔میں نے تو دیکھا ہی نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔

’’میں صبح سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔الماری میں نہیں ہے۔‘‘ صائمہ کی پریشانی سے بھرپور آواز آئی۔

’’اچھی طرح دیکھ لو کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی۔‘‘

’’میں نے ہر جگہ اچھی طرح دیکھ لیا ہے‘‘ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔

’’ایک بار پھر دیکھ لو یہیں کہیں ہوگا۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔

’’اچھا ایک بار پھر دیکھ لیتی ہوں۔‘‘ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔

شام کو میں گھر آیا تو صائمہ پریشان بیٹھی تھی’’نہیں ملا‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔

’’کیا نہیں ملا؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ میں نے دن کو بتایا نہیں تھا کہ میرا ڈائمنڈ کا سیٹ نہیں مل رہا۔‘‘ یہ سیٹ میں نے اسے منہ دکھائی کے طور پر دیا تھا اور اسے جان سے زیادہ عزیز تھا۔

’’لیکن وہ کہاں جا سکتا ہے؟‘‘ میں سیٹ کے لئے فکر مند نہ تھا لیکن صائمہ کی پریشانی مجھے کسی طور گوارا نہ تھی۔

’’فاروق! کہیں۔۔۔‘‘ صائمہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ کہتے ہوئے جھجک رہی تھی۔

’’کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔

’’ایسا ہو تو نہیں سکتا لل۔۔۔لیکن‘‘ پھر وہ خاموش ہوگئی۔

’’کیا بات ہے صائمہ! تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟‘‘

’’کہیں ناعمہ نے تو نہیں لیا‘‘ آخر کار وہ دل کی بات زبان پر لے آئی۔

’’بری بات ہے صائمہ! یوں کسی پر الزام نہیں لگاتے جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا جائے‘‘ میں نے اسے سرزنش کی وہ رونے لگی۔

’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں نے اس کا خیال ہٹانے کی خاطر سوال کیا۔

’’کارٹون دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے شوں شوں کرتے بتایا تبھی میں سوچ رہا تھا کہ وہ گاڑی کی آواز سن کر بھی باہر نہ نکلے تھے۔ میں نے صائمہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔

’’کیوں رو رہی ہو۔ مل جائے گا کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی ہو بھی تم بھلکڑ۔ کافی دیر سے شوہر صاحب آئے آئے ہوئے ہیں لیکن تمہیں چائے بنانا بھی یاد نہ رہا۔‘‘

اس نے سرخ سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھا پھر بنا کچھ کہے کچن کی طرف چلی گئی۔ چائے کی بات میں نے اس لئے کی تھی کہ صائمہ کا رونا مجھ سے دیکھا نہ جا رہا تھا۔ میں جانتا تھامیرا دیا تحفہ اسے کتنا عزیز ہے؟ کچن میں وہ شاید روتی رہی تھی۔ اس کی آنکھیں رونے سے اور حسین ہوگئی تھیں۔

’’ارے جانم! اتنی سی بات پر ہیروں سے زیادہ قیمتی موتی اپنی ان حسین آنکھوں سے لٹا رہی ہو؟ ایسے کئی ڈائمنڈز تم پر قربان، میں تمہیں اور لا دوں گا۔‘‘

اس نے شاکی نظروں سے میری طرف دیکھا۔’’آپ جانتے ہیں مجھے ڈائمنڈز کی پرواہ نہیں وہ تو میرے لئے اس وجہ سے قیمتی تھا کہ آپ نے دیا تھا۔ میرے پاس دوسرا سیٹ جو ممی نے دیا تھا موجود ہے وہ گم ہو جاتا تو مجھے کوئی پرواہ نہ تھی ‘‘ اس نے سسکتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔

’’غم نہ کرو کہتے ہیں نا۔۔۔مال جان کا صدقہ، جان ایمان کا صدقہ۔۔۔تم سلامت رہو چیزیں تو اور مل جائیں گی۔ ‘‘ میری تسلی سے اسے کچھ حوصلہ ہوا۔ دو تین دن تک صائمہ اس سیٹ کا یاد کرکے کئی بار روئی پھر آہستہ آہستہ اس کا غم ہلکا ہوگیا۔ کسی کسی وقت وہ اسے یاد کرکے ایک ٹھنڈی آہ بھر لیتی۔ وقت اپنے مخصوص رفتار سے گزرتا رہا۔ میں پچھلی باتیں بھول چکا تھا۔ اس کے بعد میری محسنہ بلی بھی دکھائی نہ دی تھی۔

دسمبر کا مہینہ تھا سردی اپنے پورے شباب پر تھی۔ شام کو میں بینک سے واپس آیا تو صائمہ حسب معمول ہیٹر جلائے بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی۔ میں باتھ روم سے فریش ہو کر نکلا چائے پینے کے بعد میں کچھ دیر بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ رات کا کھانا بھی ہم نے بیڈ روم میں ہی کھایا۔ بچے بیڈ پر بیٹھے کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ صائمہ ہیٹر کے پاس بیٹھی مومنہ کا سوئیٹر بن رہی تھی۔ اسکے ہاتھ تیزی سے سلائیوں پر چل رہے تھے میں کچھ دیر اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا پھر ناول اٹھا لیا جسے میں نے کئی دن پہلے شروع کیا تھا لیکن مصروفیت کی وجہ سے مکمل نہ کر سکا تھا۔ بچے کچھ دیر تو کھیلتے رہے پھر تھک کر ہمارے پاس ہی کارپٹ پر لیٹ گئے اچانک اون کا گولہ اپنی جگہ سے اچھلا اور سامنے کی دیوار پر جا لگا۔(جاری ہے )

جنات کے زیراثرخاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 23 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا