نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سول و عسکری قیادت کا اجلاس، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کی بھی شرکت

نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سول و عسکری قیادت کا اجلاس، ڈی جی آئی ایس آئی ...
نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سول و عسکری قیادت کا اجلاس، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کی بھی شرکت

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کیے جانے سے قبل پاکستان کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سرجوڑ کر بیٹھ گئی جس دوران ملک بھر میں جاری آپریشنز ،پاک  افغان تعلقات اور امریکی وفد کے دورہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیاگیا، اس اجلاس میں آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی بھی شریک تھے ۔ 

نجی ٹی وی چینل جیونیوزکے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونیوالے اجلاس کی صدارت نواز شریف نے کی جس میں سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی ۔ آرمی چیف کے ہمراہ آنیوالے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کے علاوہ  وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرداخلہ چوہدری نثار اور وزیرقانون زاہد حامد سمیت وفاقی وزرا اور مشیروں‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمود حیات‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل ذکاء اﷲ‘ پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان سمیت مشیر قومی سلامتی جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اس اجلاس کے دوران آپریشن ضرب عضب کے دوران حاصل ہونیوالی کامیابیوں، ردالفساد میں پیش رفت کے علاوہ بیرونی سرحدوں کی سیکیورٹی اور افغانستان کیساتھ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد کے حالیہ دنوں میں پاکستان اور پھر قبائلی علاقے وزیرستان کے  دورہ  پر بھی قیادت کو بریفنگ دی گئی ۔

شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں ، احتساب سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ، ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں،جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا ،یقین ہے آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی‘خطے کا امن کشمیر سمیت تصفیہ طلب امور سے جڑا ہوا ہے‘پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں‘ پاکستان افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کا حامی ہے ۔

خبررساں ایجنسی ’آئی این پی‘ کے مطابق  اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت اسٹاک ایکسچینج سے متعلق امورپرگفتگوکی گئی۔ اجلاس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے وزیراعظم کو ڈالر کی قدر میں اضافے سے متعلق آگاہ کیا جب کہ جے آئی ٹی اور دیگرقانونی معاملات پروزیرقانون زاہد حامد نے بریفنگ دی، اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں اور ضرورت پڑنے پرتمام قانونی و آئینی آپشنز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم کاکہناتھاکہ خطے کا امن کشمیر سمیت تصفیہ طلب امور سے جڑا ہوا ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کا تعاون ضروری ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔ اجلاس میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی قیمت ادا کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی عزم کو سراہا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزید :

قومی -