جاپان میں پاکستانیوں کی حالت زار

جاپان میں پاکستانیوں کی حالت زار
جاپان میں پاکستانیوں کی حالت زار

  

میں ہم جہاں بھی چلے جائیں ہماری پہچان دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک تو پاکستانی اور دوسری مسلمان ۔پاکستان سے زیادہ مسلمان دیکھا پرکھااور تسلیم کیا جاتا ہے۔ائیرپورٹ سے منزل تک آپ کو دیکھا بھی جا رہا ہوتا ہے اور پرکھا بھی،اس سارے سفر کے دوران ایک بات آپ کو باور کروائی جا رہی ہوتی ہے۔بظاہر تو آپ کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتالیکن آپ کی مکمل چیکنگ ہو رہی ہوتی ہے۔یہی بات آپ کو سیدھا رکھنے کے لیے کافی ہے۔

مسلمان جاپان میں بمشکل ایک لاکھ ہوں گے۔ان میں پاکستانی سات ہزار تقریباً ہوں گے۔کمال کی بات یہ ہے ان سات ہزار نے دو سو سے زیادہ مسجدیں اور مدرسے بنائے ہوئے ہیں۔ان مساجد کو جاگیرداری سسٹم کے تحت چلایا اور دیکھا جاتا ہے۔تیری مسجد میرا مرکز تُو صدر میں سیکرٹری،تیرا امام میرا قاری ،تیرے پیچھے ہوتی نہیں میرے پیچھے تو پڑھتا نہیں۔وہاں جا کر ایک گھٹن سی محسوس ہوئی۔دل میں ملال تھا۔ہم اپنا گریبان خود ہی چاک کیے بیٹھے ہیں۔دو سو میں سے اگر سو کے کیس عدالت میں ہوں اور مقامی پولیس اور عدالتیں آپ کو کہیں آپ کا مذہبی معاملہ ہے خود حل کرو۔توآنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔

واقفان حال کے مطابق یہ مساجد مسلمانوں کی نہیں مسلکوں اور جماعتوں کی جاگیریں بن چکی ہیں۔یہ سوال کہ کیا یہ مسئلہ صرف پاکستانیوں میں ہے یا اور بھی مسلمانوں میں موجود ہے۔جی ہاں ، صرف یہ اعزار پاکستانی مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے۔باقی سب اس سے مامون ہیں۔

ایک المیہ ہے کہ لڑائی صرف رب کے گھر پرہی کیوں؟۔جاپان کے وزٹ کے دوران جاپان میں ترکی کلچرل سنٹر کا بھی وزٹ کیا۔نہ وہاں لڑائی نہ جھگڑا نہ پریشانی ،نہ مسئلہ۔اس کے منتظم سے بات ہوئی دل خوش ہو گیا۔ان کے مطابق ہم یہاں مسالک کے نمائندے نہیں اسلام کے سفیر ہیں۔دو دن کے لیے ترکی اسلامک سنٹر کو غیر مسلم جاپانیوں اور دیگر کے لیے کھولا جاتا ہے۔ ڈیرھ سو کے قریب لوگ مسجد کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ ان کے مطابق ماہانہ سات سے آٹھ لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔میری نظر ان دو سو مسلکی جھگڑوں کی آجگاہ بنانے والوں تک پہنچ گئی،جن کے پاس سے گزرتے غیر مسلم ہنستے ہیں۔دیکھو ایک دوسرے کو کافر قرار دینے والے ہمیں کیا اسلام سکھائیں گے۔جی ہاں۔جاپان کے معتدل لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔

کاش ہماراایک اسلامک سنٹرہوتا دو سو مساجد نہ ہوتیں لیکن ہمارا پیغام اسلام دنیا تک خاص کر جاپانی لوگوں تک پہنچتا۔دل میں ملال اور ایک عزم لیے لوٹ آیا ہوں۔کبھی تو کوئی اس درد کو سمجھے گا۔ ہم دنیا میں اسلام اور پاکستان کے نمائندے بن کر فخر سے چل سکیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -